جمعرات, جولائی 29, 2021
جمعرات, جولائی 29, 2021
HomeFact ChecksWeekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 5 اہم تحقیقات پڑھیں

Weekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی 5 اہم تحقیقات پڑھیں

اس ہفتے کی 5 وائرل پوسٹ کی تحقیقات محض پانچ منٹ میں یک بعد دیگرے سلائڈ میں پڑھیں۔ جو اس ہفتے سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا ہے۔

کیا انڈونیشیاء میں ایک حافظ قرآن کو دفنانے کے بعد اس کی قبر روشنی سے پُر ہوگئی؟

سوشل میڈیا پر کچھ یوزرس کا دعویٰ ہے کہ انڈونیشیاء میں ایک حافظ قرآن کو جب قبرمیں اتارا تو قبر نور سے بھرگئی۔ جبکہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔یہ تصویر تقریبا5 سال پرانی ہے۔ جسے گمراہ کن دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جارہا ہے۔

پوری پڑتال یہاں پڑھیں۔

کیا دبئی کی مسجد میں مسلم خواتین نے پیش کیا رام بھجن؟

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو خوب گردش کررہا ہے۔جس میں مرد و خواتین مائک سے کچھ سنسکرت میں گارہی ہے۔یوزر کا دعویٰ یے کہ دبئی کی ایک مسجد میں مسلم خواتین رام بھجن گا رہی ہے۔ جبکہ یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔یہ ویڈیو آٹھ سال پرانا ہے اور اس کا دبئی کی مسجد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں

امت شاہ کے ساتھ بیٹھے ایم آئی ایم لیڈر اسدالدین اویسی کی یہ تصویر ترمیم شدہ ہے

اس ہفتے سوشل میڈیا پرایم آئی ایم لیڈر اسدالدین اویسی اور اکبرالدین اویسی کے ساتھ بیٹھے امت شاہ کی تصویر خوب وائرل ہوا۔ جسے مختلف دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ جبکہ یہ تصویر ایڈیٹ شدہ ہے۔ دو مختف تصاویر کو ایک ساتھ کسی سافٹ ویئر کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔

پوری تحقیقات یہاں پڑھیں

کیا اے آئی یو ڈی ایف کے صدر بدرالدین اجمل نے دیا متنازعہ بیان؟

اس ہفتے اے آئی یو ڈی ایف کے صدر بدرالدین اجمل کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب شیئر کیاگیا۔جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اجمل بھارت کو اسلامی ملک بنانے کی بات کہہ رہے ہیں۔ جبکہ تحقیقات سے پتاچلا کہ ویڈیو کے کچھ حصے کو ایڈیٹ کرکے فرضی دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا؟

یہاں پڑھیں پوری تحقیقات

کیا آر ایس ایس پر آسٹریلیا نے عائد کردی ہے پابندی؟

فیس بک پر ایک ویڈیو میں مولانا کہہ رہے ہیں کہ آسٹریلیا میں آرایس ایس اور وی ایچ پی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔جبکہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔آسٹریلین سرکار کسی بھی ہندو تنظیم پر پابندی عائد نہیں کی ہے۔

پوری پڑتال یہاں پڑھیں

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular