بدھ, اکتوبر 5, 2022
بدھ, اکتوبر 5, 2022

HomeFact CheckWeekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی چند اہم وائرل پوسٹ کے حوالے...

Weekly Wrap:پانچ منٹ میں ہفتے کی چند اہم وائرل پوسٹ کے حوالے سے پڑھیں ہماری تحقیقات

ہفتہ واری خبر (Weekly Wrap) میں آج کچھ ایسے وائرل دعوےکی حقائق کو سامنے رکھیں گے ۔جو اس ہفتے سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا ہے۔درج ذیل میں یک بعد دیگرے اسٹوری کو ملاحظہ فرمائیں۔

کنیڈا کے ویڈیو کو فرانس سے جوڑکر سوشل میڈیا پر کیوں کیاجارہاہے شیئر؟

خاتون پر تشدد کے ویڈیو کو فرانس کا بتاکر سوشل میڈیا پر شیئر کیاگیاتھا۔جبکہ وائرل ویڈیو کافرانس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔بلکہ یہ ویڈیو کنیڈاکے کیلگری شہر کا ہے۔جہاں مجرم خاتون کو کانسٹیبل الیکس ڈن نے اپنے تشدد کا شکار بنایا تھا۔

پوری خبر یہاں پڑھیں۔

کیاسچ میں پاکستان میں نابالغ ہندو لڑکی کی شادی بوڑھے شخص سے کی گئی ہے؟

سوشل میڈیا پر دعویٰ کیاجارہاہے کہ پاکستان میں بوڑھے شخص سے نابالغ بچی کی شادی جبراً کی گئی ہے۔جبکہ وائرل تصویر کا پاکستان اور لوجہاد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔یہ تصویر بنگلہ دیش میں نوعمر کارکنان کی ہے جو ایک تنظیم کے ذریعے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کو روکنے کے لئے کام کر تے ہیں۔

پوری خبر یہاں پڑھیں۔

کیا برقعہ پہنے ہوا شخص کویت کے راستے پاکستان سے بھارت آیا ہے؟

برقعہ پہنےہوا شخص شراب اسمگلر ہے۔جسے آندھراپردیش کے کرنول ضلع کی پولس نے شراب اسمگلنگ کرتے ہوئے پکڑا تھا۔اس ویڈیو کا پاکستان یا کویت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے

یہاں پڑھیں پوری پڑتال۔

کیا واقعی آسام کے کانگریس لیڈر ہتھیاروں کے ساتھ پکڑاگیاہے؟ 

سوشل میڈیا پر دعویٰ کیاجارہاہے کہ آسام کے کانگریس لیڈر ہندؤ کے خاتمے کا سازش رچ رہاہے۔جبکہوائرل تصاویر میں نظر آرہا شخص بنگلہ دیشی مولانا ہے۔جسے نابالغ بچی سے عصمت ریزی کے الزام میں گرفتا ر کیاگیا ہے۔اس تصویر کانگرس لیڈر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔وہیں دوسری ہتھیار والی تصویر جموں کشمیر کے شرینگر کی ہے۔

یہاں پڑھیں پوری تحقیق۔

کیاواقعی بہار میں 9فوجی جوان سڑک حادثے میں ہوگئے ہیں شہید؟

سوشل میڈیا پر دعویٰ کیاجارہاہے کہ بہار میں ڈیوٹی پر جارہے بی ایس ایف کے 9 نوجوان سڑک حادثے میں شہید ہوگئے ہیں۔جبکہ یہ خبر فرضی ہے۔حادثے میں کوئی بھی فوجی جوان شہید نہیں ہوا ہے بلکہ ڈرائیور سمیت 10 زخمی ہوئے ہیں۔

یہاں پڑھیں پوری تحقیق۔

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular