منگل, دسمبر 7, 2021
منگل, دسمبر 7, 2021
HomeFact Checkاجمیر شریف درگاہ میں معجزے کے نام پر وائرل ویڈیو گمراہ کن...

اجمیر شریف درگاہ میں معجزے کے نام پر وائرل ویڈیو گمراہ کن ہے

فیس بک اور یوٹیوب پر اجمیر شریف درگاہ کا ایک ویڈیو شیئر کیا جا رہا۔ اس ویڈیو سے متعلق صارفین کا دعویٰ ہے کہ “نماز عشاء کے بعد اجمیر شریف درگاہ کے گنبد پر روشنی کا منظر دیکھا گیا۔ سبحان اللہ۔ بتادوں کہ اس ویڈیو کو ہندی کیپشن کے ساتھ بھی خوب شیئر کیا گیا ہے۔ اس واقعے کو 18 ستمبر کی رات کا بتایا جا رہا ہے۔

کراؤڈ ٹینگل پر جب ہم نے “کل رات نماز عشاء گنبد شریف” سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر محض پچھلے 7 دنوں میں 4,105 فیس بک صارفین تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔

اجمیر شریف درگاہ میں معجزے کے نام پر وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹس
اجمیر شریف درگاہ میں معجزے کے نام پر وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹس

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک یہاں اور یہاں دیکھیں۔

اجمیر درگاہ کی ساکھ ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہے۔ یہ درگاہ راجستھان کے اجمیر شہر میں واقع ہے۔اس درگاہ کا تعلق حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ سے ہے۔ ان کے ماننے والوں میں مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم و سیاسی لیڈران کی بھی ایک کثیر تعداد ہے جو اکثر درگاہ پر جا کر اپنی عقیدت پیش کرتے رہتے ہیں۔

بہت سارے کرشمائی واقعات اس درگاہ سے اور حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک ویڈیو ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ جسے کرشمائی بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ اسے شیئر کر رہے ہیں۔

Fact Check/ Verification

اجمیر شریف درگاہ میں کرشمائی روشنی کے نام پر وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے ہم نے ہندی اور اردو میں “اجمیر شریف درگاہ میں چمتکار”(معجزہ) کیورڈ کی مدد سے یوٹیوب پر سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں کئی یوٹیوب ویڈیوز ملے، جن میں درگاہ پر نظر آرہی روشنی کو معجزہ بتایا گیا ہے۔

مذکورہ سرچ کے دوران ہمیں ایس کے ٹالک ولوگس نامی یوٹیوب چینل پر 19 سیکینڈ کا اپلوڈ شدہ ایک ویڈیو ملا۔ جس کے 11 سیکینڈ کے بعد دیکھنے سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ویڈیو کے ساتھ کیا گیا دعوی گمراہ کن ہے۔

ویڈیو کے 11 سیکینڈ کے بعد جب درگاہ میں گنبد کے ذریعے کسی غیبی قوت کے داخل ہونے کا دعوی کیا گیا ہے، اسی وقت درگاہ کے ارد گرد لگی لائیٹوں میں بھی غیر معمولی حرکت دیکھنے کو ملتی ہے۔ جسے آپ درج ذیل میں کی گئی نشاندہی میں دیکھ سکتے ہیں۔

سرچ کے دوران ہمیں لائیو اجمیر نیوز نامی یوٹیوب چینل پر واِئرل ویڈیو سے متعلق ایک خبر ملی۔ جس میں چینل کے ایڈیٹر محمد نواز خان کی درگاہ کمیٹی کے ممبر سے ہوئی بات چیت بھی سنی جا سکتی ہے۔بتادوں کہ درگاہ کمیٹی کے ممبرس نے مذکورہ دعوے کو فرضی بتاتے ہوئے وائرل ویڈیو کو ایڈیٹیڈ بتایا ہے۔

مزید جانکاری کے لئے جب ہم نے صحافی محمد نواز خان سے فون پر رابطہ کیا اور مذکورہ ویڈیو کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ “ایسے تو درگاہ آنے والے عقیدت مندوں کے ہزاروں قصے عام ہیں، لیکن وائرل ویڈیو میں دکھائی جا رہی روشنی کسی بھی طرح کا معجزہ نہیں ہے، بلکہ ویڈیو ایڈیٹیڈ ہے یا بارش کی وجہ سے اس طرح کی روشنی کیمرے میں قید ہوئی ہے”۔

اجمیر شریف درگاہ کمیٹی نے معجزاتی ویڈیو کو بتایا فرضی

کیورڈ سرچ کے دوران ہمیں درگاہ کمیٹی درگاہ خواجہ صاحب اجمیر کی جانب سے شیئر کیا گیا ٹویٹ اور فیس بک پوسٹ ملا۔جس میں اجمیر شریف درگاہ کے گنبد پر کرشمائی روشنی کے نام پر شیئر کئے جا رہے دعوے کو فرضی بتایا گیا ہے۔

وائرل ویڈیو کے سلسلے میں مزید معلومات کے ٖلئے ہم نے درگاہ کے نائب ناظم ڈاکٹر عادل سے رابطہ کیا۔ بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ اجمیر شریف درگاہ میں کرشمائی روشنی کے نام پر شیئر کیا جا رہا دعویٰ فرضی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درگاہ میں ہوئے معجزات و کرامات سے متعلق کئی عقیدت مندوں نے اپنا تجربہ بیان کیا ہے۔ لیکن جو روشنی والا دعویٰ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے وہ سراسر غلط ہے۔انہوں نے دنیا بھر کے عقیدت مندوں سے جھوٹی خبر شیئر نہ کرنے کی اپیل بھی کی۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اجمیر شریف درگاہ میں کرشمائی روشنی کا حوالہ دے کر شیئر کیا گیا ویڈیو ایڈیٹیڈ ہے اور غلط ہے۔


Result: Misleading


Our Sources

YouTube

Tweet

Facebook

Dr Adil, Assistant Nazim, Dargah Ajmer Sharif


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular