پیر, اکتوبر 25, 2021
پیر, اکتوبر 25, 2021
HomeUrduقطر کی شہزادی سیکس اسکینڈل میں ملوث؟وائرل دعوؤں سے پردہ اٹھاتی ہماری...

قطر کی شہزادی سیکس اسکینڈل میں ملوث؟وائرل دعوؤں سے پردہ اٹھاتی ہماری پڑتال

دعویٰ

قطر کی شہزادی ٹویٹر پر اسلاموفوبیا پر بڑی بڑی باتیں کررہی ہیں۔شہزادی سلوا کو ایک ساتھ نائجیریا کے سات غیر مردوں کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے لندن کی پولس نے پکڑا ہے۔قطر نے اس خبر کو دبانے کے لئے برطانوی میڈیا کو کئی ملین ڈولر دینے کی پیش کش کی تھی۔لیکن  اس نے اس آفر کو ٹھکرا دیا۔وہاں کی میڈیا ہندوستانی میڈیا کی طرح بکاؤ نہیں ہے۔

[removed][removed]

تصدیق

سوشل میڈیا پر آرایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کےلئے طرح طرح کے پروپیگنڈا اپنائے جارہے ہیں۔ان دنوں فائننشل ٹائمس اخبار کے حوالے سے ایک خبر خوب گردش کررہی ہے۔جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ قطر کی شہزادی سلواشیخ لندن کے ایک ہوٹل میں سات غیر مرودوں کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں پکڑی گئی ہیں۔جس کی رپورٹ برطانوی اخبار نے شائع کیا تھا۔دعویٰ یہ بھی کیا جارہا ہے کہ اس خبر کو چھپانے کیلئے برطانوی میڈیا کو ہزاروں ملین ڈالرکا آفر ملا تھا۔لیکن اخبار کے مالک نے اس سے انکار کردیا اور خبر شائع کردی۔

اخبار کی کٹنگ کو متعد افراد نے فیس بک ،ٹویٹر اور نیوز ویب سائٹ پر شائع کیا ہے۔جسے آپ ایک کے بعد ایک نیچے دیکھیں گے۔

[removed][removed]

فیس بک پر بیوقوف خبریں نامی پیج پر قطر کی شہزادی سلوا کے حوالے سے اخبار کی کٹنگ کو شیئر کیاگیا ہے۔اس پیج کوپچیس ہزار لوگ فالو کرتے ہیں۔

ہماری تحقیق

گَرہ بندکاشی والے بابا نامی ٹویٹرہینڈل پر قطر کی شہزادی والی نیوز پیپر کی کٹنگ کو شیئر کیاگیا ہے۔ان کے انیس سوتیرہ فالوورس ہیں۔گرہ بند کاشی پی ایم مودی،امت شاہ،یوپی کے سی ایم یوگی،صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند،سادھوی پرگیہ،سنی دیول،گوتم گمبھیر سمیت آٹھ سو چوراسی افراد کو فالو کرتا ہے۔

ہندوستان کے مشہور اخبار امراجالا اور پنجاب کیسری نے بھی اس خبر کو فرضی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔

ہندوستانی میڈیا کے علاوہ غیر ملکی میڈیا ڈیلی نیوز اور درپن میگزین نے بھی اس خبر کو فائننشل ٹائمس کے حوالے سے شائع کیا ہے۔

جانئیے قطر کی شہزادی سے متعلق خبر کی حقیقت!

 سبھی طرح کی خبروں کو پڑھنے کے بعد ہمیں یقین ہوچکا تھا کہ یہ خبر حقیقت پر مبنی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم نے خبریں اور وائرل پوسٹ کے ساتھ لگی تصویر کو اویسم اسکرین شارٹ کی مدد سے ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں اس حوالے سے ایک آفیشل ہنڈل کا ٹویٹ ملا۔جو اٹھائیس اگست دوہزار سولہ کو شیئر کیا گیا تھا۔اس ٹویٹ کے مطابق خبر میں نظر آرہی لڑکی قطر کی شہزادی سلوا نہیں ہے۔بلکہ اس کا نام علیاءالمزروعی ہے۔جو دوبئی کے ایک کمپنی کی سی اواو ہے۔

[removed][removed]

مذکورہ بالا ٹویٹ کو پڑھنے کے بعد ہمیں ذراشک ہوا۔پھر ہم نے علیاء کا پروفائل کھنگالنا شروع کیا۔جہاں ہمیں ابوظہبی اسکول آف منیجمنٹ(اےڈی ایس ایم) نامی ویب سائٹ پرعلیاءالمزروعی کی سوانح عمری ملی۔جس میں وائرل خبر میں لگی تصویر ویسی ہی ہے جیسی اس ویب سائٹ پر ہے۔پھر ہم نے علیاء کی پوری بایوگرافی پڑھی تو پتاچلا کہ علیاء یونائٹیڈعرب امارات یونیورسٹی سےگلوبل لیڈرشپ میں ایم بی اے کئے ہوئی ہیں اور وہ دوبئی کی بڑے تاجروں میں شمار کی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ دیگر ویب سائٹ پر علیاء کے حوالے سے کافی کچھ مثبت لکھا ملا۔جسے مذکورہ لنک پر کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔

اوپر ملی جانکاری سے واضح ہوچکا کہ وائرل ہورہی خبر کی کٹنگ میں جس لڑکی کی تصویر لگی ہے وہ دراصل قطر کی شہزادی نہیں ہے۔بلکہ دوبئی کی تاجرخاتون علیاءالمزروعی ہے۔ان سب کے باوجود ہم نے اس خبر کی گہرائی تک جانے کے لئے متعد کیورڈ سرچ کئے۔جہاں ہمیں سیاست نیوز اور نبودے ٹائمس ویب سائٹ پر اس حوالےسے خبریں ملیں۔جس میں قطر کی شہزادی کے حوالے سے جو خبر وائرل ہورہی ہے اسے فرضی بتایا گیا ہے۔دونوں نیوز ویب سائٹ نے فائننشل ٹائمس کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس طرح کی خبر فائننشل ٹائمس نے کبھی شائع ہی نہیں کی تھی۔آپ کو بتادیں کہ سیاست نیوز نے اس خبر کو تئیس اگست دوہزارسولہ کو شائع کیا تھا۔

ان سب کے باوجود ہمیں تسلی نہیں ملی تو مزید کیورڈ سرچ کیا۔جہاں اے بی پی نیوزکے فیس بک ہینڈل پر قطر کی شہزادی کے حوالے سے وائرل سچ کا ایک ویڈیو ملا۔اے بی پی کی پڑتال کے مطابق وائرل تصویر قطر کی شہزادی کی نہیں ہے۔بلکہ دوبئی کی معروف تاجرعلیاءالمزروعی کی ہے۔رپورٹ کے مطابق فائننشیل ٹائمس نے قطر کی شہزادی سلوا کے حوالے سے کوئی بھی خبر شائع نہیں کی تھی۔

تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرنے پر نیوز چیکر اس نتیجے پر پہنچا کہ قطر کی شہزادی کے سیکس اسٹیکنڈل کی رپورٹس فرضی ہیں۔رپورٹس کے ساتھ جو تصویرشائع کی گئی ہے وہ شہزادی سلوا کی نہیں بلکہ دُوبئی کی معروف خاتون تاجرعلیاءالمزروعی کی ہے۔اب یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ کسی مہم جوکالم نویس نے لائکس اورہٹ کے چکر میں یہ خبر گڑھی ہے۔

ٹولس کا استعمال

اویسم اسکرین شارٹ

ریورس امیج سرچ

کیورڈ سرچ

میڈیارپورٹ

فیس بک ایڈوانس سرچ

نتائج:فرضی دعویٰ(جعلی خبر)

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے  نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular