منگل, دسمبر 6, 2022
منگل, دسمبر 6, 2022

HomeFact CheckCrimeبُتوں کو توڑنے والی خاتون کا وائرل ویڈیو دوبئی کا نہیں ہے

بُتوں کو توڑنے والی خاتون کا وائرل ویڈیو دوبئی کا نہیں ہے

ٹویٹر پر ٹرینڈس پاکستان نامی یوزر نے بتوں کو توڑنے والی خاتون کی ویڈیو کو شیئر کی جا رہی ہے۔یوزر کا دعویٰ ہے کہ ایک عرب خاتون نے دبئی کے مال میں رکھے بتوں کو توڑ رہی ہے۔ہمارے آرٹیکل لکھنے تک اس پوسٹ کو 202 لوگ ری ٹویٹ کرچکے تھے۔جبکہ 483 یوزر نے لائک بھی کردیا تھا۔آرکائیولنک۔

وائرل ویڈیو دبئی کا بتاکر ہورہا شیئر
Viral vedio from Twitter

ٹی آرٹی اطغرل پی ٹی وی نامی یوٹیوب چینل پر بت کشی کرنے والی خاتون کے ویڈیو کو دبئی کا بتاکر شیئر کیا گیا ہے۔آرکائیو لنک۔

انسٹا گرام پر سرگودا آن لائن پر دبئی کا بتاکر شیئر کیاہے۔آرکائیو لنک۔

https://www.instagram.com/p/CD783v6nYQz/
Viral Video from Instagram

فیس بک پر متعدد یوزرس نے وائرل ویڈیو کو کیا شیئر

بتوں کو توڑنے والی خاتون کا وائرل ویڈیو فیس بک پر متعدد افراد نے شیئر کیا ہے۔درج ذیل میں یک بعد دیگرے کا آرکائیو لنک کے ساتھ اسکرین شارٹ موجود ہے۔

راولپنڈی نامی یوزر کا آرکائیو لنک۔جس کے پوسٹ کو 429 یوزرس نے شیئر کیا ہے اور 676لائکس کیے گئے ہیں۔آرکائیو لنک۔

چھوٹی چڑیا نامی یوزر کا آرکائیو لنک

ڈۤـنگۤر ڈاخٹر کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

وائرل ویڈیو  کا اسکرین شارٹ
screenshot from viral Vedio

Fact check / Verification

مال میں بتوں کو توڑ رہی خاتون کے وائرل ویڈیو کے بارے میں جب ہم نے کچھ ٹولس کی مدد سے جب ہم نے سرچ کیا تو ہمیں گلف ڈیلی نیوز نامی آفیشل ٹویٹر ہینڈل پروائرل ویڈیو ملا۔جس کے مطابق یہ ویڈیو دوبئی کا نہیں ہے بلکہ بحرین کا ہے۔

https://twitter.com/GDNonline/status/1294918597488279552
First Finding

مذکورہ جانکاری سے پتاچلاکہ وائرل ویڈیو بحرین کےظفیر نامی شاپنگ مال کا ہے۔ لیکن گلف ڈیلی نیوز نےوائرل ویڈیو کو سوشل میڈیا کا حوالہ دیا ہے۔پھر ہم نے کچھ کیورڈ سرچ کیا ۔اس دوران ہمیں بی بی سی ہند ی پر بتوں کو توڑنے کے حوالے سے سترہ اگست کی ایک خبر ملی۔جس کے مطابق بحرین کی پولس نے مورتی توڑنے کے الزام میں 54 سالہ خاتون کے خلاف کا روائی کی ہے۔ واضح رہے کہ بتوں کو توڑنے کا معاملہ بحرین کے ظفیر کے مانما علاقے میں پیش آیا تھا۔

کیا بتوں کو توڑنے والا وائرل ویڈیو کا سچ؟

وہیں سرچ کے دوران ہمیں بحرین کے وزارت داخلہ کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پرایک ٹویٹ ملا۔جس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ راجدھانی کی پولس نے دکان میں رکھے بتوں کو توڑنے کے الزام میں خاتون کے خلاف کاروائی کی گئی ہے اور اسے سرکاری وکیل کے پاس بھیجنے کا انتظام کیا جارہا ہے۔

Final Finging

سبھی تحیقات کے باوجود ہمیں تسلی نہیں ہوئی کہ کیا سچ میں بتوں کو توڑنے والی خاتون مسلم ہے؟پھر ہم نے پورے ویڈیو کو غور سے دیکھا تو خاتون کے برقعہ کے پچھلے حصے مپر تصویر بنی ہے اور وہ برقعہ کے اندر خاتون ٹی شرٹ اور جینس بھی پہنی ہوئی ہے۔جو کہ اسلام میں تصویر والا ڈریس اور ٹائٹ کپڑا پہننا ممانعت ہے۔تصویر میں آپ خود دیکھیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو دبئی کا نہیں ہے۔بلکہ بحرین کے ظفیر نامی دکان کا ہے۔جہاں مسلم خاتون بتوں کو یہ کہتے ہوئے توڑ رہی ہے کہ اسلامی ملک ہے ۔یہاں بتوں کا پوجا کرنے پابندی ہے۔پھر مسلمان دکاندار بتوں کو یہاں کیوں فروخت کیا جارہا ہے؟

Result: Misplaced Context

Our Sources

GulfDailyNews:https://twitter.com/GDNonline/status/1294918597488279552

BBC:https://www.bbc.com/hindi/international-53803146

MoiBahrain:https://twitter.com/moi_bahrain

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular