ہفتہ, جولائی 20, 2024
ہفتہ, جولائی 20, 2024

ہومFact CheckFact Check: ریاسی دہشت گردانہ حملے میں فوجی جوانوں کی نہیں بلکہ...

Fact Check: ریاسی دہشت گردانہ حملے میں فوجی جوانوں کی نہیں بلکہ عام لوگوں کی ہوئی اموات

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
جموں و کشمیر کے ریاسی دہشت گردانہ حملے میں فوجی بس میں سوار دس(10) بھارتی فوجی ہلاک۔
Fact
ریاسی میں دہشت گردوں نے ایک مسافر بس پر فائرنگ کی جس کے سبب کم از کم نو شہری ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں مسلح افواج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

سوشل نٹورکنگ سائٹ ایکس پر صارف نے ایک تصویر شیئر کی، جس میں کچھ فوجی ایک بس کا معائنہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ تصویر کے ساتھ صارف کا دعویٰ ہے کہ جموں و کشمیر کے ریاسی میں بھارتی فوجیوں کی بس پر دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی کیپشن میں یہ بھی لکھا ہے کہ “مقامی پولیس نے دس (10) ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے”۔

ریاسی دہشت گردانہ حملے میں فوجی بس میں سوار دس(10) بھارتی فوجی ہلاک
Courtesy: X@ShahzadYunasPTI
Courtesy: Facebook/ Rashid Gill

وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دیکھیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر کے ریاسی میں 9 جون کی شام نامعلوم عسکریت پسندوں نے شیو کھوڑی مندر سے ماتا ویشنو دیوی مندر جا رہی شردھالوؤں سے بھری بس پر حملہ کردیا۔ جس کے سبب 9 شردھال ہلاک ہوگئے، جبکہ 41 افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

Fact Check/Verification

وائرل دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی تصویر کو گوگل لینس پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں 2 جولائی 2014 کو شائع شدہ یورو نیوز کی ویڈیو رپورٹ ملی۔ اس رپورٹ میں بھی اسی تصویر کا استعمال کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق “افغانستان کے کابل میں ایک فوجی بس پر ہوئے خودکش حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 13 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ دھماکہ دارالحکومت کی یونیورسٹی کے قریب شہر کے ایک انتہائی محفوظ علاقے میں ہوا۔ طالبان نے اس حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے”۔

Courtesy:YouTube/ Euron News

مزید سرچ کے دوران اسی تصویر کے ساتھ 2 جولائی 2014 کو شائع بی بی سی کی بھی ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ جس میں وزارت دفاع کے ترجمان جنرل ظاہر عظیمی کے بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ”آج صبح کابل میں اے این اے (افغان نیشنل آرمی) کی فضائیہ کی بس پر ہوئے خودکش حملے میں فوج کے 8 اہلکار شہید اور 13 زخمی ہو گئے”۔

Courtesy: BBC

لہٰذا یہ واضح ہوگیا کہ نہ تو تصویر حالیہ ہے اور نہ ہی اس کا تعلق ہندوستانی فوجیوں پر ہوئے کسی دہشت گردانہ حملے سے ہے۔

ریاسی دہشت گردانہ حملے فوجی گاڑی پر نہیں بلکہ مسافر گاڑی پر کئے گئے

ہم نے گوگل پر “ریاسی” اور “دہشت گردانہ حملہ” کیورڈ سرچ کیا، جہاں ہمیں جموں و کشمیر میں شردھالؤں کو لے جا رہی بس پر ہوئے حملے سے متعلق گزشتہ 24 گھنٹوں میں شائع متعدد میڈیا رپورٹس فراہم ہوئیں۔ جس کے مطابق ریاسی ضلع میں ایک مسافر بس پر دہشت گردوں کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے کم از کم نو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کی وجہ سے ڈرائیور کا گاڑی پر سے کنٹرول ختم ہو گیا اور وہ پونی علاقے کے ٹیریاتھ گاؤں کے قریب ایک کھائی میں جا گری۔

Courtesy: The Hindu

پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق “یہ حملہ اس وقت گھات لگاکر کیا گیا، جب مسافروں کو لے جانے والی بس شیو کھوڑی مندر سے کٹرا میں ماتا ویشنو دیوی مندر کی جانب جا رہی تھی۔ ڈی سی پی ریاسی وشیش پال مہاجن نے بتایا کہ بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر سمیت تمام نو متاثرین کی شناخت ہو گئی ہے”۔

ریاسی ضلع پولس نے بھی سوشل میڈیا پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دہشت گرد حملہ ایک ‘مسافر بس’ پر کیا گیا تھا۔ پولس نے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ “حملے کی وجہ سے، بس کنٹرول کھو بیٹھی اور پونی ریاسی کے کنڈا علاقے کے قریب گہری کھائی میں گر گئی”۔

Courtesy: Facebook/District Police Reasi

ریاسی میں فوج کی کسی گاڑی پر ایسے کسی حملے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ بھارتی فوج سے وابستہ ایکس ہینڈل پر بھی ایسے کسی حملے سے متعلق کوئی معلومات موجود نہیں ہے۔

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کی ایک پرانی تصویر کو جموں و کشمیر میں فوجیوں کو لے جا رہی بس پر ہوئے حملے کا بتا کر شیئر کیا گیا ہے۔ حالانکہ ریاسی میں ہوئے حالیہ دہشت گردانہ حملے میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

Result: False

Sources
YouTube Video By Euronews, Dated July 2, 2014
Report By BBC, Dated July 2, 2014
Report By PTI, Dated June 10, 2024
Facebook Post By @reasipolice, Dated June 9, 2024


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular