پیر, مئی 23, 2022
پیر, مئی 23, 2022

HomeFact Checkراجستھان میں تشدد کے دوران پولیس اہلکار کو لگی چوٹ کو لے...

راجستھان میں تشدد کے دوران پولیس اہلکار کو لگی چوٹ کو لے کر سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی گمراہی

(اس مضمون کو اصل میں نیوز چیکر ہندی کے شبھم سنگھ نے شائع کیا تھا)

سوشل میڈیا پر راجستھان میں تشدد کے دوران پولس اہلکار کو لگی چوٹ سے متعلق ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ صارف کا دعویٰ ہے کہ “مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے ایک پولس اہلکار نقلی خون کی پٹی باندھ کر چوٹ لگنے کا ناٹک کر رہا ہے۔

ٹویٹر پر ایک صارف نے ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “راجستھان میں مسلمانوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ گرانے کے بعد یہ موصوف معصومیت کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو ہی دھشت گرد بنانے کی سازش میں کیمرے کی آنکھ سے نہ بچ سکے، دیکھیں یہ ہندو پولیس مین کس طریقے سے نقلی خون کی پٹی اپنے ماتھے پر سجا رہا ہے”۔

راجستھان میں تشدد کے دوران پولیس اہلکار کو لگی چوٹ کو لے کر سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی گمراہی

گزشتہ دنوں راجستھان کے جودھپور میں دو مذاہب کے درمیان تشدد برہا ہو گیا تھا۔ جودھپور کے جالوری گیٹ پر بھگوا جھنڈا اتارکر مذہبی جھنڈا لگا نے کو لے کر تنازعہ شروع ہوا۔ اس بیچ خبر آئی کہ دو مذہبوں کے درمیان تشدد بھڑک گیا ہے، تبھی حالات پر قابو پانے کے لئے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ راجستھان پولس نے اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار کیا، ساتھ ہی جودھپور ضلع انتظامیہ نےحالات کے پیش نظر انٹرنیٹ کو بھی بند کر دیا تھا۔

Fact Check/Verification

راجستھان میں تشدد کے دوران پولیس اہلکار کو لگی چوٹ سے متعلق وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لیے ہم نے ‘جودھپور پولیس کے سر پر لگی چوٹ’ کیورڈ کی مدد سے گوگل پر سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں روزنامہ بھاسکر پر شائع 04 مئی 2022 کی ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ بھاسکر نیوز کے مطابق جودھپور کے جالوری میں منگل کی صبح سڑک پر نماز عید ادا کرنے کو لےکر تنازعہ شروع ہوا، جس کے بعد معاملہ مزید بگڑتا چلا گیا۔ اس دوران حالات پر قابو پانے کے لیے پہنچی پولیس بھی موقع پر پتھراؤ کا شکار ہو گئی۔ خبر کے مطابق شرپسندوں نے پولیس کے ساتھ بدتمیزی اور دھکامکی بھی کی۔

Screenshot of Dainik Bhaskar Epaper

سرچ کے دوران ہمیں 06 مئی 2022 کوشائع شدہ ای ٹی وی بھارت کی ایک رپورٹ موصول ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں جودھ پور کے جالوری میں پیش آئے اس واقعے میں ایس آئی دھنارام کے سر پر چوٹ آئی تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح ہے کہ جودھ پور کے سردار پورہ تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف رپورٹ بھی درج کرائی گئی ہے۔

تحقیقات کے دوران ہم نے جودھ پور پولیس کے ٹوئٹر ہینڈل کو کھنگالنا شروع کیا۔ اس دوران ہمیں 6 مئی 2022 کو جودھ پور پولیس کی طرف سے راجستھان میں تشدد سے جوڑ کر شیئر کی گئی پولس اہلکار کی ویڈیو سے متعلق کیا گیا ایک ٹویٹ موصول ہوا۔ ٹویٹ کے مطابق، جودھ پور پولیس نے اے ایس آئی دھنارام کے سر میں چوٹ لگنے کی تصدیق کی ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کی تردید بھی کی ہے۔ پولس نے اپنے اس ٹویٹ میں واضح کیا ہے کہ واقعے کے بعد زخمی اے ایس آئی دھنا رام کا میڈیکل بھی کرایا گیا اور تھانہ سردار پورہ میں ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔

نیوز چیکر نے جودھ پور کے کُڑی پولیس اسٹیشن کے ایس آئی دھنارام سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا، “یہ واقعہ 3 مئی کو پیش آیا اور اس وقت میں جالوری گیٹ پر تعینات تھا۔ اس دوران دو مذہبوں کے بیچ جھنڈے لگانے کو لے کر تصادم ہوا۔ اسی دوران میرے سر پر پتھر لگا اور اس کی چوٹ سے خون بہنے لگا، جس سے میری بائیں آنکھ اور عینک خون سے بھر گئی۔ پھر میرے ایک ساتھی نے مجھے اپنا رومال دیا جس سے میں نے سب سے پہلے سر سے خون صاف کیا۔ پھر وہی رومال سر پر باندھ کر اپنی ڈیوٹی شروع کر دی۔

ایس آئی دھنارام کی سر پرچوٹ والی تصویر۔

بات چیت کے دوران دھنارام نے ہمیں بتایا کہ ’’کچھ لوگ اس معاملے میں سوشل میڈیا پر میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ اسپتال میں میرا میڈیکل (چیک اپ) بھی کرایا گیا ہے اور پتھراؤ کرنے والے نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اب ان تحقیقات سے واضح ہو گیا کہ راجستھان میں تشدد کے دوران جس پولس اہلکار کے سلسلے میں نقلی خون کی پٹی کی بات کہی جا رہی ہے وہ فرضی ہے۔

ایس آئی دھنارام نے ہمیں بتایا کہ ان کے علاقے میں انٹرنیٹ سروس پر پابندی ہے۔ انہوں نے ہمیں وہاں کے ایک مقامی صحافی اور جےکے 24*7 کے بیورو ہیڈ سبھاش کے ذریعے اپنے سر پر لگی چوٹ کی تصاویر بھی بھیجیں۔

Conclusion

اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ راجستھان میں تشدد کے دوران ایس آئی دھنارام کے سر پر چوٹ لگنے کا جھوٹا دعویٰ وائرل ہو رہا ہے۔ ایس آئی دھنارام کو پچھلے دنوں جودھ پور میں ہوئی جھڑپ میں سر پر چوٹ لگی تھی۔

Result: Misleading content/ Partly False

Our Sources

Report Published by Dainik Bhaskar on 4 May 2022

Report Published by ETV on 6 May 2022

Tweet by Jodhpur Police on 6 May 2022

Telephonic Conversation with SI Dhannaram

نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular