بدھ, دسمبر 7, 2022
بدھ, دسمبر 7, 2022

HomeFact Checkانڈونیشیا کے بم دھماکے کے ملزم ابوبکر کی تصویر کو ڈاکٹر عرفان...

انڈونیشیا کے بم دھماکے کے ملزم ابوبکر کی تصویر کو ڈاکٹر عرفان کا بتاکر کیاجارہا شیئر

جیل میں مسلمان قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا جارہاہے۔سہارنپور کے ڈاکٹرعرفان نے صدرجمہوریہ کو خط لکھا ہے۔جس میں اپنے اوپر ہورہے پولس کی بربریت کے بارے میں ذکر کیا ہے۔واضح رہے کہ عرفان ایودھیاحملے کے ملزم ہیں۔

Viral Image From Twitter

ڈاکٹر عرفان کے حوالے سے وائرل پوسٹ؟

شبینہ بانو نامی ٹویٹر یوزر نے ٹوپی پہنے ایک بوڑھے شخص کی تصویر شیئر کی ہے۔جس میں انہوں دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹرعرفان نے صدرجمہوریہ کو خط لکھا ہے۔کیونکہ جیل میں مسلمان قیدی جیلروں کے ہاتھوں ظلم و ستم کے شکار ہورہے ہیں۔

شبینہ بانو ٹویٹر پوسٹ کے آرکائیو لنک۔

محمد راقی کے پوسٹ کےآرکائیو لنک۔

فیس بک پر مذکورہ دعوے والی تصویر کو جنید عالم نامی یوزر نے مولانا سعد کے پیج پر شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

Fact Check/Verification

شبینہ بانو کی جانب سے کئے گئے دعوے کی سچائی جاننے کےلیے ہم نے سب سے پہلے ڈاکٹر عرفان کے بارے میں اپنی تحقیقات شروع کی۔اس دوران ہمیں 19 جولائی 2019 کی پتریکا ویبسائٹ پر ایک خبر ملی جس کے مطابق ایودھیا دھماکے کے ملزم ڈاکٹر عرفان، محمد شکیل، محمد نسیم اور فاروق سمیت چار لوگوں کو پریاگ راج کی ا سپیشل ٹرائل کورٹ عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔جبکہ اس معاملے میں قصوروار محمد عزیز کو عدالت نے بری کردیا تھا۔واضح رہے کہ یہ معاملہ 2005 کا ہے۔

پہلی فائنڈنگ
1st Finding

مذکورہ خبر سے واضح ہوچکا کہ ڈاکٹر عرفان ایودھیادھماکہ کے ملزم ہیں۔لیکن یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے صدر جمہوریہ کو خط لکھا ہے یا نہیں ؟پھر ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں مسلم میرر اور اردومیڈیا مانیٹر نامی نیوزویب سائٹ پر ڈاکٹر عرفان کے خط کے حوالے سے جولائی 2013 کی خبریں ملیں۔جس میں روزنامہ سہارا کا حوالے دےکر لکھا ہے کہ ڈاکٹر عرفان نے صدرجمہوریہ کو ایک کھلا خط لکھا تھا۔جس میں عرفان نے لکھا ہے تھا کہ ان پر جیل میں پولس اہلکار ظلم و ستم کرتے ہیں۔وہ بے قصور ہے اور غریب خاندان سے ہیں۔لیکن مذکورہ کسی خبروں میں ڈاکٹرعرفان کی تصویر کے ساتھ خبریں شائع نہیں کی گئی ہیں۔حالانکہ ہم نے روزنامہ سہارا پر جب مذکورہ خبر کو تلاشاتو ویب سائٹ پر نہیں ملا۔

2nd Finding

وہیں سرچ کے دوران ہمیں فلیکر نامی ویب سائٹ پر ڈاکٹرعرفان کے نام سے ہندی میں 10 پیج کا خط ملا۔جس میں عرفان نے صدرجمہوریہ کے نام خط لکھاہے۔لیکن یہ ویب سائٹ ہمیں مشکوک لگی ۔اسلیے ہم نے بلا تاخیر وائرل تصویر کی سچائی تلاشنا شروع کردی۔جب ہم نے وائرل تصویر کو کچھ ٹولس کی مدد سے سرچ کیا تو ہمیں بی بی سی انگلش پر 2فروری 2012 کی وائرل تصویر والی خبر ملی۔جس کے مطابق یہ شخص انڈونیشیا کے عالم دین ابوبکر ہیں۔جنہیں دہشت گردی کے الزام میں انڈونیشیا کی جیل میں قید کیاگیاتھا۔

Final Finding

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر انڈونیشیا کے عالم دین ابوبکر کی ہے۔جن پر دہشت گردی کا الزام ہے۔وہیں ڈاکٹرعرفان نے 2007 میں صدرجمہوریہ کو جیل میں ہورہے ان پر ظلم وستم کے بارے میں ایک خط لکھا تھا۔یہ بات میڈیا رپوٹ سے ثابت ہوتی ہے۔ البتہ ہمیں حال کے دنوں میں ڈاکٹر عرفان کے خط کے بارے میں یا ان سے جڑی کوئی جانکاری نہیں ملی۔

Result:Manipulated media

Our Sources

Patrika:https://www.patrika.com/allahabad-news/ayodhya-terror-attack-verdict-court-4-accused-life-imprisonment-4725508/

Urdumediamonitor:https://www.urdumediamonitor.com/2013/07/12/an-open-letter-to-the-president-of-the-republic-from-dr-irfan-khan-an-accused-detained-in-naini-jail-for-alleged-terrorism/

Muslimmirror:https://muslimmirror.com/eng/dr-irfans-open-letter-to-president-of-india/

Flickr:https://www.flickr.com/photos/[email protected]/9326391233/in/photostream/lightbox/

BBC:https://www.bbc.com/news/world-asia-16850706

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular