بدھ, اکتوبر 27, 2021
بدھ, اکتوبر 27, 2021
HomeUrduکیا سچ میں پولیس نے آسام میں این آر سی احتجاجیوں پر...

کیا سچ میں پولیس نے آسام میں این آر سی احتجاجیوں پر کی لاٹھی چارج؟پڑھیئے نیوز چیکر کی پڑتال

 

دعویٰ

آسام میں این آرسی نافذ ہونے کے بعد مشتعل عوام نے پولیس پر حملہ کیا۔

تحقیقات

گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پرچھیالیس سکینڈ کا ایک ویڈیو خوب وائرل ہورہاہے۔اس ویڈیو کے شروع میں لوگ پولیس کو دوڑا رہے ہیں۔ویڈیو کو لے کر دعویٰ کیا جارہاہے کہ آسام میں این آرسی نافذ ہونے کے بعد مقامی لوگوں نے احتجاج کیا۔اس دوران لوگوں نے پولیس اہلکاروں کو لاٹھی ڈنڈوں کےساتھ کھدیڑا۔

ویڈیو اور پوسٹ کو پڑھنے کےبعد ہم نے اپنی تحقیقات شروع کی۔جس کے بعد ہم نے گوگل کیورڈ سرچ کیا۔تب ہمیں قومی آواز میں شائع ایک خبر ملی۔ جس کے مطابق ممبئی  پونے شاہرہ پر مہاراشٹر پولیس نے مراٹھا ریزرویش کو لے کر احتجاج کررہی عوام پر آنسو گیس چھوڑے تھے۔تاکہ بھیڑ منتشر پوسکے۔

 

ان تحقیقات کے باوجود ہم نے سوچا کیوں نہ مزید تفتیش کی جائے۔پھر ہم نےٹویٹر ایڈوانس سرچ کیا۔اس دوران ہمیں اے این آئی کے ٹویٹر ہینڈل پر ایک خبر ملی۔جہاں سے پتاچلا کہ مہاراشٹر کی عوام تعلیم اور روزگار کے لے کر احتجاج کررہی تھی۔جسے روکنے کے لئے پولیس نے ان پر آنسو گیس چھوڑا تھا۔

تمام ریسرچ کے باوجود ہمیں تسل٘ی نہیں ملی۔پھر ہم نے وائرل ویڈیو کا اویسم اسکرین شارٹ لےکر گوگل سرچ کیا۔تب ہمیں ہندوستان ٹائمس پر شائع ایک خبر ملی۔جس کے بعد پھر ہم نے یوٹیوب کا سہارا لیا۔جہاں ہمیں انڈیا ٹوڈے کےیوٹیوب نیوز چینل پر ایک ویڈیو ملا۔جوکہ چھبیس جولائی دوہزار اٹھارہ کو اپلوڈ کیاگیاتھا۔یہ ویڈیو ٹھیک وائرل ویڈیو کی طرح تھا۔ ویڈیو میں نیوز اینکربتا رہی ہے کہ ویڈیو اورنگ آباد کا ہے۔جہاں مراٹھا ریزروییشن کو لے کر عوام احتجاج کررہی ہے۔ساتھ  ہی یہ بھی بتایا جارہاہے کہ احتجاج کے دوران جوبندہ خودکشی کیا تھا۔اس کی حمایت میں مشتعل لوگوں نے پولیس پر احتجاج کے ذریعے اپنا غصہ ظاہر کیا۔

 

 

تمام تحقیقات سے یہ واضح ہوتا ہےکہ اس ویڈیو کوسوشل میڈیا کے ذریعے غلط انداز میں عوام کے سامنے پیش کیاگیا۔تاکہ اس کا غلط اثر عوام پر پڑے۔حقیقت یہ ہے کہ وائرل ویڈیو مہاراشٹر کے اورنگ آباد کا ہے۔جہاں گذشتہ سال حکومت کے خلاف لوگوں نے اپنے کچھ مطالبات کو لے کر احتجاج کیا تھا۔جس میں دو احتجاجیوں نے خود کشی بھی کر لیاتھا۔

  

ٹولس کا استعمال

فیس بک سرچ

ٹویٹر ایڈوانس سرچ

گوگل کیورڈ سرچ

گوگل اویسم سرچ

یوٹیوب سرچ

نتائج: گمراکُن

 

اگر آپ ہمارے ریسرچ پر اتفاق نہیں رکھتے ہیں یا آپ کے پاس ایسی کوئی جانکاری ہے جس پر آپ کو شک ہےتو آپ ہمیں نیچے دی گئی ای میل آڈی پر بھیج سکتے ہیں۔

 

Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular