بدھ, اکتوبر 27, 2021
بدھ, اکتوبر 27, 2021
HomeUrduکیا سچ میں یونیسیف نے کروناوائرس کے سائز کولے کر جاری کیا...

کیا سچ میں یونیسیف نے کروناوائرس کے سائز کولے کر جاری کیا میڈیکل رپورٹ؟سچ ہے یا افواہ؟ پڑھیئے ہماری تحۡقیق

دعویٰ

یونیسیف نے کروناوائرس کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ جاری کیا ہے۔جس میں انہوں نے وائرس کا سائز ۴۰۰ سے ۵۰۰مائکروقطرہ بتایا ہے۔

تصدیق

سوشل میڈیا پر ان دنوں یونیسیف کے تعلق سے ایک خبر خوب گردش کررہی ہے۔دعویٰ کیا جارہاہے کہ یونیسیف نے کروناوائرس کے سائز کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے۔جس میں انہوں وائرس کا جسامت۴۰۰سے ۵۰۰مائکروقطرہ شمار کیا ہے۔بقیہ آپ درج ذیل میں پڑھ سکتے ہیں۔

ہماری کھوج

کروناوائرس (کووڈ۱۹) سے ہندستان سمیت دیگر کئی ممالک متاثر ہیں۔وہیں ان دنوں سوشل میڈیا پر کروناوائرس کے حوالے سے یونیسیف کی جعلی رپورٹ اردو سمیت دیگر زبانوں میں بھی خوب گردش کررہی ہیں۔حالانکہ گزشتہ دنوں نیوزچیکر نے اس حوالے سے فیکٹ چیک شائع کرچکا ہے۔لیکن اردو میں بھی وائرل ہورہی اس خبر کو ہم نے اپنے طور پر تحقیقات شروع کی۔سب سے پہلے ہم نے وائرل دعوے کو گوگل کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں یونیسیف کے ویب سائٹ پر اس حوالے کسی بھی طرح کی کوئی خبر نہیں ملی اور نا ہی کوئی ایڈوائزری ملی۔اس حقیقت کو جاننے کے لئے آپ بھی اس لنک پر کلک کر کے جانکاری حاصل کر سکتے ہیں۔

یہاں واضح ہو چکا کہ یونیسیف نے ایسی کوئی جانکاری فراہم نہیں کی تو ہم نے  سوچا کیوں نا آپ کو کروناوائرس(کووڈ ۱۹) کے سائز کے بارے میں بتا دیں۔

 

پہلی جانکاری:

کروناوائرس کا سائز بڑا ہوتا ہے(400-500) اس لئے یہ کسی بھی نارمل ماسک سے رک جاتا ہے۔اس کے لئے کسی خاص ماسک کی ضرورت نہیں۔

فیکٹ:

کروناوائرس کے سائز پر ریسرچ چل رہی ہے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کتنے مائیکرون کا ہے۔حالانکہ ماسک کونسا اور کب اسستعمال کرنا ہے اس کی جانکاری ڈبلو ایچ او نے شائع کیا ہے۔جسے آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانکار:

یہ وائرس ہوا میں نہیں پھیلتا ہے۔لیکن زمین پر زندہ رہتا ہے۔کسی بھی طرح کے دھاتو پریہ وائرس بارہ گھنٹے اورکپڑوں پر نو گھنٹے زندہ رہتا ہے۔اس لئے کپڑوں کو روز دھوئیں۔

فیکٹ

ڈبلوایچ او کے مطابق یہ اب تک واضح نہیں ہوسکا ہے کہ یہ وائرس جسےکووڈ۱۹کہا جاتا ہے وہ کن سامانوں پر کتنا دیر رہتا ہے۔ایسا مانا جارہاہے کہ یہ وائرس دیگر کروناوائرس کی طرح ہے۔ایسے میں یہ وائرس کسی بھی چیز پر کچھ گھنٹے یا کئی دنوں تک بھی زندہ رہ سکتا ہے۔حالانکہ اس کے بارے میں نیوزچیکر پر پہلے بھی مضمون شائع ہوچکا ہے۔جسے آپ یہاں کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

تیسری جانکاری:

یہ وائرس 26-27 C درجہ حرارت میں مر جاتا ہے کیونکہ یہ گرم علاقوں میں نہیں رہتا۔

فیکٹ:

عام طور پر وائرس درجہ حرارت کو بڑھتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔لیکن یہ نہیں پتا چل پایا ہے کہ آخر کتنے ڈگری درجہ حرارت سے نوول کروناوائرس کا خاتمہ ہوتا ہے۔پانی کے غرارے کا بھی کہیں سے ثبوت نہیں ملتا ہے۔

چوتھی جانکاری:

ٹھنڈ چیزیں جیسے کہ ٹھنڈے پانی اور آئسکریم بلکل نا کھائیں اور بچوں کو اس سے دور رکھیں۔

فیکٹ:

کھانسی زخام ہونے پر ڈاکٹر کی جانب سے عام طور پر صلاح دی جاتی ہے کہ ٹھنڈی چیزییں کھانے سے گریز کریں۔لیکن ڈبلو ایچ او نے ایسا کچھ کھانے سے منع نہیں کیا ہے۔

سبھی طرح کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ واہٹس ایپ،فیس بک اور ٹویٹر پر پھیلائی گئی جانکاری سراسر غلط ہے۔عوام کو گمراہ کر نے کے لئے اس طرح کی جعلی خبریں وائرل کی جارہی ہیں۔کروناوائرس سے جڑی تمام خبریں آپ ڈبلو ایچ او کے ویب سائٹ پر پڑھ سکتے ہیں۔

نیوزچیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ  یونیسیف کے حوالے سے کروناوائرس کو لے کر کیا گیا دعویٰ فرضی ہے۔

ٹولس کا استعمال

گوگل کیورڈ سرچ

نتائج:فرضی دعویٰ

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Rajneil began his career in Google with Adwords Content Operations, moved to sales and then to Public Policy and Government Affairs. During his tenure at Google, he got a first-person view of content policy, community guidelines, product policy, and other public policy issues. Post his stint at Google, he founded a technology company before establishing Newschecker. He calls himself a product of the internet and mobile era and is determined to combat disinformation online. He looks after the day to day affairs and management of the organisation and does not participate in the editorial decisions of Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular