جمعہ, جولائی 19, 2024
جمعہ, جولائی 19, 2024

ہومFact CheckFact Check: کیا بھیانک طوفانی سیلاب کا یہ منظر لیبیا کا ہے؟...

Fact Check: کیا بھیانک طوفانی سیلاب کا یہ منظر لیبیا کا ہے؟ پوری تحقیقات یہاں پڑھیں

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
بھیانک طوفانی سیلاب کا یہ منظر لیبیا کا ہے۔
Fact
ویڈیو پرانی اور جاپان میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کی ہے۔

حالیہ دنوں لیبیا کے کئی شہر سیلاب کی زد میں ہیں۔ 13 ستمبر 2023 کو شائِع شدہ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کی 10 تاریخ کو لیبیا میں ڈینیل طوفان آیا تھا۔ اس طوفان میں سب سے زیادہ مشرقی لیبیا کا درنہ، شحات اور البیضا علاقے کو نقصان ہوا ہے۔ اب تک 20 ہزار سے زائد افراد کی اموات کی اطلاع ہے، جبکہ ہزاروں افراد لاپتہ ہیں۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

اب اسی واقعے سے منسوب کرکے سوشل میڈیا صارفین مختلف ویڈیو اور تصاویر کو فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں 16 سکینڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں سیلابی ملبہ مکانوں اور گاڑیوں کو اپنی زد میں لیتا ہوا نظر آرہا ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو لیبیا میں آنے والے بھیانک طوفانی سیلاب کی ہے۔ بتادوں کہ اس ویڈیو کو ملت ٹائمس اردو نے بھی اپنے ایکس(ٹویٹر) ہینڈل پر بھی لیبیا کا بتاکر شیئر کیا ہے۔

بھیانک طوفانی سیلاب کی یہ ویڈیو لیبیا کی نہیں بلکہ جاپان کی ہے۔
Courtesy: X @ShassaanTv

Fact Check/Verification

لیبیا میں آنے والے بھیانک طوفانی سیلاب کا بتاکر شیئر کی گئی ویڈیو کے ایک فریم کو ہم نے گوگل ین ڈیکس سرچ کیا۔ جہاں ہمیں 3 جولائی 2021 کو دی سن نیوز ویب سائٹ پر ہوبہو ویڈیو کے ساتھ شائع رپورٹ ملی۔ جس کے مطابق یہ ویڈیو جاپان لینڈ سلائیڈنگ کی ہے۔ جہاں کئی مکان اور گاڑیاں تودے میں دب گئے تھے۔ اس حادثے میں 20 افراد کے لاپتہ ہونے اور دو افراد کی موت کا بھی ذکر ہے۔

Courtesy: The Sun

مزید سرچ کے دوران ہمیں 3 جولائی 2021 کو شائع شدہ جاپانی نیوز ایجنسی کیوڈو نیوز کی ویب سائٹ پر ہوبہو ویڈیو اور تصاویر موصول ہوئیں۔ کیوڈو نیوز کے مطابق یہ ویڈیو جاپان کے سیزوکا پریفیکچر میں ہونے والی لینڈ سلائڈنگ کی ہے۔ اب یہ واضح ہو گیا کہ وائرل ویڈیو لیبیا میں آنے والے حالیہ بھیانک طوفانی سیلاب کی نہیں ہے۔

Courtesy: Kyodo News

یہ بھی پڑھیں: گاڑی کے کیمرے میں قید زلزلے کی یہ ویڈیو ترکی کی نہیں جاپان کی ہے

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو کا تعلق لیبیا میں آنے والے حالیہ بھیانک طوفانی سیلاب سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ ویڈیو جولائی 2021 میں جاپان میں ہوئی لینڈ سلائیڈنگ کی ہے۔

Result: False

Sources
Reports published by The Sun and Kyodo News on 3 July 2021


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کرسکتے ہیں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular