Wednesday, April 16, 2025

Fact Check

Fact Check: کیا عید الاضحیٰ سے پہلے وزیر اعظم مودی نے دیا تھا یہ متنازعہ بیان؟ نہیں، ویڈیو ترمیم شدہ ہے

Written By Mohammed Zakariya, Edited By Chayan Kundu
Sep 9, 2024
banner_image

Claim
وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ میں عید الاضحیٰ کو لےکر دیا تھا متنازعہ بیان۔
Fact
نہیں، وائرل ویڈیو ترمیم شدہ ہے۔

امسال ملک میں عید الاضحیٰ (بقرہ عید) 17 جون کو منائی گئی تھی۔ اس دوران بھارتی وزیر اعظم مودی کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا، جس میں وہ مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے تھے کہ ”کوئی بھی مسلمان فرد سے بقرہ عید کی نماز کے بعد چھیڑخانی نہ کرے اور کہیں یہ نہ ہو کہ وہ مسلمان بکرے کی جگہ اسی شخص کو حلال کردے”۔ یہ ویڈیو اب بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے اور صارفین اسے اب بھی شیئر کر رہے ہیں۔

وائرل ویڈیو میں وزیر اعظم مودی یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ “17 جون کو بقرہ عید ہے۔ مہربانی کرکے کوئی بھی میاں بھائی سے بقرہ عید کی نماز کے بعد چھیڑخانی نہ کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو، میاں بھائی بقرہ عید کی نماز کے بعد بکرے کو حلال کرنے جارہے ہوں اور کوئی ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے اور بکرے کو چھوڑ کر اسے ہی حلال نہ کر دے۔ براہِ کرم پیار و محبت برقرار رکھیں اور میری طرف سے ہندو مسلم بھائیوں کو پیشگی بقرہ عید مبارک ہو۔

وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ میں عید الاضحیٰ کو لے کر متنازعہ بیان دیا تھا۔
Courtesy: IG/md_izhar_edx_09

Fact Check/Verification

نیوز چیکر نے اپنی تحقیقات کے لئے سب سے پہلے وائرل ویڈیو کے ایک کیفریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں 8 فروری 2023 کو دی انڈین ایکسپریس کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کردہ ایک ویڈیو موصول ہوئی، جو اصل میں نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کا تھا۔ ویڈیو میں وزیر اعظم مودی نے لوک سبھا میں 2023 میں کشمیر میں ختم ہوئی راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کو نشانہ بنایا تھا۔

Courtesy: YT/The Indian Express

جب ہم نے اس یوٹیوب ویڈیو کا وائرل ویڈیو سے موازنہ کیا تو ہمیں بہت سی مماثلتیں نظر آئیں، جنہیں آپ درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

تقریباً 4 منٹ طویل اس ویڈیو میں وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ “یہاں جموں و کشمیر پر بھی بات ہوئی ہے۔ جنہوں نے حال ہی میں جموں و کشمیر کا دورہ کیا ہے انہوں نے دیکھا ہوگا کہ کتنے آن بان شان سے جموں و کشمیر گھوم کر آ سکتے ہیں۔ محترم اسپیکر، میں نے بھی گزشتہ صدی کے دوسرے نصف میں جموں و کشمیر کا دورہ کیا تھا اور لال چوک پر ترنگا لہرانے کا عہد کیا تھا۔ تب دہشت گردوں نے پوسٹر لگا کر کہا تھا کہ دیکھتے ہیں کس نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہے اور لال چوک پر آکر ترنگا لہراتا ہے۔

پی ایم مودی نے مزید کہا، “وہ دن 24 جنوری تھا۔ میں نے جموں کے اندر اجتماع سے کہا تھا کہ دہشت گرد کان کھول کر سن لیں کہ میں 26 جنوری کی صبح ٹھیک 11 بجے لال چوک پہنچ جاؤں گا۔ میں بغیر سیکیورٹی، بغیر بلٹ پروف جیکٹ کے آؤں گا اور فیصلہ لال چوک پر ہوگا۔ کس نے اپنی ماں کا دودھ پیا ہے۔

سری نگر کے لال چوک میں ترنگا لہرایا، اس کے بعد میڈیا کے لوگوں نے پوچھنا شروع کیا تو میں نے کہا تھا کہ عام طور پر 15 اگست اور 26 جنوری کو جب بھارتی ترنگا لہرایا جاتا ہے تو بھارتی بارود کی سلامی دیتے ہیں۔ آج جب میں نے لال چوک پر ترنگا لہرایا تو دشمن ملک بارود پھوڑ رہا تھا۔ آج امن آیا ہے، سیاحت کی دنیا میں کئی دہائیوں بعد ریکارڈ ٹوٹے ہیں۔ جموں و کشمیر میں جمہوریت کا جشن منایا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، ہمیں اس ویڈیو کا مکمل ورژن 8 فروری 2023 کو اپلوڈ شدہ دوردرشن نیشنل کے یوٹیوب چینل پر موصول ہوا۔ تقریباً 1 گھنٹہ 40 منٹ کی اس ویڈیو میں ہمیں وہ حصہ تقریباً 1 گھنٹہ 22 منٹ پر ملا، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے اپنی یادیں دہرائیں اور راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا پر طنز کسا تھا۔

Courtesy: YT/DoordarshanNational

اس دوران ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ زیر اعظم نریندر مودی نے اس سال بقرہ عید کے موقع پر ٹوئٹ کرکے مسلمانوں کو مبارکباد پیش کیا تھا اور انہوں نے بقرعید سے متعلق کوئی ویڈیو جاری نہیں کیا تھا۔

Courtesy: X@narendramodi

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو ترمیم شدہ ہے اور اصل ویڈیو میں وزیر اعظم مودی نے بقرہ عید پر نہیں بلکہ لوک سبھا میں راہل گاندھی کے کشمیر دورے کو لے کر ان پر طنز کسا تھا۔

Result: Altered Video

Our Sources
Video by The Indian Express on 8th Feb 2023
Video streamed by DD National on 8th Feb 2023


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

image
اگر آپ کسی دعوے کی جانچ کرنا چاہتے ہیں، رائے دینا چاہتے ہیں یا شکایت درج کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں واٹس ایپ کریں +91-9999499044 یا ہمیں ای میل کریں checkthis@newschecker.in​. آپ بھی ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور فارم بھر سکتے ہیں۔
Newchecker footer logo
Newchecker footer logo
Newchecker footer logo
Newchecker footer logo
About Us

Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check

Contact Us: checkthis@newschecker.in

17,795

Fact checks done

FOLLOW US
imageimageimageimageimageimageimage
cookie

ہماری ویب سائٹ کوکیز استعمال کرتی ہے

ہم کوکیز اور مماثل تکنیکوں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ مواد کو شخصی بنایا جا سکے، اشتہار کو ترتیب دی جا سکے، اور بہتر تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ 'ٹھیک ہے' پر کلک کرکے یا کوکی ترجیحات میں ایک اختیار کو آن کرنے سے، آپ اس پر متفق ہوتے ہیں، جیسا کہ ہماری کوکی پالیسی میں وضاحت کے طور پر ہوا ہے۔