منگل, دسمبر 7, 2021
منگل, دسمبر 7, 2021
HomeUrduکیا سچ میں براک اوبامہ نے ٹرمپ کے تحفے کو پھینک دیا؟وائرل...

کیا سچ میں براک اوبامہ نے ٹرمپ کے تحفے کو پھینک دیا؟وائرل دعوے کو پڑھیئے ہماری پڑتال

دعویٰ

زبردست تازه ترین ویڈیو ۔

ٹرمپ اپنى بیگم کے ساتھ اوباما کے گھر گفٹ لے کر گیا تھا۔تاکہ سیاه فام امريکىوں کا غصه ٹھنڈا کر سکے۔اوباما نے گفٹ لے کر دُور پھینکا اور غصے ميں اکیلا هى اندر چلا گیا۔

تصدیق

سیاہ فام امریکی شہری جارج فلآئیڈ کی موت کے بعد سے امریکا میں احتجاجی مظاہرہ خوب ہوا۔العربیہ کے مطابق اب امریکا میں احتجاجی مظاہروں کی شدت میں کمی آئی ہے۔لیکن اس کے باوجود مظاہرین کو پولیس کی بربریت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وہیں دوسری جانب براک اباما اور ڈونالڈ ٹرمپ کا ایک دس سکینڈ کا ویڈیو سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارم پر خوب گردش کررہا ہے۔دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ اپنی اہلیہ کے ساتھ اوباما کے گھر تحفہ لےکر گئے تھے۔جسے اوباما نے غصے میں پھینک دیا۔اس ویڈیو کو مختلف زبانوں میں سوشل میڈیا کے مشہور پلیٹ فارم ٹویٹر ،فیس بک ،واہٹس ایپ اور یوٹیوب پر خوب شیئر کیاجارہا ہے۔عابدمیرماگامی نے بھی اس ویڈیو کو مذکورہ دعوے کے ساتھ اپنے ٹویٹرہینڈل پر شیئر کیا ہے۔بتادوں کہ عابد اپنے پروفائل پر جموں کشمیر کانگریس میڈیاکارڈینیٹر لکھا ہوا ہے۔مندرجہ ذیل میں سبھی کے آرکائیو آپ دیکھ سکتے ہیں۔

 کانگریس لیڈرعابدمیرماگامی کے ٹویٹ کا آرکائیو یہاں دیکھیں۔جسے ہمارے آرٹیکل لکھنے تک نوسو ستر لوگوں نے ری ٹویٹ کیا ہے۔جبکہ اکیس سو لوگوں نے لائک بھی کیا ہے۔

فیس بک کے جے ٹی وی نامی پیج  اور سکیندر نامی یوزر نے اس ویڈیو کو مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔جس کا آرکائیو دیکھینے کےلئے کلک کریں۔

ٹویٹر پر عالم رحیمی اور سیدہ نامی یوزر نے مذکورہ ویڈیو کو فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیاہے۔دونوں کے ٹویٹ کا آرکائیو نام پر کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں۔

یوٹیوب پر وائرل ویڈیو کو فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔جس کا آرکائیوں یہاں دیکھیں۔

ہماری کھوج

وائرل ویڈیو کے سچائی تک پہنونچنے کے لئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کچھ کیفریم نکالا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں ہمیں وائرل ویڈیو سے متعلق کافی کچھ اسکرین پر دیکھینے کو ملا۔جسے آپ درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

مذکورہ جانکاری میں اضافہ کرتے ہوئے ہم نے کچھ گوگل کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں سوئیکارمین نیوز ویب سائٹ پر دوہزار سترہ کی ایک خبر ملی۔جس میں وائرل دعوے والے ویڈیو کے کچھ فریم تھے۔وہیں ہم نے مزید کیورڈ سرچ  کیا تو اےبی سی نیوز  کے ویب سائٹ پر ایک جون دوہزار سترہ کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق براک اوباما واشنگٹن کے جس گھر میں  کرایہ پر رہ رہے تھے وہ اسے خریدیں گے۔البتہ ویڈیو کے کیپشن میں “اوباما اور ان کی اہلیہ کو ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ نے تحفہ دیا” لکھا ہوا ہے۔

مذکورہ ریسرچ سے واضح ہوچکا کہ وائرل ویڈیو تین سال پرانہ ہے۔پھر ہم نے یوٹیوب پر اوبا اور ٹرمپ کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں غیر ملکی ٹی وی کے آفیشل یوٹیوب چینل پر ہوبہو وائرل ویڈیو ملے۔جن میں این بی سی،سی بی ایس دِس مارننگ، گلوبل نیوز اور سی این این کے آفیشل یوٹیوب چینل پر اس حوالے سے خبریں ملیں۔جس کے کیپشن میں صاف طور پر لکھا ہے کہ براک اوباما اور انکی اہلیہ نے ٹرم پ اور ملانیاٹرمپ کو واہٹ ہاؤس میں جمعہ کے دن ‘کوفی’ پر بولا تھا۔لیکن آپ ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہیں بھی اوباما آسمانی رنگ کے ڈبے (گفٹ) کو پھینکا نہیں ہے۔واضح رہے کہ سبھی نیوز بیس جنوری دوہزارسترہ کی ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو تین سال پرانہ ہے۔اس ویڈیو کا ابھی کے احتجاج سے کوئی لینادینا نہیں ہے اور نا اوباما نے ملانیہ کے تحفے کو پھینکا ہے۔بلکہ ویڈیو کے آخری حصے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا گیا ہے۔جو اصل ویڈیو دیکھنے کے بعد صاف ظاہر ہوتا ہے۔

ٹولس کا استعمال

انوڈ سرچ

ریورس امیج سرچ

ین ڈیکس سرچ

کیورڈ سرچ

یوٹیوب سرچ

فیس بک اور ٹویٹرایڈوانس سرچ

نتائج:فرضی دعویٰ/پراناویڈیو

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular