Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check
Contact Us: checkthis@newschecker.in
Fact Check
ایودھیا زمین تنازع معاملہ:آگیا تاریخی فیصلہ۔ پڑھیں سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
ایک سو چونسٹھ سال پرانے معاملے پر سپریم کورٹ نے آخرکار اپنا فیصلہ سنا ہی دیا۔عدالت نے ایودھیا زمین تنازع معاملے میں دونوں ہی فریقین کا خیال رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے۔عدالت نے صاف کہا کہ آستھا اور وشواس کے بنیاد پر مالکانہ حق نہیں دیا جاسکتا۔قانونی آدھار پہ مالکانہ حق کا فیصلہ دیاگیاہے۔چیف جسٹس گوگوئی نے اس تاریخی فیصلے کو سنانے کے لئے آدھے گھنٹے کا وقت لیا۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیر صدارت پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے بابری مسجد۔ رام جنم بھومی تنازعہ معاملہ میں بہ اتفاق رائے فیصلہ پڑھا۔اس کے بعد تاریخی معاملے پر اپنا فیصلہ سنایا۔
سپریم کورٹ نے کیا کہا؟
اے ایس آئی کی رپورٹ میں زمین کے نیچے مندر کے ثبوت ملے۔
متنازعہ زمین رام للا وراجمان کو دی گئی۔
مندر کی تعمیر کے لئے ٹرسٹ بنائی جائے۔
مرکزی حکومت تین مہینے میں منصوبہ بنائے۔
سی جے آئی نے کہا کہ ٹرسٹ تین مہینے میں مندر کا منصوبہ تیار کرے۔
متنازعہ اراضی شری رام جنم بھومی نیاس کو دی جائے گی اور سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی پانچ ایکڑ زمین دی جائے گی۔
اراضی دستیاب کرائے جائے گی۔ گربھ گرہ اور مندر کے احاطے کا باہری حصہ رام جنم بھومی نیاس کو سونپا جائے گا۔
متنازعہ مقام پر رام للا کے جنم کے وافر شواہد ہیں اور ایودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہندوؤں کی آستھا کا معاملہ ہے اور اس پر کوئی تنازع نہیں ہے۔
2.77 ایکڑ متنازعہ زمین پر حکومت کا حق رہے گا۔
آئین کی نظر میں سبھی آستھائیں برابر ہیں۔
عدالت آستھا نہیں ثبوتوں پر فیصلہ دیتی ہے۔
اندرونی حصہ متنازع ہے۔ ہندو فریق نے باہری حصے پر دعویٰ ثابت کیا۔
الہٰ آباد ہائی کورٹ نے جو زمین کو تین حصوں میں تقسیم کا فیصلہ سنایاتھا وہ مدلل نہیں تھا۔
ملک بھر میں فیصلے کو لے کر سخت سکیورٹی کا انتظام کیاگیاہے۔اترپردیش ،راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں دفعہ ایک سوچوالیس نافذکیاجاچکا ہے۔کوئی بھی ناگہانی واقعہ پیش نہ آئے اس لئے تمام اسکولوں کو آج بند کردیا گیاہے۔خود وزیراعظم نریندرمودی نے ملک کی عوام سے کہاہے کہ اس فیصلے کو کسی ہار یا جیت سے تعبیر نہ کیاجائے۔ وہیں مختلف مذہبی رہنماوں نے لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
(اگر آپ ہمارے ریسرچ پر اتفاق نہیں رکھتے ہیں یا آپ کے پاس ایسی کوئی جانکاری ہے جس پر آپ کو شک ہےتو آپ ہمیں نیچے دیگئی ای میل آڈی پر بھیج سکتے ہیں۔
Mohammed Zakariya
April 16, 2025
Mohammed Zakariya
April 15, 2025
Mohammed Zakariya
April 12, 2025