جمعرات, جولائی 18, 2024
جمعرات, جولائی 18, 2024

ہومFact CheckFact Check: یوپی حکومت کی جانب سے سرکاری زمین پر غیر قانونی...

Fact Check: یوپی حکومت کی جانب سے سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے پر فرقہ وارانہ دعوے کئے جا رہے ہیں شیئر

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

Claim
اتر پردیش حکومت نے سرکاری زمین پر بنے مندر-مسجد میں سے صرف مسجد کو منہدم کیا ہے۔
Fact
اتر پردیش حکومت کی جانب سے اکبر نگر میں سرکاری زمین پر بنے مسجد اور مندر دونوں کو ہی مسمار کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر مسجد کے انہدام کی ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اتر پردیش کی یوگی حکومت نے سرکاری زمین پر بنے مندروں اور مساجد میں سے صرف مسجد کو منہدم کیا ہے۔

سماجوادی پارٹی کے لیڈر آئی پی سنگھ نے 19 جون 2024 کو مسجد کو منہدم کئے جانے کی تقریباً ایک منٹ کی طویل ویڈیو کے ساتھ ایکس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ہے کہ “اتر پردیش میں یوگی حکومت کی اصل جلن تو مسجد سے ہے جسے دیر رات مسمار کر دیا گیا۔ کاش مٹھ مندروں پر بلڈوزر چلتا جو سرکاری زمینوں پر سڑکوں کو گھیر کر مرکزی سڑکوں پر کھڑے ہیں“۔ ایکس پوسٹ کا آرکائیو یہاں دیکھیں۔

اکبر نگر میں سرکاری زمین پر بنی مسجد اور مندر دونوں کو ہی مسمار کیا گیا ہے۔
Courtesy: X/@IPSinghSp

Fact Check/Verification

وائرل پوسٹ کے کمنٹ سیکشن میں کئی ایکس صارفین نے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ “عوام کو مشتعل نہ کریں، اکبر نگر کی سرکاری زمین پر بنایا گیا مندر بھی منہدم کردیا گیا ہے”۔

Courtesy: X/@iVivekSinghVns

مذکورہ معلومات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے اکبر نگر میں سرکاری اراضی پر بنائے گئے مندر-مسجد کے انہدام کے سلسلے میں گوگل پر چند کیورڈ سرچ کئے۔ نوبھارت ٹائمز کی 19 جون 2024 کو وائرل ویڈیو کے ایک فریم کے ساتھ شائع رپورٹ موصول ہوئی۔ جس میں لکھا ہے کہ لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اکبر نگر میں سرکاری اراضی پر بنی غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے لئے چلائی گئی 9 روزہ مہم میں 24.5 ایکڑ میں بنے تقریباً 1800 غیر قانونی مکانات، دکانیں، کمپلیکس، مندر اور مساجد کو زمین بوس کر دیا گیا۔

Courtesy: Navbharat Times

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں کُکریل ندی کو خوبصورت بنانے کا حکم آنے پر سروے کیا گیا تو پتہ چلا کہ پورا اکبر نگر ندی کی زمین پر تعمیر ہے۔ یہاں کمپلیکس، شو روم، دکانیں، مندر-مسجد اور کافی تعداد میں مکانات تعمیر کئے گئے تھے۔ جس کے بعد ایل ڈی اے نے مسماری کا نوٹس جاری کیا۔ نوٹس کے بعد جب کوئی بھی زمین کے مالیکانہ حق کے دستاویزات پیش نہ کرسکا تو ایل ڈی اے نے مسماری کا حکم جاری کردیا۔

انڈیا ٹی وی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں اکبر نگر سے مندر اور مسجد دونوں کے انہدام کی تصویر دکھائی گئی ہے۔ انڈیا ٹی وی کے آفیشل یوٹیوب چینل پر اپلوڈ شدہ ویڈیو رپورٹ میں مندر اور مسجد دونوں کو منہدم کئے جانے کا منظر بھی دکھایا گیا ہے اور لکھا ہے کہ اس علاقے میں چار مندر، چار مساجد اور ایک مدرسہ مسمار کئے گئے ہیں۔

Courtesy: India TV
Courtesy: India TV

اکبر نگر میں غیر قانونی تعمیرات کے انہدام کے دوران مندر اور مسجد دونوں کو مسمار کئے جانے کی تصدیق کرنے والی دیگر میڈیا رپورٹس یہاں اور یہاں پڑھیں۔

Courtesy: Aaj Tak

اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے ہم نے لکھنؤ سے رپورٹر ستیم مشرا سے بات کی۔ فون پر ہوئی گفتگو میں انہوں نے تصدیق کیا کہ اکبر نگر میں سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے دوران مندر اور مسجد دونوں کو منہدم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دہلی کی مسجد سنگ مرمر کو پولس اور آر ایس ایس نے نہیں کیا شہید، گمراہ کن دعویٰ وائرل

Conclusion

ہم اپنی تحقیقات سے اس نتیجے پر پہنچے کہ اتر پردیش حکومت کی جانب سے اکبر نگر میں سرکاری زمین پر مندروں کو چھوڑ کر صرف مسجد کو مسمار کئے جانے کا دعویٰ گمراہ کن ہے، اس دوران مسجد اور مندر دونوں کو منہدم کیا گیا ہے۔

Result: Partly False

Our Sources
Report published by Aaj Tak on 19th June 2024.
Report published by Navbharat Times on 19th June 2024.
Report published by India TV on 19th June 2024.
Phonic conversation with reporter Satyam Mishra.


نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔

Authors

Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

Most Popular