پیر, دسمبر 6, 2021
پیر, دسمبر 6, 2021
HomeFact Checkکشمیر میں مسلمانوں کو سرِعام زندہ جلائے جانے کی نہیں ہے یہ...

کشمیر میں مسلمانوں کو سرِعام زندہ جلائے جانے کی نہیں ہے یہ وائرل تصویر

ٹویٹر پر ایک دل کو دہلا دینے والی تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے “کشمیر میں مسلمانوں کو سرِعام زندہ جلائے جانے کی یہ تصویر ہے”۔ کچھ صارفین اس تصویر کو انڈیا پاکستان کے میچ سے جوڑ کر طنزیہ طور پر بھی شیئر کر رہے ہیں”۔ بتادوں کہ اس تصویر کو عربی ہیش ٹیگ الهند_تقتل_المسلمين،#أنقذوا_مسلمي_كشمير،#قاطعوا_المنتجات_الهندية،#نصرة_مسلمي_الهند_واجب_شرعي کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

کشمیر میں مسلمانوں کو سرِعام زندہ جلائے جانے والی وائرل تصویر کا اسکرین شارٹ
وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ

جموں کشمیر میں آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد مقامیوں نے کافی احتجاج کیا۔ جس کے بعد مقامی لیڈروں کو نظر بند کردیا گیا۔ دوسری جانب وہاں لاک ڈان بھی لگا دیا گیا، ساتھ ہی انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کردی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ بھی کشمیر سے آئے دن کسی نا کسی واقعے کی خبر آتی رہتی ہے۔ انہی سب کی وجہ سے ان دنوں سوشل نٹورکنگ سائٹس پر مسلم ممالک کے صارفین کشمیری مسلم کی حمایت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور ان سے متعلق پرانی اور دیگر ممالک کی تصاویر کو کشمیریوں کا بتاکر خوب شیئر کر رہے ہیں۔ جن میں سے کچھ وائرل پوسٹ کو پہلے ہی نیوز چیکر کی ٹیم ڈیبنک کر چکی ہے۔

حال کے دنوں میں الشيخ عبد الرازق المهدي نامی ٹویٹر صارف نے جلتے ہوئے انسانوں کی تصویر کو شیئر کیا ہے۔ انہوں نے عربی میں تصویر کے ساتھ لکھا ہے(ترجمہ) “گائے پرستوں کے ریوڑ مسلمانوں کے ہاتھ پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر زندہ جلا دیتے ہیں” ساتھ ہیش ٹیگ میں کشمیری مسلمانوں کی جان بچانے کی اپیل بھی کی ہے۔ اس تصویر کو اردو کیپشن کے ساتھ بھی طنزیہ طور پر شیئر کیا گیا ہے۔

وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

Fact Check/Verification

کشمیر میں مسلمانوں کو سرِعام زندہ جلائے جانے کے نام پر وائرل تصویر کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ لیکن کچھ بھی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔

ہم نے جب ریورس امیج سرچ کے ساتھ کچھ کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں نیوز پاکستان نامی بلاگس پر وائرل تصویر ملی، جسے 21 اپریل 2009 میں شائع کیا گیا تھا۔ بلاگس میں دی گئی جانکاری کے مطابق تصویر پاکستان کے کراچی کے ٹیمبر مارکیٹ کی ہے۔ جہاں لوگوں کی بھیڑ نے چوری کرنے کے الزام میں 3 ڈاکؤں کو سرعام زندہ جلا دیا تھا۔

نیوز پاکستان کی پر ملی خبر کا اسکرین شارٹ

مزید سرچ کے دوران ہمیں پاکستانیت ڈاٹ کام اور ہائیٹ پوسٹ نامی ویب سائٹ پر وائرل تصویر کےساتھ رپورٹس ملیں۔ جس کے مطابق تین افراد ڈکیتی کرنے کورنگی انڈسٹریل علاقے میں گئے تھے۔ جہاں مشتعل بھیڑ نے موقع پر تینوں کو پکڑ لیا اور انہیں آگ کے حوالے کر دیا۔ اس دوران موقع پر ہی دو افراد کی موت ہوگئی جب کہ ایک ملزم کی اسپتال میں علاج کے دوران موت ہوگئی تھی۔ ملزمین کی شناخت شہزاد،عبدالرحمن اور ایک خاتون کی شکل میں کی گئی تھی۔

مذکورہ رپورٹس سے واضح ہوتا ہے کہ وائرل تصویر پرانی ہے اور پاکستان کے کراچی کی بتائی گئی ہے۔ ہم نے جب “کراچی میں ڈکیتوں کو زندہ جلایا گیا” کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں ڈان نیوز پر مذکورہ تصویر سے متعلق 15 مئی 2008 کی ایک خبر ملی۔ جس کے مطابق سمیہ کریم پلیس کی تیسری منزل پر تین ڈاکوؤں نے ڈکیتی کے بعد ایک شخص کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا، جس کے بعد مشتعل لوگوں نے تینوں ڈاکوؤں کو موقع پر پکڑ لیا اور ان کی پٹائی کرنے کے بعد انہیں آگ کے حوالے کردیا۔

ڈون نیوز پر ملی خبر کا اسکرین شارٹ

مزید سرچ کے دوران ہمیں یہی تصویر گیٹی امیجیز پر بھی دستیاب ہوئی۔ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کے شہر کرانچی میں لوگوں کے ایک ہجوم نے چوری کے الزام میں تین افراد کو آگ کے حوالے کر دیا۔ یہ واقعہ 14 مئی 2008 کو پیش آیا تھا۔ بتادوں کہ تصویر کا کریڈٹ اے ایف پی کو دیا گیا ہے۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا کہ کشمیر میں مسلمانوں کو سرِعام زندہ جلائے جانے کے نام پر وائرل تصویر کم از کم 13 سال پرانی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ تصویر کراچی کے سمیہ کریم اپارٹمنٹس میں چوری کرنے والے ڈکیتوں کو زندہ جلائے جانے کی ہے۔

Result: False Connection


Our Sources

Pakistaniat.Com

Blogs

Heightpost

Dawn

GettyImages


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular