بدھ, اکتوبر 27, 2021
بدھ, اکتوبر 27, 2021
HomeUrduبنگلہ دیش کے قاتل کو بتایا جارہاہےمررشدآباد مڈر کیس کا ملزم۔کیا ہے...

بنگلہ دیش کے قاتل کو بتایا جارہاہےمررشدآباد مڈر کیس کا ملزم۔کیا ہے حقیقت پڑھیئے ہماری پڑتال۔

دعویٰ

یہی ہے وہ شخص جس نے مرشدآباد کے آرایس ایس کارکن کو ان کے اہل خانہ کےساتھ موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔

 

تحقیقات

بنگال میں آٹھ اکتوبر کو بیک وقت تین قتل ہواتھا۔جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پران دنوں خوب گردش کررہاہے۔ تینوں قتل کے تعلق سے دو تصویریں  شیئر کی جارہی ہے۔تصویرمیں ایک شخص ٹوپی پہنے ہوئے نظر آرہاہے۔جس کو اس قتل کا ملزم بتایاجارہاہے۔وائرل تصویر کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کیاجارہاہے کہ یہ وہی شخص ہے۔جس نے آرایس ایس کارکن کو ان کے اہل خانہ کےساتھ  قتل کردیاہے.ٹویٹر پراس تصویر کو دوسو چوہتر لوگ شیئر کرچکے ہیں۔جبکہ تین سوانتیس لوگوں نے لائک کیاہے۔

 سوشل میڈیا پر وائرل تصویر کی حقیقت جاننے کے لیئے ہم نے اپنی تحقیق شروع کی۔پھر ہم نے سب سے پہلےکیورڈس کی مدد لی اور گوگل سرچ کیا۔تب ہمیں ڈھاکا ٹریبیون اور جَسٹ نیوز میں شائع ایک خبر ملی۔جس میں  لکھا ہے کہ یہ شخص مرشدآباد میں ہوئے آرایس ایس کےاہل خانہ کاقاتل نہیں۔بلکہ بنگلہ دیشی طالب علم کے قتل کا ملزم ہے۔

 ان خبروں کی مدد سے ہم نے فیس بک پر مہدی حسن رسل نامی شخص کا پروفائل کھنگالا۔جہاں ہمیں پتاچلا کہ دس جون دوہزار انیس کو یہ وائرل تصویر پوسٹ کی گئی تھی۔مہدی نے اس تصویر کے ساتھ ہندی میں پریرنا پِتا(میرے والد میرے لئے نظیر ہیں)لکھاہے۔جس کے بعد پتا لگاکہ نیلے رنگ کا کپڑا پہناہوا شخص بنگلہ دیش کا رہنےوالا ہے۔جوکہ بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئراینڈ ٹیکنالوجی میں جنرل سکریٹیرہے۔

 مزید تحقیقات کے دوران ہم نے سوچا کہ مرشد آباد قتل کیس کی بھی جانکاری نکالی جائے۔تاکہ پتا چل سکے کہ آرایس ایس کارکن کے اہل خانہ کا قتل کسنےکیا ہے؟ اس دوران ہمیں امراُجالا میں شائع ایک خبر ملی۔جس میں لکھا ہے کہ آرایس ایس کارکُن اور ان کے اہل خانہ کا قتل آپسی رنجش کی وجہ سے ہوا ہے۔جس کے ملزم کو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔

 تمام ریسرچ کے بعد یہ واضح ہوا کہ وائرل تصویر میں جوشخص ہے۔اس کا مرشدآباد میں ہوئے قتل سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ شخص بنگلہ دیشی طالب علم کے قتل کا ملزم ہے۔جبکہ تصویر میں نظر آرہا ٹوپی والا شخص قاتل کے والد ہیں۔

 ٹولس کا استعمال

  • گوگل کیورڈس سرچ
  • گوگل ریورس سرچ
  • فیس بُک سر

نتائج:فیک نیوز

Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular