جمعہ, دسمبر 2, 2022
جمعہ, دسمبر 2, 2022

HomeFact Check8سال پہلے غیر ملکی مسلم لڑکی کے مہم کی تصویر کو مذہبی...

8سال پہلے غیر ملکی مسلم لڑکی کے مہم کی تصویر کو مذہبی رنگ دےکر سوشل میڈیا پر کیاجارہا ہے شیئر

مسلمانوں میں آج تک شیعہ اور سنّی بھائی بھائی نہ ہوسکے ۔۔! اور کچھ بےوقوف ہندو کہتے ہیں ہندو اور مسلم بھائی -بھائی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک خاتون کی تصویر وائرل ہورہی ہے۔جسے مذہبی رنگ دےکر شیئر کیاجارہا ہے۔اس تصویر کو شاورمالا اگروال نامی ٹویٹر یوزر نے شیئر کیاہے۔آرکائیو لنک۔

شیئرچیٹ پر یادو نامی یوزر نے وائرل تصویر کو شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک۔

13جنوری 2020 کو موٹابھائی نام سے فیس بک پر مذکورہ خاتون کی تصویر کو پی ایم مودی کےحوالے سے شیئر کیاگیا تھا۔آرکائیو لنک۔

Fact check / Verification

وائرل تصویر کی حقائق تک پہنچنے کےلئے ہم نے سب سے پہلے تصویر کو ریورس امیج سرچ کیا۔جہاں ہمیں مختلف دعوے کے ساتھ وائرل تصویر ملی۔جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

وائرل تصویر کی کیا ہے اصل سچائی؟

مذکورہ جانکاری سے پتاچلا کہ پہلے مسلم خاتون کی تصویر کو فرضی دعوے کےساتھ شیئر کیاجاچکاہے۔پھر ہم نے کچھ اہم ٹولس کی مدد سے کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں ون بیوٹی آف اسلام نامی بلوگ پر 21مئی 2012 کا ایک بلوگ ملا۔جس میں وائرل تصویر والی خاتون اپنے ہاتھ میں پوسٹر لئے ہوئی ہے۔لیکن اس میں انگلش زبان میں “I’m a muslim But I’m not Arab”لکھا ہوا ہے۔

1st Finding

پھر ہم نے وائرل تصویر سے متعلق مزید کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں پوشنگ ہاپ ویتھ اسٹکس(pushinghoopswithsticks) نامی ویب سائٹ پر 27مارچ2012 کا تصاویر والا ایک مضمون ملا۔جس میں بھی یہی لکھا ہے کہ “میں مسلم ہوں عرب کی نہیں”۔

Final Finding

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں پتاچلا کہ وائرل تصویر تقریباً8سال پرانی ہے اور اس تصویر میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی بات نہیں لکھی ہوئی ہے۔بلکہ ” میری واشنگٹن یونیورسٹی کےاسلامک اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک مہم چلائی گئی تھی کہ مسلمانوں کو دقیانوسی نظر سے نہ دیکھا جائے۔پڑتال میں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اصل تصویر کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی گئی ہے۔

Result:False

Our Sources

blogspot:https://1beautyofislam.blogspot.com/2012/05/dont-stereotype-me-umw-2012-campaign.html

pushinghoopswithsticks:https://pushinghoopswithsticks.tumblr.com/post/20048190297/dont-stereotype-meuniversity-of-mary-washington

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular