بدھ, اگست 4, 2021
بدھ, اگست 4, 2021
HomeFact Checksمولانا عبداللہ سلیم چترویدی کے ویڈیو کو کسان آندولن سے جوڑ...

مولانا عبداللہ سلیم چترویدی کے ویڈیو کو کسان آندولن سے جوڑ کرسوشل میڈیا پر کیوں کیا جارہاہے شیئر؟پڑھیئے وائرل دعوے کا سچ

سندیپ سنگھ نامی ٹویٹر یوزر نے ایک مولانا کا1 منٹ 13سیکینڈ کا ویڈیو شیئر کیا ہے۔جس کے کیپشن میں لکھا ہے کہ مولانا بتارہے ہیں کہ سڑک پر احتجاج کرنا کیوں ضروری ہے؟کیونکہ یہ بھارت کی معاشیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔اس ویڈیو کو” #کسان ورسیز -بھارت-سرکار-مخالف “کے ساتھ شیئر کیاگیاہے۔بتادوں کہ اس ویڈیو کو سندیپ نے 30جنوری 2021 کو شیئر کیا تھا۔جسےہمارے آرٹیکل لکھنے تک 72 ری ٹویٹ کیا جاچکاہے۔

سندیپ کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

اس کے علاوہ دیگر کئی ٹویٹر ہینڈل نے بھی مذکورہ دعوے کے ساتھ ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔جو یک بعد دیگرے درج ذیل ہیں۔

Fact Check/Verification

دہلی سے متصل سرحدوں پر کسان زرعی قانون کولےکر احتجاج کررہے ہیں۔کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت تین نئے زرعی قوانین کو واپس لے۔اسی کے پیش نظر کسان کئی بار چکاجام اور بھارت بند کا کال دے چکے ہیں۔

وائرل ویڈیو کے حوالے سے ہم نے ٹویٹر ایڈوانس سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں پولیٹکل کیڑا اور سنی ایم نامی ٹویٹر ہینڈل پر 25فروری 2020 کو شیئر کیاگیا وائرویڈیو ملا۔جس میں سی اے اے اوراین آرسی ہیش ٹیگ کا استعمال ہوا ہے۔اس سے پتا چلا کہ وائر ل ویڈیو تقریباً ایک سال پرانہ ہے۔جسے کسان آندولن سے جوڑ کر شیئر کیاجارہاہے۔

سرچ کے دوران ہمیں اوپ انڈیا(Opindia) اور دی یوتھ(TheYouth) پر وائرل ویڈیو کے حوالے سے 25فروری 2020 کا ایک رپوٹ ملا۔جس میں ہمیں پتاچلا کہ ویڈیو میں احتجاج کے حوالےسے تقریر کررہا شخص مولانا عبداللہ سلیم چترویدی ہیں۔بتادوں کہ اس وقت ہندوستان کا ایک طبقہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔تبھی انہوں نے احتجاج کے فوائد کو لےکر ایک تقریر میں احتجاج کی وجہ سے اقتصادیات پر ہونے والے نقصانات کا ذکر کیاتھا۔

پھر ہم نے ویڈیو کو یوٹیوب پر مولانا عبداللہ چترویدی کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں میسج میڈیا نامی یوٹیوب چینل پر 46منٹ 12 سیکینڈ کا ایک ویڈیو ملا۔پورے ویڈیو کو جب ہم نے غور سے سنا تو مولانا شہریت ترمیمی بل کو لے کر عوام کو جانکاری دےہے ہیں۔

39منٹ11سیکینڈ کے بعد مولانا بتارہے ہیں کہ “جب ہم سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں تو بھارتیہ شیئر مارکیٹ میں جو غیرملکی کمپنیاں پیسا لگا رہی ہوتی ہیں وہ روک دیتی ہیں۔

سبھی تحقیقات کے باوجود ہم نے وائرل ویڈیو کے تعلق سے مولاناعبداللہ سلیم سے فون کال پر بات کی۔جہاں انہوں نے اس ویڈیو کے بارے میں بتایا کہ یہ پرانہ بیان ہے۔بتادوں کہ مولانا MIMپارٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتاہے کہ وائرل ویڈیو کا کسان آندولن سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔مولانا عبداللہ سلیم شہریت ترمیمی بل کے خلاف ہورہے احتجاج کو لے کر عوام کے سامنے احتجتاج کی وجہ سے ہونے والے نقصانات بتا رہے تھے۔

Result:Misleading

Sources

Opindia:https://www.opindia.com/2020/02/maulana-speech-viral-video-protests-streets-cripple-economy/

Theyouth:https://www.theyouth.in/2020/03/02/maulana-urges-muslims-to-keep-on-the-protest-and-destroy-indian-economy/

YouTube:https://www.youtube.com/watch?v=-wpjoCA8grE&t=2353s

Phone Call Verification

وٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular