پیر, مئی 16, 2022
پیر, مئی 16, 2022

HomeUrduبہار جے ڈی یو کارکن 'خلیل رضوی' کے اہل خانہ نے کہا...

بہار جے ڈی یو کارکن ‘خلیل رضوی’ کے اہل خانہ نے کہا قتل کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لیے بنائی گئی ویڈیو

پولس کے سمستی پور کے ایک مقامی جے ڈی یو لیڈر خلیل عالم رضوی کی نیم جلی ہوئی لاش برآمد کرنے کے بعد ایک ویڈیو انوراگ جھا نامی انسٹاگرام ہینڈل سے پوسٹ کیا گیا۔ جس میں مبینہ طور پر گائے کا گوشت کھانے کی وجہ سے ان کے ساتھ بدسلوکی و حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وائرل ویڈیو نے خلیل رضوی کی موت پر سوال کھڑے کر دیئے ہیں، جس کے بارے میں اب تک یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ اغوا برائے تاوان کی ایک ناکام کوشش تھی۔

کیا مذہبی بنیاد پر ہوا خلیل کا قتل؟

ویڈیو کے آن لائن پوسٹ ہوتے ہی کئی صحافیوں و دیگر لوگوں نے بھی اسے شیئر کرنا شروع کر دیا، اس ویڈیو میں 34 سالہ رضوی پر مسری گھراری میں گائے کا گوشت کھانے کو لے کر سوالات کے جوابات دینے کے لئے دباؤ ڈالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جو لوگ ویڈیو بنا رہے ہیں وہ انہیں مارنے سے پہلے گائے کا گوشت کھانے پر گالیاں دیتے ہوئے بھی سنائی دے رہے ہیں۔

جو لوگ اس ویڈیو کو آن لائن شیئر کر رہے ہیں ان کا ماننا ہے کہ یہ واضح اشارہ ہے کہ ان کا قتل گائے کے گوشت کے استعمال کی وجہ سے کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ اس قتل کو دیگر واقعات سے بھی جوڑ رہے ہیں، جیسے کہ مسلمانوں پر حال میں ہوئے ظلم و ستم اور اس وقت چل رہے حجاب معاملہ جس نے اقلیتی طبقے میں مذہبی حقوق اور مذہب پر عمل کرنے کی آزادی تشویش پیدا کئے ہوا ہے۔

دریں اثناء اپوزیشن نے اسے ریاست میں امن و امان میں ہو رہی گراوٹ کی واضح علامت قرار دیا ہے۔

لیکن کیا یہ دعویٰ سچ ہے کہ رضوی کو گائے کا گوشت کھانے کی وجہ سے قتل کیا گیا؟ فی الحال یہ معاملہ دعووں اور جوابی دعووں کی دلدل میں الجھا ہوا ہے۔

پورے واقعے کا مجموعہ

خلیل رضوی کے بھائی محمد ستارہ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق رضوی 16 فروری کی صبح اپنے گھر سے نکلے تھے. لیکن شام تک گھر واپس نہیں آئے۔ ان کی بیوی کو اس رات ایک نہیں بلکہ تین بار تاوان کی کالیں آئیں، جس میں اغوا کاروں نے اہل خانہ سے رقم کا مطالبہ کیا، اور رقم نہ دینے پر انہیں قتل کرنے کی دھمکی دی۔

انہوں نے تاوان کی تین کالیں کیں، پہلے انہوں نے 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا، پھر کال کاٹ دی اور اپنا فون بند کر دیا۔ انہوں نے بعد میں دوبارہ کال کی اور فوری طور پر 2,75,000 روپے کا مطالبہ کیا اور بعد میں اس رقم کو دوبارہ 50،000 روپے کر دیا، جو وہ فوری طور پر چاہتے تھے۔ اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ کیا، لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

سمستی پور پولیس کے گرفتار کئے گئے ملزمین میں سے ایک وِپل جھا نے 16 فروری کی رات خلیل رضوی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

مقتول کے بھائی کی جانب سے 17 فروری کو مسری گھراری پولس اسٹیشن میں اغوا اور تاوان کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ اغوا کاروں نے خلیل رضوی کی اہلیہ سے 2,75,000 روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس شکایت کی بنیاد پر ہم نے تحقیقات شروع کی اور جلد ہی لاش برآمد کرنے میں کامیاب ہو گئے، جسے شناخت چھپانے کے لئے آدھا جلا کر دفنا دیا گیا تھا۔

اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جنہوں نے انکشاف کیا کہ مقتول نے ان سے پیسے لیے تھے۔ رقم واپس نہ ملنے پر انہوں نے رقم حاصل کرنے کے لیے اسے اغوا کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اسے مارا پیٹا، جس دوران اس کی موت ہوگئی”۔

Press release by Bihar Police on the incident


وائرل انسٹاگرام پوسٹ

مقامی میڈیا نے قتل کو اغوا برائے تاوان کے طور پر 21 فروری کی رات تک رپورٹ کیا تھا، جب تک کہ ایک انسٹاگرام پوسٹ منظر عام پر نہیں آئی تھی، جس میں مقتول کے ساتھ بدسلوکی اور حملے کو دکھایا گیا تھا۔ اس ویڈیو نے سب کو حیرانی میں ڈال دیا۔ پولیس کے مطابق انوراگ جھا کے خلاف اپنے انسٹاگرام پیج پر ویڈیو پوسٹ کئے جانے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو اس معاملے کا ایک ملزم ہے۔

پولس کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ کشن کمار جھا جو کہ مرکزی ملزموں میں سے ایک ہے، نے خلیل رضوی کے اغوا اور قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویڈیو آن لائن پوسٹ کرنے کے پیچھے اصل مقصد خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا تھا۔ جو انہیں ریاست چھوڑنے کا موقع فراہم کرتا۔

The Instagram post by Anurag Jha

‘مذہبی رنگ دینے کے لئے ویڈیو آن لائن پوسٹ کی گئی’

وائرل ویڈیو کے متعلق نیوز چیکر سے بات کرتے ہوئے ایس پی نے بتایا کہ “ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس سے بہت زیادہ غلط معلومات پھیل رہی ہیں۔ اس ویڈیو سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جرم گائے کو لے کر ہوا ہے۔ لیکن پڑتال کے دوران ملزمین کی طرف سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے یہ ویڈیو اس لئے ریکارڈ کی تاکہ اس معاملے کو فرقہ وارانہ موڑ دے کر تفتیش کو ایک نیا رخ دیا جا سکے۔

وائرل ویڈیو کے بارے میں نیوز چیکر سے بات چیت کے دوران خلیل رضوی کے بھائی محمد ستارہ نے کہا “ہم نے ویڈیو کو پرسوں دیکھا جب اسے آن لائن پوسٹ کیا گیا تھا۔ یہ جرم کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور معاملے کو سیاسی موڑ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے”۔

نیوز چیکر نے ملزم کشن کمار کے والد مانی کانت جھا سے بھی رابطہ کیا، انہوں نے بھی یہی کہا کہ “افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس معاملے میں کوئی فرقہ وارانہ رنگ نہیں ہے۔ یہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ رہتے ہیں۔ میرا بیٹا مقتول کو جانتا تھا، اور اس پر میرے بیٹے کی کچھ رقم ادھارتھی۔ کشن نے ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا، ورنہ ہم اس مسئلے کو حل کرنے میں اس کی مدد کرتے۔ وہ چند اور لوگوں کے ساتھ اس جرم میں ملوث ہوا۔ جو کچھ بھی ہوا وہ صحیح نہیں ہے، لیکن اس کا کوئی فرقہ وارانہ واقعے لینادینا نہیں ہے۔ اس معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے”۔


ملزم: بیداری پیدا کرنے کے لیے بنائی ویڈیو

کشن کمار اگرچہ ویڈیو بنانے کی وجہ واضح طور پر نہیں بتا پائے۔ کشن نے قتل کے مقاصد اور ویڈیو ریکارڈنگ کے بارے میں پولس پریس بریفنگ میں صحافیوں کے بار بار سوالات کے متضاد جوابات دیئے۔

کشن سے جب سوال کیا گیا کہ انہوں نے یہ ویڈیو کیوں بنائی تو اس نے جواب میں کہا کہ “ہم نے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے یہ ویڈیو بنائی تھی۔ آپ صرف یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہندوتوا کیا ہے، آپ کو ہندوتوا کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صرف کچھ تنظیمیں بنادینا ہندوتوا نہیں ہے”۔ پھر صحافیوں نے کشن سے قتل کے پیچھے کا اصل مقصد پوچھا تو اس نے کیا کچھ کہا آپ درج ذیل کی ویڈیو میں دیکھ اور سمجھ سکتے، جو ہمیں مقامی صحافی چاند بابو کے ذریعے واہٹس ایپ پر فراہم ہوا۔

The press interaction by Kishan Kumar Jha

میڈیا رپورٹس میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مقتول خلیل نے دونوں ملزموں سے ریلوے میں نوکری دلانے کے لئے پیسے لئے تھے۔ وہیں مقتول کے اہل خانہ نے کسی بھی مالی لین دین سے انکار کیا ہے۔ مقتول کے بھائی ستارہ کے مطابق اس پر کسی کی بھی کوئی رقم ادھار نہیں تھی، وہ اپنے اغوا کاروں کو پہلے سے واقف نہیں تھا، یہ دعویٰ درست نہیں ہے” ۔

معاملے کو مزید پیچیدہ کرتے ہوئے کشن کمار نے خلیل رضوی پر مالی فراڈ اور ایک این جی او کے ذریعے مالی فنڈز میں غبن کر نے کا الزام لگایا تھا۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس نے رضوی کو پیسوں کی وجہ سے قتل نہیں کیا۔
کشن نے آگے کہا کہ “ہم نے اسے پیسوں کے لئے نہیں مارا۔ ہم ایک این جی او کے پراجیکٹ سے وابستہ تھے۔ میں اس کے بارے میں اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا، زیدا مار پٹ نہیں ہوئی”۔

جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ خلیل رضوی کی کیا غلطی تھی، تو کشن نے مزید کہا کہ “اس شخص کا قصور یہ تھا کہ وہ میرے ساتھ شامل ہوا اور تقریباً 1,300-1,500 لوگوں کے پیسے لے لئے۔ میرے پاس (غبن کے) ثبوت ہیں۔ آپ جب چاہیں مجھ سے مل سکتے ہیں‘‘۔

تو کیا پھر قتل کے پیچھے پیسہ ہی اصل مقصد تھا؟ اس سوال کے جواب میں کشن پھر سے بولا، “پیسوں کے لیے نہیں۔ اس نے لوگوں کے پیسے لیے، میں چاہتا تھا کہ وہ پیسے واپس کرے، جس پر میں نے اسے مارا پیٹا۔

حالانکہ پریس کی بات چیت اور ویڈیو سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکا، بلکہ اور سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ لیکن ابھی تفتیش جاری ہے۔ اور کیا اس قتل کی وجہ گائے کے گوشت کا استعمال اور گائے ذبح کرنا تھا، یہ تو مزید تحقیقات سے ہی پتا چلے گا۔


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular