جمعرات, دسمبر 1, 2022
جمعرات, دسمبر 1, 2022

HomeFact Checkکیا واقعی کسی بھی طرح کا ماسک کرونا کا خاتمہ کردے گا؟وائرل...

کیا واقعی کسی بھی طرح کا ماسک کرونا کا خاتمہ کردے گا؟وائرل دعوے کا پڑھیئے سچ

دعویٰ

سوشل میڈیا پر دعویٰ ہے کہ ماسک کرونا کا خاتمہ کردے گا۔

جانیئے کیا ہے وائرل دعویٰ؟

دنیا کے بیشتر ممالک کروناوائرس کی زد میں ہیں۔دوہزارانیس کے دسمبر ماہ سے اس مہلک مرض کا آغاز چین کے وہان سے ہوا۔جس کے بعد سے اب تک اس مرض کی وجہ سے سات ہزار لوگوں کی اموات ہوچکی ہے۔ہندوستان میں اب تک ایک سو چھبیس معاملے درج کئے گئے ہیں۔تین افراد کی موت بھی ہوچکی ہے۔ایسے میں ٹویٹر پرمہیندرا گروپ آف کمپنیز کے بانی آنند مہیندرا نے اپنے آفیشل ہنڈل سے ایک پوسٹ شیئر کیاہے۔جس میں انہوں نے اپنے ایک دوست کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے ایک دوست نے انہیں سب سے اچھا تحفہ عنایت کیا ہے۔جسے ہندوستانی کمپنی سُویس نے بنایا ہے۔انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید لکھا ہے کہ اس خاص ماسک کو استعمال کرنے سے کروناوائرس سے نجات مل جائے گی۔یہاں میں واضح کرتا چلوں کہ انڈیا میں اس ماسک کو لیونگ گارڈ نامی کمپنی تیار کرتی ہے۔

ہماری کھوج

ہندوستان کی سرزمین پر کروناوائرس  اپنا پیر پسار چکا ہے۔دہلی سے متصل نوئیڈا میں دو نئے مثبت کیس پائے گئے ہیں۔وہیں لائیوہندوستان کے مطابق کروناوائرس کی دہشت کے مارے نوئیڈا کے سیکٹر اٹھہتر میں رہ رہے چھ ہزار لوگوں نے اپنے گھروں میں خود کو مقید کرلیا ہے۔دوسری جانب دوکانوں میں ماسک کی قیمت آسمان چھو رہی ہے اور سینیٹائزر کا بھی  اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔

آنند مہیندرا کے دعوے کے مطابق ہم نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا۔سب سے پہلے ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ “کیا سچ میں یہ ماسک کروناوائرس کا خاتمہ کر سکتا ہے؟ اس بات کی گہرائی تک جانے کے لئے ہم نے لیونگ گارڈ کے ویب سائٹ کوکھنگالا۔جہاں ہمیں پتا چلا کہ لیونگ گارڈ کمپنی (N95)ماسک بناتی ہے۔لیکن یہ ماسک فضائی آلودگی  سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے ہے ناکہ کروناوائرس کا خاتمہ اس ماسک سے ہوگا۔

Air Purification – Livinguard AG

HVAC systems, airplane and automobile air conditioning systems, and face masks for urban/pollution, medical, and construction use: they all involve attempts to eliminate the effects of undesirable particles in the air. They generally rely on filters to block such particles. One challenge with such an approach is that pathogenic microorganisms are in the air too.

مذکورہ بالا جانکاری سے تسلی نہیں ملی تو ہم نے سوچا کیوں نہ ڈبلوایچ او کی ویب سائٹ پر جاکر اس بارے میں جاننے کی کوشش کی جائے۔توپھر ہم نے وائرل دعوے سے متعلق کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔البتہ ہم نے اپنی کھوج کے دوران ڈبلو ایچ او کے ویب سائٹ پر موجود سوال و جواب والے حصے کو پڑھا تو پتا چلا کہ اپنی حفاظت کے لئے ماسک پہن سکتے ہیں۔ساتھ ہی اگر کوئی فرد وائرس میں مبتلا شخص کی دیکھ بھال کررہاہے تو انہیں چاہیئے کہ وہ ماسک ضرور لگائیں۔اتناہی نہیں جنہیں کھانسی اور زخام کی وجہ سے چھینکیں آتی ہے تو ایسے لوگ ماسک کا استعمال ضرور کریں۔لیکن اس بات کی کوئی جانکاری نہیں ملی کہ ماسک اس مہلک مرض کا خاتمہ کردے گا۔

ادھر مشرقی ایشیاء کے ڈبلو ایچ او نے اپنے آفیشل  ٹویٹرہینڈل پر ماسک کے حوالے سے تفصیلی جانکاری فراہم کی ہے۔

WHO South-East Asia on Twitter

Are there cases of #coronavirus #COVID-19 in your country/city? Know who should wear face masks

مذکورہ بالاجانکاری سے تسلی نہیں ملی تو ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں ڈبلو ایچ او کے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو ملا۔جس میں کن افراد کو ماسک کا استعمال کرنا ہے اس کی جانکاری دی جارہی ہے۔

وائرل دعوے کی جانچ کے دوران ہم نے پایا کہ ماسک دو اقسام کے ہوتے ہیں۔

1۔ سرجیکل ماسک

2۔N95ماسک

کس کے لئے ضروری ہے سرجیکل ماسک؟

کروناوائرس کی ڈر سے ماسک لگانا سبھی کے لئے ضروری نہیں ہے۔اگر آپ کو کھانسی،زخام ہے تو ماسک کا استعمال کر سکتے ہیں۔تاکہ چھینکتے اور کھانستے وقت انفیکشن نہ پھیلے۔

کس کے لئے ضروری ہے N95ماسک؟

N95ماسک ان کے لئے ضروری ہے جو لوگ اسپتال میں کام کرتے ہیں۔کیونکہ وہاں کروناوائرس سے متاثر مریض بھی موجود ہیں۔ممکن ہے اگر ماسک کا استعمال نہ کیا تو انفیکشن ہو سکتا ہے۔اسلئے N95ماسک کا استعمال اسپتال میں لازم ہے۔

نیوزچکیر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنند مہیندرا کی جانب ماسک کے حوالے سے کیا گیا دعویٰ فرضی ہے۔ N95ماسک محض فضائی آلودگی سے بچنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔

ٹولس کا استعمال

گوگل کیورڈ سرچ

یوٹیوب سرچ

ٹویٹرایڈوانس سرچ

نتائج:جھوٹا دعویٰ

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular