منگل, دسمبر 6, 2022
منگل, دسمبر 6, 2022

HomeFact Checkدو سال پرانی کسان مارچ کی تصویر کو دہلی کسان مارچ کا...

دو سال پرانی کسان مارچ کی تصویر کو دہلی کسان مارچ کا بتاکر وائرل

مودی سرکار کی نیولبرل پالیسیوں اور کسان ایکٹ کے خلاف بھارت کی کسان تنظیمیں دہلی کی طرف مارچ کر رہی ہیں۔

کیا ہے کسانوں کے حوالے سے وائرل دعویٰ؟

ان دنوں سوشل میڈیا پرکسان مارچ کے حوالے سے ایک تصویر خوب گردش کر رہی ہے۔ جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مودی سرکار کی پالیسی کے خلاف کسانوں کا ہجوم دہلی پہنچ چکا ہے۔وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک درج ذیل ہیں۔

سعد ناصر کے پوسٹ کا آرکائیو لنک

اردو کے ساتھ ساتھ اسے ہندی زبان میں بھی شیئر کیا گیا ہے جسے آپ نیچے اسکرین شارٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔

Fact Check/Verification

وائرل ہو رہی تصویر کے حوالے سے ہم نے سب سے پہلے ٹویٹر ایڈوانس سرچ کیا۔ جہاں ہمیں ممبئی لائیو نامی ٹویٹر ہینڈل پر 10 مارچ 2018 کا ایک ٹویٹ ملا۔جس کے مطابق کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف تقریباً 25000 کسان ممبئی کی طرف مارچ کر رہے ہیں۔ وہ سب ایسٹرن ایکسپریس وے ہائوے پر اکٹھا ہوۓ تھے۔

ایسٹرن ایکسپریس وے ہائیوے کو ہم نے گوگل میپ پر سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ یہ جگہ مہاراشٹر کےتھانے ضلع میں ہے۔

پھر ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا اس دوران ہمیں پنّارائی ویجیئن کا ٹویٹ اور انڈین ایکسپریس پر شائع11مارچ2018 کی ایک خبر ملی۔جس میں وائرل تصویر بھی تھی ۔جس کے مطابق وائرل تصویر مہاراشٹر کسان مارچ کی ہے۔ناکہ دہلی کے کسانوں کے احتجاج میں جمع ہوئے بھیڑ کی تصویر ہے۔البتہ یہ خبر صحیح ہے کہ کسان دہلی ، پنجاب اور ہریانہ کی سرحد پر پچھلے کئی دنوں سے احتجاج کررہے ہیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے ثابت ہوتاہے کہ وائرل تصویر دوسال پرانی ہے اور یہ دہلی کی سرحد پراحتجاج کر رہے کسانوں کی نہیں ہے بلکہ مہاراشٹر کےممبئی کی ہے۔

Result: Misleading

Our Sources

twitter:https://twitter.com/MumbaiLiveNews/status/972515680414289920

IndianExpress:https://indianexpress.com/article/india/maharashtra-shiv-sena-mns-aap-extend-support-to-farmers-march-5093844/

KerlaCM:https://twitter.com/vijayanpinarayi/status/972820937610588160

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular