پیر, اگست 8, 2022
پیر, اگست 8, 2022

HomeFact Checkبلند شہر کی جامع مسجد کی 5 سال پرانی تصویر گمراہ کن...

بلند شہر کی جامع مسجد کی 5 سال پرانی تصویر گمراہ کن دعوے کے ساتھ کی جا رہی ہے شیئر

سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جا رہی ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ (2 جون 2022) کے طوفان میں جامع مسجد کے گنبد کا ایک حصہ گر گیا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس طرح گنبد کا ایک حصہ گرنا محض اتفاق نہیں ہے، یہ مہادیو کی طرف سے واضح اشارہ ہے۔

بلند شہر کی جامع مسجد کی 5 سال پرانی تصویر گمراہ کن دعوے کے ساتھ  کیا جا رہا ہے شیئر کیا جا رہا ہے

کئی صارفین نے اس وائرل تصویر کو ٹوئٹر پر بھی شیئر کیا ہے۔

گزشتہ پیر کو دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تیز طوفان کی وجہ سے کئی مقامات پر درخت گر گئے۔ جس کی وجہ سے ٹریفک کا سامنا کرنا پڑا۔ ساتھ ہی اس طوفان میں کچھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ آج تک کی ایک رپورٹ کے مطابق دہلی کے پرہلاد پور انڈر پاس میں بارش کی وجہ سے پانی بھر گیا۔ جس میں ایک شخس کی موت ڈوبنے سے ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق دہلی کی جامع مسجد کو بھی طوفان سے کافی نقصان پہنچا ہے۔ جہاں ایک طرف کئی درخت گر گئے وہیں جامع مسجد کے گنبد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اسی اثناء میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔ جس کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے 2 جون بروز جمعرات کو آئے طوفان میں جامع مسجد کے گنبد کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔

Fact Check/Verification

وائرل تصویر کو ریورس امیج کے ساتھ کیورڈ ‘مسجد گمبد گرا’ لکھ کر تلاشنا شروع کیا۔ اس دوران ہمیں 21 اکتوبر 2017 کو ڈی کے شریواستو نامی فیس بک صارف کی فیس بک پوسٹ موصول ہوئی۔ پوسٹ کے مطابق ‘دیوالی کے دن بلند شہر میں جامع مسجد کا گنبد گر گیا، اس حادثے میں موت کے علاوہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ فیس بک پوسٹ میں بھی یہی تصویر اپ لوڈ کی گئی ہے، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ وائرل ہونے والی تصویر پانچ سال پرانی ہے۔

تصویر کے سلسلے میں مزید جاننے کے لیے گوگل پر ‘بلندشہر جامع مسجد’ کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں نیوز 18 کی ویب سائٹ پر شائع 24 اکتوبر 2017 کی ایک ویڈیو رپورٹ موصول ہوئی۔ جس کے مطابق یوپی کے بلند شہر کے اپرکوٹ میں واقع جامع مسجد کا مینار گرنے سے ملحقہ کالونی میں رہنے والے لوگوں میں کافی خوف و ہراس کا ماحول برپا ہو گیا تھا۔ رپورٹ میں نظر آنے والی ویڈیو میں سوشل میڈیا پر وائرل مسجد کے گنبد کی تصویر واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

ون انڈیا نے 21 اکتوبر 2017 کو اس حادثے کے سلسلے میں ایک رپورٹ بھی شائع کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بلندشہر کی تاریخی جامع مسجد کے تین گنبدوں میں سے ایک دوپہر کے وقت گر گیا۔ اس دوران تین معصوم بچے اور ایک درجن افراد شدید زخمی ہوئے۔ مقامیوں کا کہنا تھا کہ نالیوں کا پانی مسجد کی دیوار کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ جس سے دیوار کمزور ہوگئی ہے۔ 3 بجے کی نماز کے دوران مسجد کی دیوار اور گنبد اچانک گر گیا۔

آپ کو بتا دیں کہ گزشتہ دنوں دارالحکومت دہلی میں طوفان کی وجہ سے تاریخی جامع مسجد کے گنبد کو نقصان پہنچا تھا۔ جامع مسجد کے تین گنبدوں میں سب سے بڑے، درمیانی گنبد کے اوپر لگی پیتل کی برجی ٹوٹ کر نیچے گر گئی تھی۔ شاہی امام سید احمد بخاری نے بتایا کہ ایک مینار اور مسجد کے دیگر حصوں سے پتھر ٹوٹ کر گرا جس سے دو افراد زخمی ہو گئے۔

Conclusion

اس طرح ہماری تحقیقات میں یہ واضح ہوا کہ بلند شہر کی جامع مسجد کے گنبد کی پانچ سال پرانی تصویر کو گمراہ کن دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

Result: False Context/Missing Context

Our Sources

Facebook Post DK Shrivastava on October 21,2017

Report Published at News 18 on October 24, 2017

Report Published at One India on October 21, 2017

اس آرٹیکل کو ہندی ٹیم کے شبھم سنگھ نے پہلے لکھا ہے،جس کا ترجمہ محمد زکریا نے کیا ہے۔

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔9999499044

Shubham Singh
Shubham Singh
An enthusiastic journalist, researcher and fact-checker, Shubham believes in maintaining the sanctity of facts and wants to create awareness about misinformation and its perils. Shubham has studied Mathematics at the Banaras Hindu University and holds a diploma in Hindi Journalism from the Indian Institute of Mass Communication. He has worked in The Print, UNI and Inshorts before joining Newschecker.
Shubham Singh
Shubham Singh
An enthusiastic journalist, researcher and fact-checker, Shubham believes in maintaining the sanctity of facts and wants to create awareness about misinformation and its perils. Shubham has studied Mathematics at the Banaras Hindu University and holds a diploma in Hindi Journalism from the Indian Institute of Mass Communication. He has worked in The Print, UNI and Inshorts before joining Newschecker.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular