منگل, ستمبر 27, 2022
منگل, ستمبر 27, 2022

HomeFact Checkمرشدآباد قتل معاملے سے منسوب کرکے بنگلہ دیشی قاتل کی تصویر وائرل

مرشدآباد قتل معاملے سے منسوب کرکے بنگلہ دیشی قاتل کی تصویر وائرل

سوشل میڈیا پر ایک تصویر کو مرشدآباد قتل معاملے سے منسوب کرکے شیئر کیا گیا۔ صارف کا دعوی ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے مرشدآباد کے آرایس ایس کارکن کو ان کے اہل خانہ کےساتھ موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔

Fact Check/Verification

بنگال میں آٹھ اکتوبر کو بیک وقت تین قتل ہواتھا۔ جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پران دنوں خوب گردش کررہاہے۔ تینوں قتل کے تعلق سے دو تصویریں  شیئر کی جارہی ہے۔تصویرمیں ایک شخص ٹوپی پہنے ہوئے نظر آرہاہے۔جس کو اس قتل کا ملزم بتایاجارہاہے۔وائرل تصویر کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کیاجارہاہے کہ یہ وہی شخص ہے۔جس نے آرایس ایس کارکن کو ان کے اہل خانہ کےساتھ  قتل کردیاہے.ٹویٹر پراس تصویر کو دوسو چوہتر لوگ شیئر کرچکے ہیں۔جبکہ تین سوانتیس لوگوں نے لائک کیاہے۔

 سوشل میڈیا پر وائرل تصویر کی حقیقت جاننے کے لیئے ہم نے اپنی تحقیق شروع کی۔پھر ہم نے سب سے پہلےکیورڈس کی مدد لی اور گوگل سرچ کیا۔تب ہمیں ڈھاکا ٹریبیون اور جَسٹ نیوز میں شائع ایک خبر ملی۔جس میں  لکھا ہے کہ یہ شخص مرشدآباد میں ہوئے آرایس ایس کےاہل خانہ کاقاتل نہیں۔بلکہ بنگلہ دیشی طالب علم کے قتل کا ملزم ہے۔

 ان خبروں کی مدد سے ہم نے فیس بک پر مہدی حسن رسل نامی شخص کا پروفائل کھنگالا۔جہاں ہمیں پتاچلا کہ دس جون دوہزار انیس کو یہ وائرل تصویر پوسٹ کی گئی تھی۔مہدی نے اس تصویر کے ساتھ ہندی میں پریرنا پِتا(میرے والد میرے لئے نظیر ہیں)لکھاہے۔جس کے بعد پتا لگاکہ نیلے رنگ کا کپڑا پہناہوا شخص بنگلہ دیش کا رہنےوالا ہے۔جوکہ بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئراینڈ ٹیکنالوجی میں جنرل سکریٹیرہے۔

 مزید تحقیقات کے دوران ہم نے سوچا کہ مرشد آباد قتل کیس کی بھی جانکاری نکالی جائے۔تاکہ پتا چل سکے کہ آرایس ایس کارکن کے اہل خانہ کا قتل کسنےکیا ہے؟ اس دوران ہمیں امراُجالا میں شائع ایک خبر ملی۔جس میں لکھا ہے کہ آرایس ایس کارکُن اور ان کے اہل خانہ کا قتل آپسی رنجش کی وجہ سے ہوا ہے۔جس کے ملزم کو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔

 تمام ریسرچ کے بعد یہ واضح ہوا کہ وائرل تصویر میں نظر آرہے افراد کا مرشدآباد میں ہوئے قتل سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ شخص بنگلہ دیشی طالب علم کے قتل کا ملزم ہے۔جبکہ تصویر میں نظر آرہا ٹوپی والا شخص قاتل کے والد ہیں۔

 ٹولس کا استعمال

  • گوگل کیورڈس سرچ
  • گوگل ریورس سرچ
  • فیس بُک سر

نتائج:فیک نیوز

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular