جمعہ, ستمبر 24, 2021
جمعہ, ستمبر 24, 2021
HomeUrduلائف جیکٹ میں محفوظ بچے کی تصویر جکارتہ طیارہ حادثے...

لائف جیکٹ میں محفوظ بچے کی تصویر جکارتہ طیارہ حادثے کی نہیں ہے

سی یو سون نامی فیس بک پیج پر لائف جیکٹ پہنے ایک بچے کی تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ” اللہ ہو اکبر” یہ بچہ انڈونیشیاء کے جکارتہ کے جہاز حادثے میں زندہ بچ گیا ہے۔

سی یوسون کے فیس بک پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

برننگ کشمیر کے فیس بک پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

Fact Check/Verification

وائرل دعوے کی حقیقت جاننے کے لئے سب سے پہلے ہم نےتصویر کو ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں تصویر سے متعلق معلومات ملیں جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

تحقیقات کے دوران ہمیں 4 جولائی 2018 کی غیر ملکی زبان میں ایک رپوٹ ملی۔ جس میں وائرل تصویر کو استعمال کیا گیا ہے۔ ٹرانسلیشن کرنے پر پتا چلا کہ یہ بچہ پانی کی جہاز میں سفر کر رہا تھا۔ جب یہ جہاز انڈونیشیا کے ایک ٹاپو کے نزدیک حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔

اس کے علاوہ ہمیں این ڈی ٹی وی 30 اکتوبر 2018 پر وائرل تصویر سے متعلق جانکاری ملی۔جس کے مطابق اس بچے کو جان لیوا پانی کے جہاز کے حادثے میں بچایا گیاتھا جو کہ اسی سال جولائی میں رونما ہوا تھا۔

اس کے علاوہ انڈونیشیا کے سابق ڈیساسٹر میٹیگیشن ایجینسی کے ترجمان ستوپو پوروہ نگروہو ( Sutopo Purwo Nugroho) کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر وائرل تصویر کے حوالے سے جانکاری ملی۔جس کے مطابق وائرل تصویر پانی جہاز کے حادثے کی ہے۔جس میں معصوم بچے کی جان بچائی گئی تھی۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔ تصویر میں نظر آ رہے بچےکو جکارتہ کے طیارہ حادثے میں زندہ نہیں بچایا گیا بلکہ انڈونیشیا میں ہی 2018 میں ہوئے بحریہ جہاز کے ڈوب جانے کے بعد اس بچے کی جان بچائی گئی تھی۔

Result: Misleading

Our Sources

Suara:;https://www.suara.com/news/2018/07/04/212051/haru-ibu-tenggelam-usai-beri-pelampungnya-ke-bayi-agar-selamat?page=all

Ndtv:;https://www.ndtv.com/world-news/image-shared-showed-baby-rescued-from-indonesia-plane-crash-it-was-fake-1940024

Tweet:https://twitter.com/Sutopo_PN/status/1057113422242803712

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular