بدھ, اکتوبر 27, 2021
بدھ, اکتوبر 27, 2021
HomeUrduداؤدی بوہرہ کے بروسوں پرانے ویڈیو کو نظام الدین کے نام سے...

داؤدی بوہرہ کے بروسوں پرانے ویڈیو کو نظام الدین کے نام سے کیاجارہا ہے شیئر!سچ جاننے کے لئے پڑھیئے ہماری تحقیق

دعویٰ

نمشکار۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہاہے کہ نظام الدین میں بیٹھے لوگ ان برتوں میں کس طرح کی جھاڑپھوک کررہے ہیں۔

 

تصدیق

ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک ان دنوں کروناوائرس کی زد میں ہیں۔مہلک مرض میں لاکھوں افراد مبتلا ہیں۔محض ہندوستان میں اب تک اس بیماری کی وجہ سے اکتالیس اموات ہوچکی ہیں۔وہیں گذشتہ کچھ دنوں سے دہلی کے نظام الدین مرکز کا معاملہ میڈیا کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق مرکز کے چوبیس افراد کروناوائرس سے متاثر ہیں۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر مرکز کے حوالے سے طرح طرح کا پروپکینڈہ کیا جارہاہے۔حال ہی میں واہٹس ایپ پر ایک ویڈیو گردش کررہاہے۔جس میں کچھ لوگ برتن کو انگلیوں اور زبان سے صاف کررہے ہیں۔دعویٰ کیا جار ہے کہ یہ ویڈیو نظام الدین مرکز کا ہے۔جہاں برتن پر لوگ جھاڑ پھونک کررہے ہیں۔ساتھ ہی یوٹیوب پر  بھی دعویٰ کیاجارہا ہے کہ کروناوائرس پھیلانے کے لئے مسلمان اس طرح کے کام کو انجام دے رہے ہیں۔


 

ہماری کھوج

وائرل ویڈیو اور دعوے کو پڑھنے کے بعد ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پیلے ہم نے وائرل ویڈیو کو انوڈ کیا اور کیفریم کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں اس حوالے سے یوٹیوب، فیس بک اور ٹویٹر پر وائرل ویڈیو مختلف دعوے کے ساتھ کافی مقدار میں ملے۔جوسارے کہ سارے دوسال پرانے ہیں۔

 

 

اوپر ملی جانکاری سے واضح ہوچکا ہے کہ وائرل ویڈیو دوسال پرانا ہے اور اس ویڈیو کا نظام الدین مرکز سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔پھر ہم نے وائرل ویڈیو کی گہرائی تک جانے کے مزید کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں ویمیوڈاٹ کام،نیوز تک  اور اسکرول نیوز کے ویب سائٹ پر شائع وائرل ویڈیو والی خبریں ملیں۔جس کے مطابق یہ ویڈیو داؤدی بوہرہ سماج کے لوگوں کا ہے۔جس میں وہ لوگ کھانے کے بعد برتن کوانگلیوں سے صاف کررہے ہیں۔ہماری تحقیق میں اب یہ ثابت ہوچکا کہ وائرل ویڈیو نظام مرکز کا نہیں ہے۔بلکہ بوہرہ سماج کے لوگوں کا ہے۔

<iframe width=”861″ height=”486″ src=”https://www.youtube.com/embed/dLjASpIbCEw” frameborder=”0″ allow=”accelerometer; autoplay; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture” allowfullscreen></iframe>

وہیں ہم نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ اسلام میں کھانے کے بعد برتن کا اچھی طرح سے صاف کرنا صحیح ہے یا نہیں تو اس دوران ہمیں دارالعلوم دیوبند کا ایک فتویٰ ملا۔جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا حوالا دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ کے نبیؐ نے کہا  کھانے کا کوئی حصہ برتن میں لگا نہ رہ جائے جس سے کھانا ضائع ہو یا اس کی ناقدری ہو۔

Darul Ifta, Darul Uloom Deoband India

میں نے ایک رسالہ میں ترمذی کی ایک روایت پڑھی ہے کہ “جو شخص جس برتن میں کھانا کھائے پھر اسے صاف کرے تو اس کیلئے برتن استغفار کرتا ہے ” اس کا کیا مطلب؟ یعنی جس پلیٹ میں ہم نے کھایا ہے اسے بالکل صاف کریں جس طرح گھر

 

ان سبھی تحقیقات کے باوجود ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ داؤدی بوہرہ کون ہے اور ان کا وجود کیا ہے۔تب ہم نے دی دؤدی بوہرہ  کے ویب سائٹ کو کھنگالا۔جہاں ہمیں پتا چلا بوہرہ سماج شیعہ مسلمانوں کے ایک مخصوص مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا فرقہ ہے۔

Home

Thank you @Bohras_USA especially in @Fremont_CA for their support of our community – from Earth Day tree plantings, emergency preparedness trainings, flag raising ceremonies, addressing local hunger, supporting women businesses & fighting #COVIDー19 Together we are stronger! https://twitter.com/bohras_usa/status/1245345993702494208

<script async src=”//cdn.embedly.com/widgets/platform.js” charset=”UTF-8″></script>

 

 

نیوزچیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ وائرل ویڈیو نظام الدین مرکز کا نہیں ہے۔بلکہ بوہرہ سماج کےلوگوں کو ہے جو کھانے کے بعد جھوٹے برتن کو انگلیوں اور زبان سے صاف کررہے ہیں۔حالانکہ اسلام میں بھی کہا گیا ہے کہ اگر دسترخوان پر ایک بھی دانا گرا ہو تو اسے اٹھاکر کھانا سنت ہے۔واضح رہے کہ وائرل ویڈیودوسال پہلے بھی غلط دعوے کے ساتھ وائرل کیا گیا تھا۔

ٹولس کا استعمال

گوگل کیورڈ سرچ

یوٹیوب سرچ

انوڈ سرچ

نتائج:جھوٹادعویٰ(پراناویڈیو)

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular