جمعرات, دسمبر 1, 2022
جمعرات, دسمبر 1, 2022

HomeFact Checkکیا چینی انجینئر پاکستانی ڈرائیور کی پٹائی کی ہے یہ وائرل ویڈیو...

کیا چینی انجینئر پاکستانی ڈرائیور کی پٹائی کی ہے یہ وائرل ویڈیو ؟ نیوز نیشن اور نیوز18 نے فرضی خبریں کی شائع

دعویٰ

گرافک کنٹنٹ:کراچی میں چینی انجینئر کی ویڈیو جو ایک پاکستانی ڈرائیور کو پیٹ رہا ہے۔کیونکہ وہ فرضی پیٹرول بل جمع کیا تھا۔پاور چائناگانسواینرجی کمپنی کا یہ انجیئر سی پی ای سی کے تحت آیا تھا۔(زید کے پوسٹ کا آرکائیو)

تصدیق

ان دنوں لداخ کے گلون بیلی میں کشیدگی کا ماحول برپا ہے۔چینی اور ہندوستانی فوج کے درمیان سرحد پر رسہ کشی کا ماحول ہے۔اسی بیچ ٹویٹر پر اکاون سیکینڈ کا ایک ویڈیو خوب گردش کررہا ہے۔جس میں نیلے کپڑوں میں ایک شخص دوسرے شخص کی ڈنڈوں سے پیٹائی کررہا ہے۔دعوٰیٰ کیا جارہا ہے کہ ویڈیو پاکستان کے کراچی کا ہے۔جہاں چینی انیجیئر پیٹرول بل کے خاطراس شخص کی پٹائی کررہا ہے۔اس ویڈیو کے حوالے سے دعوے کے مطابق کئی معروف نیوزچینلوں نے بھی خبریں چلائی ہیں۔جن کے آرکائیو درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔زید کے ٹویٹ کو بارہ ہزار نوسو لوگوں نے ری ٹویٹ کیا ہے۔جبکپ متعدد افراد نے لائک بھی کیا ہے۔

زی نیوز کے اینکر سدھیرچودھری نے زید کی ٹویٹ کو کیپشن کے ساتھ شیئر کیا ہے۔جس کا آرکائیو لنک یہاں دیکھیں۔

نیوزنیش نے بھی وائرل ویڈیو کے حوالے سے خبر شائع کی ہے۔جس کا آرکائیو لنک یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

سی این این نیوزاینٹین نے بھی اس ویڈیو کو پریکنگ کے طور پر خبر چلائی تھی۔لیکن بعد میں انہوں  نے مذکورہ دعوے والے ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا ۔اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

اس کے علاوہ دیگر یوٹیوبر اور فیس بک اور ٹویٹر یوزرس نے اس ویڈیو کو مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

ہماری پڑتال

سی پی ای سی یعنی چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور چین کی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا ایک حصہ ہے۔جو ایشیاء،افریقہ اور یورپ کو جوڑنے کی ایک کوشش ہے۔جس کے ذریعے دنیا بھر میں کئی بڑے پروجیکٹ میں پیسہ لگائے جانے کا پلان ہے۔سی پی ای سی چین کے شن جیانگ کے کاش گر کو پاکستان کی ایران سے متصل سرحد پر گوادرپورٹ سے جوڑنے کے پلان پر کام کررہا ہے۔

سی پی ای سی کے بارے میں جانکاری فراہم نے کے بعد ہم نے سوچا کیوں نا ویڈیو کی سچائی تک پہونچا جائے۔پھر ہم نے وائرل ویڈیو کا انوڈ کی مدد سے کچھ کیفریم نکالا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔لیکن وہاں ہمیں کچھ بھی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔ پھر ہم نے ٹویٹر ایڈوانس سرچ کا سہارا لیا اور کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیںٹویٹر پر سلیمان شاہ  نامی یوزر نے اس حوالے سے کچھ ٹویٹ کے اسکرین شارٹس شیئر کیا ہے۔جس میں انہوں نے کیپشن میں لکھا ہے کہ وائرل ویڈیو دوہزارسولہ کا ہے۔

مذکورہ ٹویٹ سے واضح ہوچکا کہ وائرل ویڈیو چار سال پرانہ ہے۔پھر ہم نے فیس بک ایڈوانس سرچ کیا اور کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں ایلیوم پریس نامی یوزر کا پوسٹ ملا۔جنہوں نے اس ویڈیو کو سات دسمبر دوہزارسولہ کو شیئر کیا تھا۔وہیں ہمیں آئی ایم ملیشین نامی یوزر کا پوسٹ ملا۔جنہوں نے اس ویڈیو کو اٹھائیس نومبر دہزارسولہ کو شیئر کیا تھا۔اس سے واضح ہوچکا کہ وائرل ویڈیو چارسال پرانہ ہے۔جسے نیوزچینلوں اور سوشل میڈیا یوزرس نے فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔اس کے علاوہ مکرجا نامی ٹویٹر یوزر کا بھی پوسٹ ملا۔جس میں انہوں نے اس ویڈیو کو ستائیس نومبر دوہزار سولہ کو شیئر کیا تھا۔

https://www.facebook.com/NADORBLADNOURR/videos/1379531018745544

سبھی تحقیقات سے تسلی نہیں ملی تو ہم نے گوگل کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں واجب باکا  اور دی رپوٹر نامی ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو کے حوالے سے خبریں ملیں۔جو غیر ملکی زبان میں تھی۔جب ہم نے گوگل ٹرانلیٹ کر کے دی رپوٹر کی نیوز کو پڑھا تو پتا چلا کہ وائرل ویڈیو پاکستان کا نہیں ہے۔بلکہ کسی غیر ملکی بندے کی پٹائی کررہا ہے۔رپوڑت سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ یہ انڈونیشن زبان میں ہےاور اس ویڈیو کو ملیشیا کا بھی بتایا جارہا ہے۔جسے نیوزچینل، فیس بک اور ٹویٹر یوزرس نے سوشل میڈیا پر فرضی دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

ان سبھی تحقیقات کے باوجود ہمیں تسلی نہیں ملی تو پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں دی اسٹار اور ملیشیاء ٹوڈے نامی نیوز ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو کے حوالے سے خبر ملی۔جس کے مطابق وائرل ویڈیو ملیشیا کا ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو چارسال پرانہ ہے اور اس ویڈیو کا پاکستان ،چین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔واضح رہے کہ وائرل ویڈیو پہلے بھی مختلف زبانوں میں مخلف دعوے کے ساتھ شیئر کیا جاچکا ہے۔ایک خبر کے مطابق وائرل ویڈیوملیشیا کا بتایا گیا ہے۔

ٹولس کا استعمال

انوڈ سرچ

ریورس امیج سرچ

کیورڈ سرچ

ٹویٹر/فیس بک ایڈوانس سرچ

میڈیا رپورٹ

نتائج:فرضی دعویٰ

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular