جمعرات, دسمبر 1, 2022
جمعرات, دسمبر 1, 2022

HomeFact Checkکیا یہ تصویر انسانی چہرے پر رہنے والے کیڑے ڈیموڈیکس کی ہے؟...

کیا یہ تصویر انسانی چہرے پر رہنے والے کیڑے ڈیموڈیکس کی ہے؟ جانیں پورا سچ

سوشل میڈیا پر ایک کیڑے کی تصویر خوب گردش کررہی ہے۔ دعویٰ ہے کہ یہ تصویر انسانی چہرے پر رہنے والے کیڑے ڈیمو ڈیکس کی ہے، جو انسان کی پلکوں کے اندر رہتا ہے۔ یہ مخلوق رات کو انسان کے سونے کے بعد چہرے پر آپس میں ملاپ کرتے ہیں، بعد میں چہرے کی مردہ جلد کو کھا جاتے ہیں، تاکہ نئی جلد تیار ہوسکے۔

ایک فیس بک صارف نے تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ “اس مخلوق کو ڈیموڈیکس کہا جاتا ہے اور یہ ہر انسان کی پلکوں کے اندر رہتے ہیں۔ یہ رات کو اس وقت باہر نکلتے ہیں جب آپ سورہے ہوتے ہیں، یہ آپ کے چہرے پر چلتے ہیں۔ اس کے نر اور مادہ آپ کے چہرے پر ملاپ کرتے ہیں۔ اس کی مادہ آپ کے پلکوں کے ہر بال کے اندر 20 سے 24 انڈے دیتی ہے۔ اس کیڑے کا کام ہر روز آپ کی مردہ جلد کو کھانا ہے تاکہ نئی جلد بن سکے، یعنی جب آپ سو رہے ہوتے ہیں تو یہ قدرتی کاسمیٹک کا عمل انجام دیتا ہے۔ یاد رکھیں! اگر آپ اپنی زندگی میں بے کار ہیں تو بھی آپ لاکھوں جانداروں کی روزی اور زندگی کا ذریعہ ہیں”۔

 انسانی چہرے پر رہنے والے کیڑے ڈیموڈیکس کی نہیں ہے یہ تصویر
Courtesy: FB/خا کسار

اس تصویر کو مذکورہ دعوے کے ساتھ لنکڈن، انسٹاگرام اور واہٹس ایپ اور یوٹیوب پر بھی شیئر کیا گیا ہے۔

وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

فیس بک پر مذکورہ دعوے کے ساتھ کیڑے کی تصویر کو کتنے صارفین نے شیئر کیا ہے؟ یہ جاننے کے لئے ہم نے کراؤڈ ٹینگل پر “اس مخلوق کو ڈیموڈیکس کہا جاتا ہے” کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر پچھلے 3 دنوں میں 111 پوسٹ شیئر کئے گئے ہیں اور 21,419 فیس بک صارفین نے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ جبکہ ٹویٹر پر بھی اس تصویر کو مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔

Screen short of crowdtangle

Fact Check/Verification

انسانی چہرے پر رہنے والے کیڑے ڈیموڈیکس کا بتاکر شیئر کی گئی تصویر کو سب سے پہلے ہم نے گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ لیکن ہمیں کچھ بھی اطمینان بخش نتائج نہیں ملے۔ تصویر کو غور سے دیکھا تو اس پر سائنس فوٹو کا واٹر مارک نظر آیا۔ پھر ہم نے سائنس فوٹو ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ پر تصویر کو کیورڈ کی مدد سے سرچ کیا تو ہمیں اس کیڑے کی تصویر ملی۔ جس کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ تصویر ڈومیسٹک سلک موتھ (ریشم کا کیڑا) کے لاروا کے سر کا رنگین اسکینینگ الیکٹران مائیکروگراف ہے۔ جس میں اس کی آنکھیں (ڈارک دھبے، دائیں-بائیں) اور درمیان میں منہہ ہے۔

COurtesy: Science photo Library

پھر ہم نے وائرل تصویر سے متعلق سائنس فوٹو ڈاٹ کام سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا اور وائرل تصویر کی حقیقت طلب کی تو جواب میں سائنس فوٹو لائبریری کے سیل ڈائریکٹر سیمن اسٹون نے میل کے جواب میں لکھا کہ یہ تصویر ریشم کے کیڑے کے سر کا رنگین اسکیننگ الیکٹرون مائکروگراف ہے۔

پھر ہم نے ڈیموڈیکس کے حوالے سرچ کیا تو پتہ چلا کہ ڈیموڈیکس نامی مخلوق انسانوں کے چہرے پر رہتا ہے۔ اس کی لمبائی 0.15 ملی میٹر سے 0.4 ملی میٹر تک ہوتی ہے۔سائنس فوٹو لائبریری نے ڈیموڈیکس مائٹس کی رنگین مائیکرواسکوپ کے ذریعے لی گئی تصویر شائع کی ہیں، جسے آپ یہاں اور یہاں کلک کرکے دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیموڈیکس کے بارے میں مزید معلومات کے لئے کلیو لینڈ کلینک کی ویب سائٹ کی یہ رپورٹ پڑھ سکتے ہیں۔

COurtesy: Science photo Library

یہ بھی پڑھیں: 20 سال پرانی ڈیجیٹل پینٹنگ کو ہیومن سیل کی تصویر بتاکر کیا جا رہا شیئر

Conclusion

اس طرح نیوز چیکر کی تحقیقات میں واضح ہوا کہ جس کیڑے کی تصویر کو ڈیموڈیکس نامی مخلوق کا بتاکر شیئر کیا جارہا ہے وہ دراصل ریشم کے کیڑے کے سر کی ہے۔

Result: Partly False

Our Sourcesr
Image found on Science photo Library

Demodex Report published by Cleveland Clinic
Demodex mite image published by Science photo Library
Newschecker Talked with Simon Stone, Sales Director, Science Photo Library

کسی بھی مشکوک خبر کی تحقیقات، تصحیح یا دیگر تجاویز کے لیے ہمیں واٹس ایپ کریں: 9999499044 یا ای میل: [email protected]

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular