ہفتہ, دسمبر 10, 2022
ہفتہ, دسمبر 10, 2022

HomeUrduنیٹ فلکس سے لی گئی تصویر کو کشمیری طلبہ سے جوڑکر کیوں...

نیٹ فلکس سے لی گئی تصویر کو کشمیری طلبہ سے جوڑکر کیوں کیا جارہاہے وائرل؟پڑھیئے ہماری پڑتال۔۔۔

دعویٰ

جموں کشمیر کے اننت ناگ میں ایک نوجوان پر فوج نے پیلٹ گَن سے حملہ کیا۔جس بعد اسے مقامی اسپتال میں علاج کے لئے داخل کروایاگیا۔حملے کے دوران نوجوان کی بائیں آنکھ کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

انسانیت کہاں ہے؟کہاں ہے اقوام متحدہ؟

تصدیق

جب سے کمشیرمیں دفعہ تین سو ستر ہٹایا گیاہے۔تب سے سوشل میڈیا پر لگاتار کچھ نہ کچھ کشمیر کے تعلق سے غلط افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔اسی کے پیش نظر ایک یوزر نے ٹویٹر پر ایک تصویر شیئر کیاہے۔جس میں دعویٰ کیا ہے کہ زخمی نوجوان کشمیر کے اننت ناگ کا ہے۔جس پر ہندوستانی فوج نے پیلٹ گَن سے شدید زخمی کردیا ہے۔اس حملےمیں نوجوان کی ایک آنکھ کو کافی گہری چوٹ پہونچی ہے۔اس ٹویٹ کو سیکڑو افراد نے شیئراور لائک کیاہے۔

تصویراور پوسٹ کو پڑھنے کےبعد ہم نے اپنی تحقیق شروع کی۔پھر ہم نے ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں شروعاتی جانچ میں پتا چلا کہ یہ تصویر کسی ہالی ووڈ فلم ادار کار کی ہے۔

ریورس امیج سرچ میں جو جانکاری ملی تھی۔اسی بناپر ہم نے اپنی مزید پڑتال جاری رکھتے ہوئے گوگل کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں “آجی این” نامی ویب سائٹ پروائرل تصویر کے ساتھ شائع ایک خبر ملی۔جس میں لکھا ہے کہ نیٹ فلیکس کی فلم “بریکنگ بیڈ” کے ٹریلر سے یہ تصویر لی گئی ہے۔جس میں ایرون پال نامی شخص نے بطور اداکار کام کیا ہے۔

ان سب جانکاری کے باوجود ہم نے اس بارے میں مزید ریسرچ کیا۔تب ہمیں فلپ بورڈ نامی ویب سائٹ پریہی تصویر ملی۔یہاں بھی یہی لکھا ملا کہ یہ ایرون پال ہے۔جوکہ بریکنگ بیڈ نامی فلم میں کام کیاہے۔ان سب کے باوجود ہم نے گوگل پر ایرون پال کے بارے میں سرچ کیا۔جہاں ہمیں ڈیلی میل نامی ویب سائٹ پر شائع ایک خبر ملی۔جس میں ایرون پال کے تعلق سے جانکاری موجودہے۔۔

تمام تر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر کشمیری نوجوان کی نہیں ہے۔بلکہ ہالی ووڈ اداکار ایرون پال کی ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اسطرح کی تصویر کو وائرل کیاجارہاہے۔

 

ٹولس کا استعمال

گوگل سرچ

گوگل کیورڈ سرچ

نتائج:جھوٹی خبر

نوٹ:کسی بھی مشتبہ برکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے ای میل پر ارسال کریں[email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular