بدھ, اکتوبر 5, 2022
بدھ, اکتوبر 5, 2022

HomeFact Checkکیا ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید نے لگایا جئے شری رام...

کیا ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید نے لگایا جئے شری رام کا نعرہ؟

دعویٰ

ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید نے جئے شری رام کا جاپ کیااور مسلم خواتین نے رامائن کو اپنے سر پر رکھا۔ لاکھوں ہندوؤں کے احترام میں بھگوان رام کے لئے دنیا بھر میں اس طرح پوجا کی جاتی ہے۔

تحقیقات

گیتِکا سوامی نامی ٹویٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو شیئر کیاگیاہے۔جس میں دعویٰ کیا جارہاہے کہ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان ایک بڑے ہجوم کے سامنے ہندومت کے دعائیہ کلمات پکار رہے ہیں اورمسلم خواتین رامائن کو اپنے سر پراٹھائے ہوئےہیں۔

اسی سے متعلق اسی دعوے کے ساتھ ایک ویڈیویوٹیوب پر ملا۔ساتھ ہی تحقیق کے دوران سات مہینے پہلے کا فیس بک پر ایک پوسٹ بھی ملا۔جس میں یہی ویڈیو شیئر کیا گیا ہے۔لیکن اس میں جودعوے کئے گئے ہیں وہ اس سے مختلف ہے۔

جب ہم نے تفتیش سِرے سے شروع کی۔تب ہمیں ایک ویڈیو میں رام چرِت مانس کے کتھاکارموراری باپو بھی نظر آرہے تھے۔جوکہ گذشتہ سال سچن سنگھ نامی ٹویٹر ہینڈل سےٹویٹ کیاگیاتھا۔

ان تحقیقات کو مزید جاری رکھتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے کچھ کیورڈس کا سہارا لیا۔جس کی مدد سے ہم نےابوظہبی کےولی عہد شیخ محمد بن زاید النیہان کے تعلق سے پاکستانی ویب پورٹل ڈیلی قدرت پر ایک خبرملی۔ جس میں لکھا ہے کہ شیخ محمد بن زاید نے کبھی اس طرح کی ہندو مذہبی تقریب میں شرکت ہی نہیں کی۔مزید یہ کہ جو صاحب ویڈیو میں نظر آرہے ہیں وہ متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ایک کالم نگار سلطان سعود القاسمی ہیں۔

وہیں تحقیق کے دوران ہمیں موراری باپو کے یوٹیوب چینل سے ایک ویڈیو ملا۔جس میں بھی زاید النہیان نظر نہیں آرہے ہیں۔

ان تحقیقات سے ثابت ہوتاہےکہ ابوظہبی میں ہوئے موراری باپو کے تقریب میں شیخ محمد بن زاید النہیان نے ہندومت کے دعائیہ کلمات”جئے سیارام” نہیں بولا تھا۔بلکہ کالم نگار سلطان سعود القاسمی نےتقریب کے دوران ہندومت کے دعائیہ کلمات جئے سیارام پکاراتھا۔ وہیں مسلم خواتین کےتعلق سے کہی گئی بات بھی جھوٹھی ثابت ہوئی۔رامائن کواپنے سرپر رکھنے والی مسلم خواتین نہیں بلکہ تقریب انعقاد کرنے والےشخص کی بیٹیاں تھی۔۔

ٹولس کا استعمال

ٹویٹرایڈوانس سرچ

یوٹیوب سرچ

فیس بک سرچ

گوگل کیورڈ س سرچ

نتائج: جھوٹی خبر

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular