پیر, اکتوبر 25, 2021
پیر, اکتوبر 25, 2021
HomeUrduاٹلی کی تصویر کو مختلف دعؤں کے ساتھ کیوں کیا جارہا ہے...

اٹلی کی تصویر کو مختلف دعؤں کے ساتھ کیوں کیا جارہا ہے شیئر؟پڑھیئے وائرل دعوے کا سچ

دعویٰ

واہٹس ایپ پر ایک پوسٹر وائرل ہورہا ہے۔جس میں لگی تصویر مختلف دعوے کے ساتھ شیئر کی جارہی ہے۔پوسٹر میں اس تصویر کو ایران کا بتایا گیا ہے۔دعویٰ کیا جارہاہے کہ ایران نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے۔جس کے ذریعے ۱۰۰میٹر کے اندر رہنے والے کرونا مریض کا پتا لگانا ممکن ہے۔

تصدیق

پوسٹر میں لگی تصویر کو جب ہم نے ریوروس امیج سرچ کیا تو پتاچلا کہ اس تصویر کو کئی نیوزپورٹل نے اپنی خبروں میں شامل کیا۔جسے آپ ایک کے بعد ایک نیچے دیکھیں گے۔

پربھات خبر نے اس تصویر کو اپنی ایک خبر میں شامل کیا ہے۔جس کے کیپشن میں لکھا ہے کہ انڈین ٹیچرکمیونیٹی کےدوسو سے زائد سائنسداں اور ممبرس نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ کروناوائرس کی سرچنگ فیسلیٹیز کو ہندوستان کے ہر کونے میں پہونچا دیں۔

پروپاکستان نامی نیوزویب سائٹ نے اٹھارہ اپریل کی ایک خبر میں وائرل تصویر کو شامل کیا ہے۔جس کا ہیڈلائن ہے”کروناوائرس کے مریض پاکستان میں دوگنے ہو چکے ہیں۔لیکن ابھی تک کسی کی موت نہیں ہوئی ہے” اس کے علاوہ کئی نیوزویب سائٹ نے اس تصویر کو کووڈ۔۱۹ کے حوالے سے اپنی خبر وں میں شائع کیاہے۔

ہماری کھوج

مذکورہ بالا تصویر کے حوالے سے مختلف خبروں کو پڑھنے کے بعد ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا ایران نے کروناوائرس جانچ نے کا کوئی نیا آلہ بنایا ہے؟جس کے ذریعے ۱۰۰میٹر کے اندر موجود کروناوائرس کا پتا لگانا آسان ہے۔پھر ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں ایک فیس بک پوسٹ ملا۔جس کے مطابق ”ایران کی سپاہ پاسداران نے پانچ سیکنڈ میں کسی بھی مقام اور جگہ پر کورونا وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے والا ایک آلہ تیار کیا ہے”لیکن اس پوسٹ سے تسلی نہیں ملی تو ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں المُنیٹر نامی نیوزویب سائٹ پر ایک خبر ملی۔جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایران نے کروناوائرس جانچ نے کا بہرتین آلہ تیار کیا ہے۔آپ کو بتادوں کہ اس خبر میں ہمیں وائرل تصویر کہیں بھی نظر نہیں آئی۔المیٹر پر شائع خبر کے ساتھ آلہ لئے ہوئے ایک تصویر میں سپاہ پاسداران نظر آرہے ہیں۔جوآلہ کی نمائش کررہے ہیں۔

مذکورہ بالا میں ملی جانکاری سے واضح ہوچکا کہ وائرل تصویر کے ساتھ جو دعویٰ کیا گیا ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔لیکن تصویر کہیں اور کی ہے۔پھر ہم نے المیٹر پر شائع خبر کی گہرائی تک جانے کے لئے یوٹیوب سرچ کیا۔جہاں ہمیں میمری نامی یوٹیوب چینل پر کروناجانچ والے آلہ کی نمائش کا پورا ویڈیو ملا۔جس میں اس آلہ کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ اگر اسکا استعمال کیا جائے تو سومیٹر کے اندر موجود کروناوائرس کاپتا محض پانچ سکینڈ میں لگایا جاسکتا ہے۔

سبھی تحقیقات سے یہ صاف ہوچکا کہ ایران کے سپاہ پاسداران نے کروناوائرس جانچ نے کا آلہ تو تیار کیا ہے۔لیکن اسے عمل میں لانے کی اجازت ابھی نہیں دی گئی ہے۔اب ہمیں اپنے قاری کو بتانا ہے کہ وائرل پوسٹر میں موجود تصویر دراصل ہے کہاں کی۔پھر ہم نے وائرل تصویر کی اصلیت تک جانے لئے کچھ مخفی ٹولس کا استعمال کیا اور کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں  گلف نیوزاور کلیرن مُنڈو پر شائع تیرہ مارچ اور پندرہ مارچ دوہزار بیس کی خبریں ملیں۔جس کے مطابق یہ تصویر اٹلی کے بریسیا کی ہے۔ بریسیا کے ایک میڈیکل اسپتال میں ملازمین ٹرائج ٹینٹ بنا کرکروناوائرس کو لے کر کام کررہے ہیں۔اس تصویر کا دونوں نیوز ویب سائٹ نے بلوم برگ نامی ویب سائٹ کو کریڈٹ دیا ہے۔

مذکورہ نیوزویب سائٹ سے واضح ہوچکا کہ یہ تصویر اٹلی کے بریسیا کی ہے۔اس تصویر کو بلوم برگ نے سب سے پہلے شائع کیا ہے۔پھر ہم نے کچھ کیورڈ کی مدد سے بلوم برگ پر شائع اس خبر کو تلاشا۔جہاں ہمیں پتا چلا کہ اس تصویر کو سب سے پہلے فرانسسکاوولپی نامی فوٹوگرافر نے اپنے کیمرے سے قید کیا تھا۔

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل پوسٹر میں کیا گیا دعویٰ صحیح ہے۔لیکن  پوسٹر میں لگی تصویر اٹلی کے بریسیا کی ہے۔جہاں میڈیکل ملازمین رات دن کرونا مریض کے لئے کام کررہے ہیں۔

ٹولس کا استعمال

اویسم سرچ

ریورس امیج سرچ

گوگل کیورڈ سرچ

یوٹیوب سرچ

میڈیارپورٹ

نتائج:جزوی طور پر غلط ہے(Partially false)

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے  نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Rajneil Kamath
Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular