جمعرات, دسمبر 1, 2022
جمعرات, دسمبر 1, 2022

HomeFact Checkسات سال پرانی تصویر کو مذہبی رنگ دےکر کیوں کیا جارہا ہے...

سات سال پرانی تصویر کو مذہبی رنگ دےکر کیوں کیا جارہا ہے شیئر؟وائرل دعوے کا پڑھیئے سچ

دعویٰ

سوچیئے اس طرح کی بھیڑ آپ کے علاقے سوسائٹی یا کالونی میں ٹھیک اسی حالت میں پہنچ جائے تو آپ کے پاس ان کا سامنا کرنے کا انتظامات ہے یا نہیں؟یہ جو دیکھ رہے ہیں تصویر کیرلہ کی ہے۔

تصدیق

ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف آرایس ایس اور بی جے پی کے لوگ طرح طرح کا پروپیگینڈا کر رہے ہیں۔مسلمانوں کے حوالے سے بیشتر گمراہ کن اور فرضی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر کے عوام سوشل میڈیا پر مسلمانوں کی بھیڑ والی ایک تصویر فیس بک،ٹویٹر اور واہٹس ایپ پر کئی یوزرس نے شیئر کیا ہے۔دعویٰ کیاجارہا ہے کہ وائرل تصویر کیرلہ کی ہے۔ساتھ ہی کیپشن میں دو قوموں کے درمیان تشدد بھڑکانے والی باتیں بھی لکھی ہوئی ہے۔فرضی دعوے کے اسکرین شارٹ اور آرکائیو درج ذیل ہے۔

ہندو آر کے پرجاپتی نامی فیس بک پیج پر مذکورہ دعوے کے ساتھ تصویر کو شیئر کیا گیا ہے۔آرکائیو لنک۔

ٹویٹر پر جے شری رام ستیہ سیف نامی یوزر نے مذکورہ تصویر کو فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

ہماری تحقیق

وائرل تصویر کی حقائق تک پہنچنے کےلیے سب سے پہلے ہم نے تصویر کو ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں اسکرین پر کچھ پرانے پوسٹ ملے۔جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

اسکرین شارٹ سے واضح ہوچکا کہ وائرل تصویر پرانی ہے۔پھر ہم نے اس حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں الفضل انٹرنیشنل نامی اردو نیوز ویب سائٹ پر وائرل تصویر کے حوالے سے ایک خبر ملی۔جس کے مطابق بنگلہ دیش میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے پُر امن اور مثالی شہریوں کی املاک پر شر پسندوں نے حملہ کردیا تھا۔واضح رہے کہ یہ خبر چھ اپریل دوہزار انیس کی ہے۔وہیں سرچ کے دوران تسلیمہ نصرین کا پچیس اکتوبر دوہزار انیس کا ایک ٹویٹ ملا۔جس میں انہوں نے مذکورہ تصویر کو بنگلہ دیش کا بتایا ہے۔

مذکورہ خبر سے واضح ہوچکا ہے کہ وائرل تصویر کا ہندوستان کے کیرلہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔اس کے باوجود ہمیں تسلی نہیں ملی تو ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران بی بی سی اردو کے نیوز ویب سائٹ پر احمدیہ جماعت کے سلسلے میں خبر ملی۔لیکن واضح نہیں ہوسکا کہ اصل مسئلہ ہے کیا۔پھر ہم نے انگلش میں کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں بی بی سی انلگش کے ویب سائٹ پر ایک خبر چھ مئی دوہزارتیرہ کی ملی۔جس کے مطابق بنگلہ دیش میں دوجماعت کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔جس میں ستائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یہ احتجاج حفاظت اسلام تنطیم کے لوگوں نے کیا تھا۔جس میں پولس نے احجتاجیوں کو روکنے کےلیے ٹیئر گیس کا استعمال کیا تھا۔جس میں دوپولس والے بھی جاں بحق ہوگئے تھے۔احتجاجیوں نےقرآن کی دوکانیں بھی جلا دی تھی۔اب یہ صاف ہوچکا کہ وائرل تصویر بنگلہ دیش کی ہی ہے۔

ان سبھی تحقیقات سے تسلی نہیں ملی تو ایک بار پھر ٹویٹر ایڈوانس سرچ کا سہارا لیا۔جہاں ہمیں بنگلہ دیش ہیبر نامی ٹویٹرہینڈل پر پانچ مئی دوہزارتیرہ کا ایک ٹویٹ ملا۔جس میں وائرل تصویر کو شیئر کیاگیاہے۔تصویر کے اوپر غیر ملکی زبان میں کچھ لکھا ہوا ملا۔گوگل ٹرانسلیٹ کرنے پر پتا چلا کہ ترکی زبان ہے۔لیکن اس میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی ہے۔جس سے تشدد کا اندیشہ ہو۔

نیوزچیکر کی تحۡقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر تقریباًسات سال پرانی ہے اور اس تصویر کا بھارت سے کوئی لینادینا نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی ہے۔

ٹولس کا استعمال

ریورس امیج سرچ

گوگل کیورڈسرچ

فیس بک /ٹویٹر ایڈیوانس سرچ

نتائج:فرضی دعویٰ

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular