پیر, جولائی 22, 2024
پیر, جولائی 22, 2024

ہومFact CheckFact Check: بی جے پی کی خاتون لیڈر نونیت رانا کی یہ...

Fact Check: بی جے پی کی خاتون لیڈر نونیت رانا کی یہ ویڈیو الیکشن نتائج سے پہلے کی ہے

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
الیکشن میں شکست کے بعد بی جے پی لیڈر نونیت رانا بیمار ہوکر اسپتال پہنچ گئیں۔
Fact
بی جے پی کی خاتون لیڈر نونیت رانا کی یہ ویڈیو تقریباً 2 برس پہلے مبئی کے لیلاوتی اسپتال میں علاج کے دوران فلمائی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر بی جے پی کی خاتون لیڈر نونیت رانا کی 25 سکینڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔ جس کے ساتھ ایکس صارف نے کیپشن میں لکھا ہے کہ “بی جے پی کی خاتون ممبر پارلیمنٹ نونیت رانا نے الیکشن کیمپین میں ہندو ٹچ دیا کہ اگر ہندوستان میں رہنا ہے تو جے شری رام کہنا ہوگا، کل الیکشن ہارتے ہی ہسپتال پہنچ گئی”۔

بی جے پی کی خاتون لیڈر نونیت رانا کی یہ ویڈیو تقریباً 2 برس پہلے مبئی کے لیلاوتی اسپتال کی ہے، جہاں وہ زیر علاج تھیں۔
Courtesy: X@ishfaaqshaah

لوک سبھا انتخابات 2024 کے نتائج آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بی جے پی کی خاتون لیڈر نونیت رانا کی نیوز18 کی ایک ویڈیو کلپ شیئر کی جا رہی ہے۔ جس کے پہلے حصے میں وہ یہ کہتی ہوئی سنائی دے رہی ہیں کہ “میں نے جب اس دن پارلیمنٹ میں بولا کہ اس دیش میں رہنا ہے تو جے شری رام کہنا ہے”۔ ویڈیو کے دوسرے حصے میں نونیت رانا کو اسپتال میں ایک شخص بستر مرض سے اٹھاتا ہوا نظر آرہا ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ نونیت رانا الیکشن میں شکست کے بعد اسپتال میں داخل ہوگئی ہیں۔

Courtesy: Facebook/Rekabul Seikh

میڈیا رپورٹ کے مطابق نونیت رانا نے انتخابی مہم کے دوران اے آئی ایم آئی ایم رہنما اکبرالدین اویسی اور اسدالدین اویسی پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ “میں اکبرالدین اویسی سے کہنا چاہتی ہوں کہ تم کو 15منٹ لگیں گے، اگر پولس کو 15سکینڈ کیلئے ہٹادو آپ سمجھ نہیں پاؤگے کہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جائیں گے”۔

Fact Check/Verification

ہم نے سب سے پہلے بی جے پی کی خاتون لیڈر نونیت رانا کی وائرل ویڈیو کے پہلے حصے کے ایک فریم کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں نونیت روی رانا کے آفیشل فیس بک پیج پر ہوبہو ویڈیو ملی۔ جس سے پتا چلا کہ یہ ویڈیو لوک سبھا انتخابات 2024 کے الیکشن مہم کے دوران دئے گئے بیان کی ہے۔

Courtesy: Facebook/navneetkaurranaofficial

پھر ہم نے نونیت رانا کی بستر مرض والی نیوز18 کی ویڈیو کلپ کے ایک فریم کو ریورس امیج سرچ کے ساتھ گوگل پر “نونیت رانا، ہوسپیٹل، نیوز18” کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں نیوز18 کے ‘لوگو’ والی ہوبہو ویڈیو سی این این نیوز18 کے آفیشل یوٹیوب چینل پر موصول ہوئی۔ جسے 5 مئی 2022 کو اپلوڈ کیا گیا تھا۔ یہاں یہ واضح ہوگیا کہ نونیت رانا کی اسپتال والی یہ ویڈیو تقریباً دو سال پرانی ہے۔

Courtesy: YouTube/ CNN News18

انڈیا ٹی وی کی 5 مئی 2022 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت کی آزاد رکن پارلیمنٹ نونیت رانا کو جیل سے رہائی کے بعد ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں علاج کیلئے منتقل کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ بیمار نونیت رانا کا جیل میں علاج نہیں کیا گیا۔ انہیں سر میں تکلیف تھی۔ تلوجہ جیل سے رہا ہونے کے بعد جب ان کے شوہر روی رانا نونیت سے ملنے اسپتال پہنچے تو نونیت انہیں دیکھ کر رو پڑی تھیں۔

Courtesy: India TV

اس ویڈیو کو بی جے پی رہنما نونیت روی رانا کے آفیشل فیس بک پیج نونیت روی رانا پر بھی 5 مئی 2022 کو شیئر کیا گیا تھا۔

Courtesy: Facebook/navneetkaurranaofficial

Conclusion

لہٰذا نیوز چیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ بی جے پی کی خاتون لیڈر نونیت رانا کی یہ ویڈیو تقریباً 2 برس پہلے ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں علاج کے دوران فلمائی گئی تھی۔ حالیہ دنوں سے اس ویڈیو کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

Result: Missing Context

Sources
Facebook post by Navneet Rana Facebook page on 20 Feb 2024
Video published by YouTube channel CNN News18 on 05 May 2022
Report published by India Tv on 05 May 2024
Facebook post by Navneet Rana Facebook page on 05 May 2024


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular