پیر, اکتوبر 25, 2021
پیر, اکتوبر 25, 2021
HomeUrduپاکستانی فوج پاکستانی باشندوں پر کررہی ہے ظلم وستم؟ سچ ہےیا افواہ؟...

پاکستانی فوج پاکستانی باشندوں پر کررہی ہے ظلم وستم؟ سچ ہےیا افواہ؟ پڑھیئے ہماری تحقیق

 

Claim:

Meet the Pakistan Army and its victim Pakistanis.

دعویٰ

ترجمہ:۔پاکستانی فوج کودیکھیں جو اپنی ہی ملک کے باشندوں پر ظلم وستم کررہی ہے۔

 

 

تصدیق

پاکستان سےتعلق رکھنے والے معروف صحافی طارق فتح نے ایک ویڈیو شیئر کیاہے۔جس کے ذیعے وہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستانی فوج کس طرح اپنے ہی ملک کی عوام کے ساتھ ظلم ستم کرتی ہے۔اس ویڈیو کو ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شیئر اور لائک  کیا ہے۔صحافی طارق فتح کے علاوہ ایک اور یوزر نے محض پاکستان کیپشن کے ساتھ شیئر کیاہے۔  

 

طارق فتح و دیگر یوزر کی جانب سے کئے گئے ٹویٹ

 

 

 

 

 

ہماری تحقیق

ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہا۔جسے دیکھنے کے بعد ہم نے سوچا کیوں نہ اس کی حقیقت جانی جائے۔پھر ہم نے اپنی تحقیق شروع کی۔شروعاتی مرحلے میں ہم نے سب سے پہلے ٹولس کی مدد سے ویڈیو کے “کی فریم”نکالے۔پھر ہم نے انگریزی میں “پاک آرمی بیٹنگ بلوچستان پیوپل” کیورڈ کے ساتھ گوگل سرچ کیا۔جس کے بعد ایک ویب سائٹ پر یہی ویڈیو نظر آیا۔جس سے پتاچلا کہ یہ ویڈیو طارق فتح کے نام سے منسوب ایک ویب سائٹ پرموجود ہے۔

 

 طارق فتح کے نام سے بنی  ویب سائٹ پر برسوں پہلے وائرل ویڈیو کو کیاگیا اپلوڈ۔

 

تحقیقات کے دوران ہم نے سب سے پہلے طارق فتح کےنام سے منسوب ویب سائٹ کے لنک پر کلک کیا۔تب ہمیں اسی ویڈیو کے ساتھ انگریزی میں”پاکستان آرمیز بروٹل بیٹنگ آف ایم قیوایم پالیٹیکل ایکٹیوسٹ اِن کراچی”لکھا ہوا ویب سائٹ پر ملا۔ جسے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تین منٹ کے وائر ویڈیو میں بیس سکینڈ کے بعد نوجوان پر ظلم بربریت  فوج کررہی ہے۔واضح رہے کہ یہ ویڈیو مذکورہ بالا ویب سائٹ پر چھبیس ستمبر دوہزار پندرہ کو اپلوڈ کیاگیاہے۔

 

 طارق فتح کے نام پر بنی ویب سائٹ کا سچ۔۔؟

 

تفتیش کے دوران ملی جانکاری سے اطمنان نہیں ہوا تو ہم نے سوچا کیوں نہ جانا جائے کہ کیا سچ میں صحافی طارق فتح کے نام سے اس ویب سائٹ کو چلایاجا رہاہےیا پھر ان کے نام کا غلط استعمال کرکے کوئی اور ویب سائٹ بناکر استعمال کررہاہے۔تب ہم نے طارق فتح کا آفیشیل ٹویٹر ہینڈل کھنگالا۔جہاں ہمیں اس ویب سائٹ کا لنک ملا۔ جس کے بعد ہم نے مزید تحقیقات شروع کی۔ پھرہمیں لائیو لیکس نامی ویب سائٹ پر یہی ویڈیو”پراؤڈ اسلامک پاکستان آرمی بیٹنگ رَنڈم نَن مسلم”کے عنوان سے ملا۔جوکہ چارسال پہلے اپلوڈ کیاگیاہے۔ بتاتاچلوں کہ یہ ویڈیو طارق فتح کے ویب سائٹ پرموجود ویڈیو سے ملتاجُلتا ہے۔دونوں ویڈیو میں محض عنوان کا فرق ہے۔

ان تحقیقات کے باوجود ہمیں تسل٘ی نہیں ملی تو ہم نے ٹویٹر پرچھان بین شروع کی۔ اس دوران ہمیں ٹویٹر پر لائیولیکس نامی ویب سائٹ کا لنک”پاکستانی فوج غیر مسلم پاکستانی باشندوں پر تشدد کررہی ہے” اس عوان کے ساتھ ملا۔جس ٹویٹ کو زیادہ تر لوگوں نے دوہزر سولہ میں شیئر کیاتھا۔۔

 

 

اپنے ریسرچ کے آخری مرحلے تک پہنچنے سے پہلےہی ایک مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔جس لنک کے ساتھ  ٹویٹس کئے گئےتھے۔اس پر حکومتِ ہند پابندی لگاچکی ہے۔

 

 

تفح٘ص کو جاری رکھتے ہوئے ہم نے کچھ خاص ٹولس کے استعمال سے ویڈیو کو دیکھنے کی کوشش کی۔جس کا استعمال کرنا حکومت کی جانب سے منع ہے اور سائبر ایکٹ کےتحت سزا بھی مطعین کی گئی ہے۔اس لئے ہم اس ٹولس کا نام یا لنک شیئر نہیں کیاہے۔آپ کو بتادیں کہ ہم نے اس ٹولس کا استعمال اس لئےکیا۔تاکہ آپ سبھی قاری کو اطمنان بخش جانکاری مل سکے۔واضح رہے کہ جب ہم نے ویڈیو مخصوص  ٹولس کے ذریعےدیکھا تو پتا چلاکہ یہ لائیولنک کے اسی ویڈیو کامتبادل لنک ہےجس کا ذکر ہم نے اوپر کر چکے ہیں۔  

تحقیقات سے پتا چلا کہ پاکستانی فوج کے ظلم و ستم کودکھانے کےلئے برسوں پرانے ویڈیو کو شیئر کیاگیاہے۔اب یہ واضح ہوتا ہے کہ جو ویڈیو وائرل ہوا ہے وہ تقریباً چار سال پہلے صحافی و سماجی کارکن طارق فتح کے آفیشیل ویب سائٹ پر اپلوڈ کیاگیاتھا۔اب نیوز چیکر کی تحقیقات میں ثابت ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو کافی پرانہ ہے۔لیکن اس کوغلط انداز میں شیئر کیاگیاہے۔

 

ٹولس کا استعمال

اِنوِڈ

ٹویٹرایڈوانس سرچ

گوگل سرچ

پروکسی سروَر

ریورس امیج سرچ

یوٹیوب سرچ

نتائج: گمراکن

نوٹ:۔ اگر آپ ہمارے ریسرچ پر اتفاق نہیں رکھتے ہیں یا آپ کے پاس ایسی کوئی جانکاری ہے جس پر آپ کو شک ہےتو آپ ہمیں نیچے دی گئی ای میل آڈی پر بھیج سکتے ہیں۔

 checkthis@newschecker.in

Rajneil Kamath
Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular