منگل, دسمبر 7, 2021
منگل, دسمبر 7, 2021
HomeFact Checkکیا سن جیسو نامی 13 سالہ چینی بچے کے ہیک کرنے کی...

کیا سن جیسو نامی 13 سالہ چینی بچے کے ہیک کرنے کی وجہ سے فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ متاثر ہوا تھا؟

سوشل نیٹورکنگ سائٹ پر سن جیسو نامی 13 سالہ چینی بچے کے نام سے ایک تصویر خوب گردش کر رہی ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ “چین کے 13 سالہ سن جیسو نامی اس بچے نے گزشتہ دنوں فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ کو ہیک کر لیا تھا۔ جس کی وجہ سے یہ تینوں اپلیکیشن 6 گھنٹوں تک متاثر رہے۔ یوزر نے یہ دعویٰ ریوٹرس ویب سائٹ کا حوالہ دے کر شیئر کیا ہے۔

دعویٰ:سن جیسو نامی 13 سالہ چینی بچے نے فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ کو ہیک کیاتھا۔
دعویٰ:سن جیسو نامی 13 سالہ چینی بچے نے فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ کو ہیک کیا تھا۔

پچھلے دنوں 4 ستمبر کو فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ 6 گھنٹوں کے لئے متاثر ہو گیا تھا۔ جس کے بعد صارفین میں کافی مایوسی دیکھنے کو ملی۔ وہیں سوشل میڈیا کے دیگر ویب سائٹ پر اس سے متعلق طرح طرح کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ ان میں ایک خبر فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ کے ہیک ہو جانے کی بھی تھی۔

ہیکنگ سے متعلق ٹویٹر اور فیس بک پر ریوٹرس ویب سائٹ کا حوالہ دے کر ایک بچے کی تصویر کو خوب شیئر کیا گیا۔ صارفین نے دعویٰ کیا کہ “سن جیسو نامی 13 سالہ چینی بچے نے فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ کو ہیک کر لیا تھا۔ جس کی وجہ سے تینوں ویب سائٹس 6 گھنٹوں تک متاثر رہی تھیں۔

ٹویٹر کے وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ درج ذیل میں موجود ہیں۔

فیس بک پر سن جیسو کے نام سے وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ۔

کراؤڈ ٹینگل پر جب ہم نے “سن جیسو” سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر محض 3 دنوں میں 948 فیس بک صارفین تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔

Fact Check/ Verification

وائرل دعوے کو ریوٹرس سے منسوب کر کے شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس سے متعلق جب ہم نے ریوٹرس کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا ہینڈلس پر اپنی تلاش شروع کی تو ہمیں کہیں بھی مذکورہ خبر نہیں ملی۔

البتہ سرچ کے دوران فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ کے متاثر ہونے کی ایک رپورٹ ریوٹرس کی ویب سائٹ پر ضرور تھی۔ جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کنفیگریشن میں بدلاؤ آنے کی وجہ سے مذکورہ سوشل میڈیا ویب سائٹس نے کام کرنا بند کردیا تھا۔ لیکن اس رپورٹ میں کہیں بھی سن جیسو نام کے 13 سالہ چینی بچے کا ذکر نہیں ہے۔

مذکورہ معلومات سے واضح ہو چکا کہ ریوٹرس ویب سائٹ نے سن جیسو نامی بچے کے حوالے سے کوئی خبر شائع نہیں کی ہے۔ پھر ہم نے بچے کی تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں ڈیلی میل،کوٹا کو اور چائناڈاٹ اوآر جی ڈاٹ سی این نامی ویب سائٹ پر 2014 کی خبریں ملیں۔ جس میں بچے کا نام وانگ زینگیانگ بتایا گیا ہے ناکہ سن جیسو۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وانگ زینگیانگ نے 13 سال کی عمر میں ہی اپنے اسکول کا آن لائن سسٹم ہیک کر لیا تھا۔ جس کے بعد اس نے چینی میڈیا میں خوب سرخیاں بٹوری تھیں۔ بتا دوں کہ وانگ زینگیانگ 2014 میں ہی 13 سال کا تھا۔ لہٰذا اب تقریباً اس کی عمر 20 سال ہو گئی ہوگی۔

مذکورہ سبھی رپورٹس سے معلوم ہوا کہ سن جیسو نامی 13 سالہ چینی بچے نے تینوں ویب سائٹس کو ہیک نہیں کیا تھا اور نا ہی تصویر میں نظر آ رہے بچے کا نام سن جیسو ہے۔ البتہ یہ چین کا رہنے والا ضرور ہے۔ تب ہم نے یہ سرچ کیا کہ آیا فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ کو ہیک کیا گیا تھا یا اس خرابی کی کچھ اور وجہ تھی، تو ہمیں اس دوران انجینئرنگ ڈاٹ ایف بی ڈاٹ کام پر ایک رپورٹ ملی۔

جس میں یہ جانکاری دی گئی ہے کہ ڈیٹا سینٹرس میں کنفیگریشن کی تبدیلی کی وجہ سے فیس بک کی سروس متاثر ہوئی تھی۔ اس رپورٹ میں بھی کہیں ہیک ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس دوران مارک زکر برگ کا بھی ایک پوسٹ ملا۔ اس میں بھی ان سوشل سائٹس کے ہیک ہونے کی بات نہیں کہی گئی ہے۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ سن جیسو نامی 13 سالہ چینی بچے نے فیس بک، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ کو ہیک نہیں کیا تھا۔ بلکہ ان ویب سائٹس میں کنفیگریشن میں بدلاؤ کی وجہ سے سروس کچھ گھنٹوں کے لئے متاثر ہوئی تھی۔ جس بچے کو سن جیسو بتایا جا رہا ہے۔ دراصل اس کا نام وانگ زینگیانگ ہے اور اس کی عمر 2014 میں ہی 13 سال تھی۔


Result: False


Our Sources

Daily mail

china.org.cn

Kotaku

ChinaDailly

Reuters

FB.Com


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular