بدھ, ستمبر 22, 2021
بدھ, ستمبر 22, 2021
HomeUrduنومنتخب امریکی صدرجوبائیڈن نے جارج فلوئڈ کی بیٹی سے نہیں مانگی...

نومنتخب امریکی صدرجوبائیڈن نے جارج فلوئڈ کی بیٹی سے نہیں مانگی معافی،فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی تصویر

فیس بک اور ٹویٹر پر وائرل ماسک پہنے شخص کے سامنے کھڑی ایک بچی کی تصویر خوب گردش کررہی ہے۔یوزرس کا دعویٰ ہے کہ “تصویر میں نظر آنے والی یہ بچی جارج فلائیڈ کی بیٹی ہے جو امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں مارا جانے والا بے گناہ سیاہ فام تھا اور سامنے امریکی صدر جو بائڈن جو جھک کر اس بچی سے اپنی ریاست کی طرف سے معافی کا طلب گار ہے“بتادوں کہ اس تصویر کو ہندوی اور اردو سمیت کئی زبانوں میں شیئر کیاجارہاہے۔اردو میں دعوے کے ساتھ شیئر کرنے والوں میں پاکستانی یوزرس زیادہ ہیں۔درج ذیل میں وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک موجود ہیں۔

پاکستانی صحافی شفیق پسروری کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

شوبھانا گجر کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

بلال یاسر کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

برکت علی مہر کے فیس بک پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

Fact Check/Verification

سال دوہزار بیس کے مئی ماہ میں امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ نامی شخص کی موت پولس کے ہاتھوں ہوئی تھی۔جس کے بعد کثیر تعداد میں امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک کے لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔

وائرل تصویر کی سچائی جاننے کےلیے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے وائرل تصویر کو ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں کرین ٹریورس (Karen Travers)نامی آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر وائرل تصویر سے ملتی جلتی دو تصاویر ملیں۔کرین کے مطابق یہ تصویر ایک کپڑے کی دوکان کے سامنے کی ہے۔جہاں جوبائیڈن دکان کے مالک کے بیٹے سی جے برون (CJ Brown)کے سامنے گھٹنے کے بل کھڑے ہیں۔

سرچ کے دوران ہمیں گیٹی امیج پر وائرل تصویر ملی۔جس کےمطابق جوبائیڈن کے سامنے کھڑا بچہ تھری تھرٹین شاپنگ مال (Three Thirteen) کے سامنے سی جے براؤن نامی بچہ سے جوبائیڈن “گھٹنے کے بل کھڑے ہوکر گفتگو کررہے ہیں۔

وہیں سرچ کے دوران جب ہم نے امریکی نومنتخب صدر جوبائیڈن کے انسٹاگرام کو کھنگالا تو ہمیں وہاں وائرل تصویر ملی۔جسے 15ستمبر2020 کو شیئر کیا گیا ہے۔

https://www.instagram.com/p/CFKYTOnhvtJ/?utm_source=ig_web_copy_link

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر کامقتول جارج فلائیڈ کی بیٹی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔جوبائیڈن کے سامنے کھڑا بچے کانام سی جے براؤن ہے۔جس کے سامنے “جوبائیڈن “گھٹنے کے بل کھڑے ہوکربات کررہے ہیں۔

Result: Misleading

Our Sources

Tweet:https://twitter.com/karentravers/status/1303817239045513217

GI:https://www.gettyimages.in/detail/news-photo/wearing-a-face-mask-to-reduce-the-risk-posed-by-the-news-photo/1271608748?adppopup=true

Insta:https://www.instagram.com/p/CFKYTOnhvtJ/?utm_source=ig_web_copy_link

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular