ہفتہ, اپریل 17, 2021
ہفتہ, اپریل 17, 2021
HomeUrduاترپردیش کی حکومت نے طلباء کے اسکالرشپ پر روک نہیں...

اترپردیش کی حکومت نے طلباء کے اسکالرشپ پر روک نہیں لگائی ہے

بجٹ کی کمی کی وجہ سے یوپی کے طلباء کو اس سال اسکالرشپ نہیں ملےگی۔

Viral post from ShareChat

اسکالرشپ کے حوالے سے کیا ہے وائرل پوسٹ؟

ان دنوں شیئر چیٹ اور فیس بک پر اے بی پی نیوز کا بریکنگ کا ایک اسکرین شارٹ خوب گردش کررہا ہے۔دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس سال بجٹ کی کمی کی وجہ سے یوپی سرکار طلباء کے وظیفہ پر روک لگا دی ہے۔درج ذیل میں آرکائیو لنک موجود ہے۔

فیس بک پر 10ستمبر کو رام ارجن تیواری نے مذکورہ اسکرین شار کو شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

شیئر چیپ پر بھی مذکورہ دعویٰ کیاگیا ہے۔

Fact check / Verification

اترپردیش کے طلباء کے حوالے سے وائرل دعوے والے پوسٹ کی حقائق جاننے کےلئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے اے بی پی نیوز کے آفیشل یوٹیوب چینل پر وائل دعوے کو تلاشا۔لیکن وہاں ہمیں کچھ بھی نہیں ملا۔پھر ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران اے بی پی نیوز کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر 2ستمبر کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق اترپردیش سرکا نے سال 2020کے اسکارلر شپ کےلیے درخواست جمع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

مذکورہ خبر پر تسلی نہیں ملی تو ہم نے اترپردیش کے اتر پردیش سیکنڈری ایجوکیشن کونسل کے ویب سائٹ پر جاکر وائرل دعوے کی حقائق جاننے کی کوشش کی۔تب ہمیں پتاچلا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اسکالرشپ فراہمی کا نوٹس جاری کی جاچکی ہے۔وہیں سرچ کے دوران مدھیامک سکشاپریشد اترپردیش کے ویب سائٹ پر بھی اسکالرشپ کے حوالے سے جانکاری ملی۔جس میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ اس سال طلباء کو اسکالرشپ نہیں دی جائےگی۔البتہ مہلک وباء کروناوائرس کی وجہ سے اسکالر شپ میں دیری کی وجہ بتائی گئی ہے۔

وہیں جب ہم نے اےبی پی اور وئرل اسکرین شارٹ کاموازنہ کیا تو ان میں کافی کچھ مختلف دیکھنے کو ملا۔جسے درج ذیل میں فوٹو پیا کی مددسے قاری کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں پتا چلا کہ کروناوائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے اترپردیش میں طلباء کو وظیفہ تقسیم کرنےمیں دیری ہورہی ہے۔لیکن اسکالر شپ پر روک لگانے والا دعویٰ بالکل فرضی ہے۔

Result:Misleading

Our Sources

Abp:https://twitter.com/AbpGanga/status/1301072325631066114

Indiagov:https://www.india.gov.in/hi/spotlight/%E0%A4%91%E0%A4%A8%E0%A4%B2%E0%A4%BE%E0%A4%87%E0%A4%A8-%E0%A4%9B%E0%A4%BE%E0%A4%A4%E0%A5%8D%E0%A4%B0%E0%A4%B5%E0%A5%83%E0%A4%A4%E0%A5%8D%E0%A4%A4%E0%A4%BF-%E0%A4%9B%E0%A4%BE%E0%A4%A4%E0%A5%8D%E0%A4%B0%E0%A5%8B%E0%A4%82-%E0%A4%95%E0%A5%80-%E0%A4%B6%E0%A5%88%E0%A4%95%E0%A5%8D%E0%A4%B7%E0%A4%BF%E0%A4%95-%E0%A4%86%E0%A4%95%E0%A4%BE%E0%A4%82%E0%A4%95%E0%A5%8D%E0%A4%B7%E0%A4%BE%E0%A4%93%E0%A4%82-%E0%A4%95%E0%A5%8B-%E0%A4%AA%E0%A5%82%E0%A4%B0%E0%A4%BE-%E0%A4%95%E0%A4%B0%E0%A4%A4%E0%A5%87-%E0%A4%B9%E0%A5%81%E0%A4%8F

upmsp:https://upmsp.edu.in/Downloads/MHRDNotification.pdf

upmsp:https://upmsp.edu.in/

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Avatar
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular