منگل, دسمبر 6, 2022
منگل, دسمبر 6, 2022

HomeFact CheckNewsپاکستانی فیس بک پیج سے انڈین آرمی پر بنی شارٹ فلم کو...

پاکستانی فیس بک پیج سے انڈین آرمی پر بنی شارٹ فلم کو چینی فوج سے جھڑپ کا بتاکر کیاگیا شیئر!پڑھیئے وائرل دعوے کا سچ

دعویٰ

انڈیا کی بربادی شروع ہوچکی ہے۔لداخ میں ہوئے چینی اور انڈین آرمی کے درمیان جھڑپ کا ویڈیو وائرل ہوگیا ہے۔حالات دیکھ لو جو چین نے انڈیا والو کے ساتھ کیا ہے۔

تصدیق

لداخ میں بھارت اور چین کشیدگی کے بیچ سوشل میڈیا پر گذشتہ کچھ دنوں سے انڈین اور چینی آرمی کے درمیان ہوئی جھڑپ کو لے کر فرضی خبروں کا تانتاں لگا ہوا ہے۔چینی آرمی سے جھڑپ کے بعد فیس بک پر اکاون سیکینڈ کا ایک ویڈیو خوب وائرل ہورہا ہے۔جس میں فوجی جوان اپنے ساتھی کو گود میں لے کر رو رہا ہے اور اسی درمیان گود میں جوان کی موت ہوجاتی ہے۔اس ویڈیو کو فیس بک پر متعدد پاکستانی یوزرس نے شیئر کیا ہے۔جس کا آرکائیو درج ذیل ہے۔

خبرگام ،پاک ٹی وی اور عاقب حسین نامی فیس بک پیج پر مذکورہ دعوے کے ساتھ ویڈیو شیئر کیاگیا تھا۔خبر گام کے پوسٹ کو ہمارے آرٹیکل لکھنے تک ترپن سو لوگ دیکھ چکے تھے۔جبکہ ایک سو تہتر افراد نے لائک اور ایک سوبیالیس نے شیئر کیاتھا۔وہیں عاقب حسین اور پاک ٹی وی کے پوسٹ کو بھی متعدد افراد نے دیکھا اور شیر کیا ہے۔

خبرگام کے پوسٹ کاآرکائیو لنک۔

پاک ٹی وی کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

عاقب حسین آرین کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

ہماری پڑتال

وائرل ویڈیو کو دیکھنے اور پوسٹ کو پڑھنے کے بعد ہم نے ابتدائی تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کا اویسم اسکرین شارٹ لیا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں اسکرین پر وائرل ویڈیو کے دو کیفریم نظر آرہےہیں۔جسے آپ بھی اسکرین شارٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔

جب ہم نے مذکورہ تصاویر پر کلک کیا تو فیس بک اور شیئرچیٹ کا لنک فراہم ہوا۔جس میں پلوامہ اٹک کے حوالے سے لکھا ہے۔یہاں ایک بات اور واضح کردوں کہ وائرل ویڈیو کا گانے اور شیئر چیٹ کے ویڈیو کے گانے مختلف ہیں۔کلک کرکے دونوں ویڈیو کو آپ خود سنیں۔

https://sharechat.com/video/m6MREzX?referrer=tagFreshFeedItemView

شیئر چیٹ اور وائرل ویڈیو کو جب ہم نے غور سے دیکھا تو وائرل ویڈیو کے اسکرین کے نچلے حصے پر تینوں افواج کے ‘لوگو’ لگا ہوا تھا۔جبکہ شیئر چیٹ پر جو ویڈیو ہمیں ملا اس کے اوپری حصے میں “یو ویڈیو”(U video) اور آئی ڈی نمبر لکھا ہوا نظر آیا۔جو صحیح سے سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔تو ہم نے اس ویڈیو کے حوالے سے یوٹیوب پر کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں چار مہینہ پہلے یوٹیوب پر اپلوڈ کیا گیا ایک ویڈیو ملا۔جس کے کیپشن میں “چودہ فروری کا پلوامہ اٹیک ” لکھا ہوا تھا۔یہاں واضح ہوگیا کہ اس ویڈیو کو پہلے بھی مختلف دعوے کے ساتھ شیر کیا جاچکا ہے۔البتہ یہ ویڈیو چار مہینے سے زیادہ پراناہونا ممکن ہے۔

سبھی تحقیقات کے باوجود ہم نے وائرل ویڈیو کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے یو ویڈیو پرآئی ڈی نمبر اور نام سرچ کیا۔جہاں ہمیں وائرل ویڈیو آنند کمار راٹھور نامی یوزر کے وال پر تین حصوں میں ملا۔پہلا ویڈیو بائیس سیکینڈ،دوسرا چھبیس سیکینڈ اور تیسرا جو وائرل کیاجارہا ہے وہ چھپن سیکینڈ کا ہے۔پورے ویڈیو کو دیکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کسی اسکولی پروگرام کا ہے۔جہاں کسی خاص موقع پر آرمی کے خدمات کے پیش نظر ڈرامہ پیش کیا گیا ہے۔

تینوں ویڈیو کا ‘یو ویڈیو’ ورزن یک بعد دیگرے کو ویڈیو فارمیٹ میں نیچے دیکھ سکتے ہیں۔جس کے ایک ویڈیو میں “اب تم دن کا سورج دیکھو”والا گانا چل رہا ہے اور وارل والے میں “اس مٹی کا اپنا قرض چکاؤ”والا گانا چل رہا ہے۔

پہلا ویڈیو

https://s.uvideo.in/pec1pwVq

دوسرا ویڈیو

https://s.uvideo.in/cHdDjD3a

تیسرا اور وہ حصہ جو وائرل ہورہا ہے۔

https://s.uvideo.in/cwJXxO4B

مذکورہ ویڈیو سے صاف واضح ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا گیا ہے اور یہ ویڈیو چینی اور ہندوستانی فوج کے درمیان گلوان میں ہوئے جھڑپ کا نہیں ہے۔بلکہ اسکولی یا دیگر ڈرامائی پروگرام کا ہے۔ویڈیو کو دیکھنے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آرمی پر بنی چھوٹے بجٹ کا فلم ہے۔پھر ہم نے وائرل ویڈیو کو آنند کے ویڈیو کے بیک گراؤنڈ میں چل رہے گانے کے بارے میں تحقیق کیا۔اس دوران ہمیں پتا چلا کہ ‘چائنا گیٹ’ نامی فلم کا گانا آنند کے پوسٹ والے ویڈیو کا ہے۔جبکہ وائرل ویڈیو میں جو گانا لگا ہے وہ دراصل پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پڑھا گیا ہے۔دونوں کے لنک پر کلک کرکے آپ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی نیوزچیکر کی ٹیم نے چین اور بھارت کے نام پر وائرل ہورہے ویڈیو کی سچائی کی تصدیق کرچکی ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل کسی شارٹ فلم یا ثقافتی پروگرام کا ہے۔جس کے ایک حصے کو فرضی دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر عوام کو گمراہ کرنے کے لیے شیئر کیاگیا ہے۔واضح رہے کہ اس ویڈیو کا لداخ میں ہوئی جھڑپ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ٹولس کا استعمال

انوڈ سرچ

ریورس امیج سرچ

کیورڈ سرچ

یوٹیوب سرچ

فیس بک ایڈوانس سرچ

شیئرچیٹ سرچ

یوویڈیو سرچ

نتائج:فرضی دعویٰ

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular