منگل, دسمبر 6, 2022
منگل, دسمبر 6, 2022

HomeFact Checkکیا سچ میں جنتا کرفیو سے کرونا وائرس کا ہو جائے گا...

کیا سچ میں جنتا کرفیو سے کرونا وائرس کا ہو جائے گا خاتمہ۔پڑھیئے وائرل دعوے کا سچ

دعویٰ

واہٹس ایپ پر دعویٰ کیا جارہاہے کہ جنتا کرفیو سے کرونا کا اثر ختم ہو جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بائیس مارچ کو صبح سات بجے سے رات کے نوبجے تک ۱۴گھنٹے کا جنتا کرفیوں لگانے کی اپیل اس لئے کیا ہے کہ اتنے دیر میں کرونا وائرس کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔

جانئے کیا ہے وائرل دعویٰ

ملک بھر میں کروناوائرس کے بڑھتے معاملے کے پیش نظر پی ایم مودی نے بائیس مارج کو جنتاکرفیوں کا اعلان کیا ہے۔جس میں انہوں نے ہندوستانی عوامی سے اپیل کی ہے کہ آج یعنی ۲۲ مارج کو گھر سے باہر بالکل بھی نہ نکلیں۔دعویٰ کیا جارہاہے کہ مہلک کروناوائرس کی عمر محض بارہ گھنٹے ہوتا ہے۔ اس طرح متاثرہ علاقہ 14 گھنٹوں تک اچھوتا رہے گا۔جس سے یہ وائرس دوسروں تک نہیں پہنونچ سکے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ملک اس مرض سے پاک پوجائےگا۔وہیں اس مسیج کو دیگر لوگوں کو بھیجنے کی اپیل بھی کیاگیا ہے۔ساتھ ہی اس کام کے لئے پی ایم مودی کو سراحا بھی جارہاہے۔

“یہ وہی ہے جو پی ایم مودی ہمیں بائیس فروری دوہزار بیس کے شام پانچ بجے سے5.05بجے تک کرنے کے لئے کہتے ہیں”

ہماری کھوج

اس وقت ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک اس مہلک مرض  سے جوجھ رہاہے۔ہندوستا کی سیاسی پارٹیاں اور مشہورہستیاں سمیت دیگر لوگ کووڈ۔۱۹ کے خلاف لڑائی میں ایک جٹ ہیں۔کروناوائرس کے مدنظر پی ایم مودی بیس مارچ کی رات آٹھ بجے قوم کے نام خطاب کیا تھا اور ۲۲مارچ کو کروناوائرس سے بچاؤ کے لئے ہندوستانی عوام سے جنتا کرفیوں کی اپیل کی تھی۔

 سبھی طرح کے وائرل پوسٹ اور پی ایم مودی کے خطاب کو سننے کے بعد ہم نے اپنی تحقیقات شروع کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا کروناوائرس محض ایک مقام پر بارہ  گھنٹے تک زندہ رہتا ہے؟اس کی سچائی جاننے کے لئے سب سے پہلے ہم نے ڈبلو ایچ اوکے آفیشل ویب سائٹ کو کھنگالا۔جہاں ہمیں پتا چلا کہ ڈبلوایچ او اس کے زندہ رہنے کے وقت کا ذکرکہیں بھی نہیں کیا ہے۔یہ وائرس کتنے وقت تک زندہ رہےگا وہ بھی نہیں بتایا ہے۔البتہ یہ ضرور واضح کیاگیا ہے کہ نوول کروناوائرس ایک خاندان سے دیگر وائرس کی طرح اثر کرتا ہے۔درج ذیل کی تصویر میں آپ خود دیکھ سکتے ہیں۔

بقیہ آپ ڈبلو ایچ او کے سوال و جواب والے کالم میں جاکر خود جانکاری حاصل کر سکتے ہیں۔

 اب ہم نے کروناوائرس سے متعلق دیگر مختلف وائرس کے بارے میں جاننے کے لئے کچھ کیورڈس کی مدد لی۔اس دوران ہمیں ایک کتاب ملی۔جس کی ہیڈ لائن کچھ طرح تھی۔

“CORONAVIRUS RESEARCH: KEYS TO DIAGNOSIS, TREATMENT, AND PREVENTION OF SARS”

یہ رپورٹ سارس وائرس کے بارے میں بہت کچھ بتارہی ہے۔ڈبلو ایچ او نے واضح کیا ہے کہ نوول کروناوائرس و دیگر کروناوائرس ایک جیسا کام کرتا ہے۔ہم نے نوول کروناوائرس کی زندگی کے بارے میں جاننے کے لئے اس رپورٹ کوثبوت کے طور پر لیا ہے۔حالانکہ یہ اب تک پتا نہیں چل سکا کہ نوول کروناوائرس دیگر کروناوائرس کے مانند ہی ہوگا یا نہیں۔

CORONAVIRUS RESEARCH: KEYS TO DIAGNOSIS, TREATMENT, AND PREVENTION OF SARS

For coronavirus investigators, the recognition of a new coronavirus as the cause of severe acute respiratory syndrome (SARS) was certainly remarkable, yet perhaps not surprising (Baric et al., 1995). The cadre of investigators who have worked with this intriguing family of viruses over the past 30 years are familiar with many of the features of coronavirus biology, pathogenesis, and disease that manifested so dramatically in the worldwide SARS epidemic.

اس مسئلے پر مزید جانکاری کے لئے کھوج کے دوران ہمیں لائیوسائنس کی ایک رپورٹ ملی۔جو اس مسئلے پر بہتر جانکاری فراہم کررہی ہے اور نوول کروناوائرس  کی حقیقت بھی بیان کررہی ہے۔جسے آپ نیچے پڑھ سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا رپورٹ کے مطابق نوول کروناوائرس ہوا میں محض تین گھنٹے تک رہتا ہے۔تامبے کی چیزوں پر چار گھنٹے،کیبورڈ پرچوبیس گھنٹے تک اور پلاسٹک،اسٹینل لیس اسٹیل پر۷۲ گھنٹے تک رہتا ہے۔رپورٹ سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس کی زندگی گیارہ مارچ کو میڈرکسیو نے جو اس مسئلے پر اسٹڈی کی تھی اسی کا نتیجہ ہے۔

Advancing the sharing of research results for the life sciences

medRxiv (pronounced “med-archive”) is a free online archive and distribution server for complete but unpublished manuscripts (preprints) in the medical, clinical, and related health sciences. Preprints are preliminary reports of work that have not been certified by peer review.

 ان سبھی تحقیقات کے باوجود ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا کروناوائرس کا اثر بارہ سے چودہ گھنٹہ تک باقی رہتا ہے یا نہیں؟ اس دوران ہمیں دی نیویورک ٹائمس کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق مختلف حالات میں نوول کروناوائرس کی تفصیلی بات کی گئی ہے۔جسے آپ درج ذیل میں کلک کرکے پڑھ سکتے ہیں۔

دی نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع دی نیویارک ٹائمس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یہ وائرس کارڈ بورڈ پر ایک دن کے اندر اندر پھیل جاتا ہے۔جس کی وجہ سے ممکن ہے صارفین کو اس کا نقصان پہنچے۔

null

Our apologies. An error occurred while setting your user cookie. Please set your browser to accept cookies to continue. NEJM.org uses cookies to improve performance by remembering your session ID when you navigate from page to page. This cookie stores just a session ID; no other information is captured.

تحقیقات کے دوران ہمیں میڈیکل نیوز ٹوڈے کی ایک رپورٹ بھی ملی۔جس کے مطابق کروناوائرس کمرے کی درجہ حرارت  کے حساب سے نو دنوں تک رہتا ہے۔

null

Our apologies. An error occurred while setting your user cookie. Please set your browser to accept cookies to continue. NEJM.org uses cookies to improve performance by remembering your session ID when you navigate from page to page. This cookie stores just a session ID; no other information is captured.

 

ہم نے جنتاکرفیو کے سلسلے میں سرکاری بیان کی بھی پڑتال کی۔اس دوران ہمیں پتاچلا کہ کووڈ ۱۹ سے بچنے کے لئے پی ایم مودی نے بہتر طریقہ بتایا ہے کہ لوگ بائیس اپریل کو جنتا کرفیو کا پالن کرے۔

نیوزچیکرکی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔البتہ نوول کروناوائرس کتنے وقت تک رہتا ہے اس بارے میں کچھ بھی جانکاری فراہم نہیں ہوئی۔حالانکہ کھوج کے دوران ہمیں مختلف رپورٹ سے پتا چلا کہ کروناوائرس کے سلسلے میں الگ الگ رائے پیش کی گئی ہے۔ریسرچ میں یہ بھی پتا چلا کہ پی ایم مودی نے کروناوائرس کوپھیلسے سے بچنے کے لئے جنتا کرفیو کا اعلان کیا تھا۔

ٹولس کا استعمال

گوگل سرچ

اسٹڈیز

ری سرچ رپورٹ

نتائج:گمراہ کن

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular