بدھ, اکتوبر 27, 2021
بدھ, اکتوبر 27, 2021
HomeUrduفیروز شاہ کوٹلہ مسجد کو کیو بتایا جارہاہے بابری مسجد؟پڑھیئے ہماری تحقیق

فیروز شاہ کوٹلہ مسجد کو کیو بتایا جارہاہے بابری مسجد؟پڑھیئے ہماری تحقیق

 

دعویٰ

بابری مسجد کی لہو لہو سرزمین پر فرزندان توحید کی جانب سےاداکی گئی آخری نماز کے دومناظر۔اب شاید کبھی بھی یہاں پر تکبیر کی صدائیں نہ گونجیں۔

اناللہ وانا الیہ راجعوناے میرے اللہ ہماری مسجد 

 

تصدیق

بابری مسجد اور رام جنم بھومی  تنازع پر فیصلہ آنے کے بعد کوئی فرقہ خوش ہے تو کوئی رنجیدہ۔ دونوں فرقوں کے لوگ مختلف انداز میں اپنے سوشل میڈیا ہیڈل پر عجیب و غریب پوسٹ شیئر کررہے ہیں۔ایسے ہی کچھ پوسٹ بابری مسجد کے تعلق سے کیاجا رہاہے۔کچھ تصویروں کو فیس بک، ٹویٹر و دیگر سوشل میڈیا پر شیئر کیاجارہاہے اور اس پر دعویٰ کیا جارہاہے کہ یہ بابری مسجد ہے۔ جس میں فرزندان توحید آخری بار نماز ادا کررہے ہیں۔اب شاید کبھی بھی یہاں تکبیر کی صدائیں نہیں گونجیں گی۔ اس طرح کے دعوے کئے گئے ہیں۔

 

 

 

 

ان تصویروں کو دیکھنے اور اس کے ساتھ کئے گئے پوسٹ کو پڑھنےکے بعد ہم اپنا ریسرچ شروع کیے۔اس دوران ہم نے اویسم اسکرین شورٹ کی مدد لی۔پھرکچھ کیورڈ کی مدد سے گوگل سرچ امیج کیا۔جہاں ہمیں الجزیرہ کے عربی  ویب سائٹ پر یہ تصویر ملی۔”اتهام قادة هندوس بتدمير مسجد بابريجس کا ترجمہ ہے کہ ہندورہنماؤں پر بابری مسجد کوتباہ کرنے کا الزام ہے۔

 

 

 ان تحقیقات کو جاری رکھتے ہوئے ہم نے مزید تفتیش شروع کی۔ پھر ہم نے یوٹیوب سرچ کیا۔جہاں ہمیں وہی تصویر ویڈیو کی شکل میں یوٹیوب پر ملا۔جس میں ایک خاتون جوکہ مائنوریٹیز نیوز چینل کابوم لئے فیروز شاہ کوٹلہ کےبارے میں رپورٹںگ کررہی ہے۔اس کے علاوہ دیگر ویڈیو میں پوری تصویر وغیرہ ہے۔

 

 

 

ان تحقیقات سے پتا چل گیا کہ یہ تصویر بابری مسجد کی نہیں بلکہ فیروز شاہ کوٹلہ کی ہے۔تب ہم نے سوچا کیوں نہ کھوج کی جائے کہ یہ تصویر کب کی ہےاور کس موقع پر شیئر کیا گیاہے۔تب ہمیں بابری مسجد سے منسوب وائرل تصویر اِن ڈاٹ کام پر ملی۔جس میں لکھا ہے کہ یہ تصویر دوہزار گیارہ کی ہے۔جسے عیدالاضحیٰ کے موقع پر شیئر کیا گیاہے۔

 

ان تحقیقات سے دل نہیں بھراتو ہم نے مزید باریکی سے وائرل تصویر کی تحقیق شروع کی۔اس دوران ہمیں یہی تصویر ایپ ٹاپِکس  پر ملی۔جس میں یہ پتاچلا کہ یہ تصویر دوہزار آٹھ کی ہے۔جوکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پرنمازیوں کی تصویر کیمرے میں قید کی گئی ہے۔ 

 

ہماری تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل پوسٹ کے ساتھ شیئر کی گئی تصویر بابری مسجد کی نہیں بلکہ فیروز شاہ کوٹلہ دہلی کی ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اس طرح کے پوسٹ کئے گئے ہیں۔

 

 

ٹولس کا استعال

گوگل کیورڈ سرچ

ٹویٹر ایڈوانس سرچ

یوٹیوب سرچ

گوگل اویسم سرچ                                   

نتائج :جھوٹی خبر

 نوٹ:۔ اگر آپ ہمارے ریسرچ پر اتفاق نہیں رکھتے ہیں یا آپ کے پاس ایسی کوئی جانکاری ہے جس پر آپ کو شک ہےتو آپ ہمیں نیچے دیگئی ای میل آڈی پر بھیج سکتے ہیں۔

checkthis@newschecker.in

Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular