ہفتہ, دسمبر 3, 2022
ہفتہ, دسمبر 3, 2022

HomeFact Checkترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے فرانس کے صدر میکرون کے...

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے فرانس کے صدر میکرون کے ساتھ بے رُخُی اختیار نہیں کی

فرانس کے گستاخ صدر کو دیکھ کر طیب ایردوان دوسری طرف چل پڑے اور گستاخ فرانسیسی صدر سے ہاتھ بھی نہیں ملایا۔ ترک صدر نے ایسی بے رخی کی ایسا ذلیل کیا اسے کہ وہ دیکھتا ہی رہ گیا۔

ترک صدر اور فرانسیسی صدر کےحوالے سے کیا ہے وائرل دعویٰ؟

سوشل میڈیا پر 23 سیکینڈ ایک ویڈیو خوب گردش کررہا ہے۔جس میں ترکی ،فرانس،جرمنی اور روس کے صدور ایک ساتھ نظر آرہے ہیں۔یوزرس کا دعویٰ ہے کہ ترکی صدر رجب طیب ایردوان نے فرانسیسی صدر کو بھری محفل میں ذلیل کردیا۔

فیس بک وائرل ویڈیو کو متعد یوزس نے مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

Fact check / Verification

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کےلئے ہم نے کچھ مخصوص ٹولس کی مدد سے ویڈیو کا کیفریم نکالا اور اسے ین ڈیکس اور ریورس امیج سرچ کیا۔لیکن ہمیں  العریبہ کے نیوز ویب سائٹ پر 21فروری 2020 کی ایک خبر ملی۔جس میں وائرل ویڈیو کا کیفریم کے ساتھ خبر ملی۔جس کے مطابق ترکی کے استنبول میں شام کے جنگ بندہ 27اکتوبر 2018 کو استنبول میں ترکی ،فرانس،جرمنی اور روس کے صدر شام میں جنگ بندی سے متعلق ایک میٹنگ میں شرکت کیا تھا اسی کی یہ تصویر بتایا جارہاہے۔

پھر ہم نے ویڈیو کو یوٹیوب پر سرچ کیا۔جہاں ہمیں رپٹلی(Ruptly) نامی یوٹیوب چینل پر 27 اکتوبر 2018 کی خبر ملی۔جب ہم نے پورے ویڈیو کو غور سے دیکھا تو کہیں بھی یہ نظر نہیں آیا کہ ترکی صدر ایردوان نے فرانس کے صدر کے ساتھ بے رخی سے پیش آئے ہوں۔اس سے پتاچلتا ہے کہ پرانے ویڈیو کو عوام کے سامنے فرضی دعوے کےساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتاہے کہ وائرل ویڈیو 2سال پرانہ ہے اور اس ویڈیو کا حال کے دنوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔دراصل یہ ویڈیو استنبول میں شام سے متعلق چاروں ممالک کے درمیان ہوئی بات چیت کے دوران کی ہے۔

Result: Misleading

Sources

Alarabiya:https://english.alarabiya.net/en/News/middle-east/2020/02/21/Merkel-Macron-want-to-meet-Putin-Erdogan-to-defuse-crisis-in-Syria

Ruptly:https://www.youtube.com/watch?v=emLu8gpV-fE

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular