جمعرات, ستمبر 16, 2021
جمعرات, ستمبر 16, 2021
HomeUrduراشٹریہ علماءکونسل کے قومی صدر مولانا عامررشادی سے متعلق قابلِ اعتراض پوسٹ...

راشٹریہ علماءکونسل کے قومی صدر مولانا عامررشادی سے متعلق قابلِ اعتراض پوسٹ سوشل میڈیا پر کی جارہی ہے شیئر

تقسیم کی وجہ سے بھارت میں ہندو زندہ بچ گئے۔اس بار مسلمان بٹوارے کی غلطی نہیں کریں گے۔ہم اپنی #آبادی بڑھا کر پورے بھارت کو اندر سے اسلامی ملک بنارہے ہیں۔چھین کر لئے پاکستان ،چُپکے سے لے رہے ہیں ہندوستان۔کیا غزوہند کا خواب دیکھ رہے ہیں یہ لوگ؟مولانا عامررشادی،صدر راشٹریہ علماءکونسل کا بیان۔

مولاناعامررشادی کے حوالے سے کیاہے وائرل پوسٹ؟

ان دنوں راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولاناعامر رشادی کی تصویر کے ساتھ ایک پوسٹر سوشل میڈیا پر خوب گردش کررہاہے۔جس میں دعویٰ کیاجارہاہے کہ مولانا نے ہندو اور مسلم کو تقسیم کرنے کی بات کررہے ہیں۔درج ذیل میں وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک موجود ہیں۔

اُماشنکر راجپوت کے ٹویٹر پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

راہل راجپوت کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

Fact check / Verification

سوشل میڈیا پر علماء کونسل کے قومی صدر عامررشادی کی تصویر کےساتھ وائرل دعوے کی سچائی جاننے کےلئے ہم نے سب سے پہلے پوسٹر کو ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں سوشل میڈیا کے کئی لنک فراہم ہوئے جو ایک سال پہلے مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیاجاچکا ہے۔درج ذیل میں اسکرین شارٹ موجود ہیں۔

مذکورہ جانکاری سے پتاچلا کہ عامر رشادی کے حوالےسے پہلے بھی اسی دعوے کے ساتھ وائرل پوسٹرشیئر کیاجاچکا ہے۔پھر ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں یو این اے نامی اردو نیوز ویب سائٹ پر 9اکتوبر2017 کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق وائرل دعویٰ فرضی ہے۔علماء کونسل کی جانب سے پوسٹر شیئر کرنے والے کے خلاف اعظم گڑھ اور کانپور کے ایک تھانے میں ایف آئی آر درج کروا ئی جاچکی ہے۔

مذکورہ جانکاری سے تسلی نہیں ملی تو ہم نے علماءکونسل کے قومی صدر عامررشادی کو فون کال کیا اور وائرل دعوے کے بارے جانکاری طلب کی تو انہوں نے اس دعوے کو فرضی بتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے وائرل پوسٹرکے خلاف ایف آئی آر درج کرواچکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پوسٹ تقریباً تین سال پرانہ ہے۔

عامررشادی سے ہوئی بات چیت کا آڈیوکلپ یہاں سنیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے پتاچلا کہ علماءکونسل کےقومی صدر عامر رشادی نے ہندو اور مسلم کو بانٹنے جیسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔وہ وائرل پوسٹر کو شیئر کرنے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کرواچکے ہیں۔

Result:False

Our Sources

UNANews:https://unanewsco.wordpress.com/2017/10/09/%D8%B1%D8%A7%D8%B4%D9%B9%D8%B1%DB%8C%DB%81-%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1-%DA%A9%D9%88%D9%86%D8%B3%D9%84-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DA%A9%D9%86%D9%88%DA%BA/

Direct Contect :Aamir Rashshadi,President of National Ulema Council

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular