جمعہ, اگست 6, 2021
جمعہ, اگست 6, 2021
HomeFact Checksکیا انڈونیشیاء میں ایک حافظ قرآن کو دفنانے کے بعد اس کی...

کیا انڈونیشیاء میں ایک حافظ قرآن کو دفنانے کے بعد اس کی قبر روشنی سے پُر ہوگئی؟

سوشل میڈیا پر قبر کی ایک تصویر خوب گردش کررہی ہے۔ یوزر کا دعویٰ ہے کہ انڈونیشیا میں ایک حافظ قرآن کو جب قبر میں اتارا گیا تو قبر نور سے بھر گئی۔ اللہ ہمیں بھی قرآن کا عشق نصیب کرے۔ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ درج ذیل میں وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک موجود ہیں۔

قبر پر روشنی کی وائرل تصویر کا اسکرین شارٹ
حافظ قرآن کی قبر پر روشنی کی وائرل تصویر کا اسکرین شارٹ

فاروق احمد کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

بابرسمون کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

جب ہم نے وائرل پوسٹ کا کراؤڈ ٹینگل کی مدد سے ڈیٹا نکالا تو ہمیں پتاچلا کہ اس موضوع پر محض پچھلے سات دنوں میں 242،126 افراد تبادلہ خیالکرچکے ہیں۔ جبکہ 507 یوزرس نے مذکورہ دعوے کے ساتھ تصویر کو شیئر کیا ہے۔

کراؤڈ ٹینگل پر ملے قبر کی روشنی والی وائرل تصویر کا اسکرین شارٹ
کراؤڈ ٹینگل پر ملے حافظ قرآن کی قبر سے متعلق وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹٹ

Fact Check/Verification

انڈونیشیاء کے حافظ قرآن کی قبر پر نور سے بھرے ہونے والے دعوے کی سچائی جاننے کےلئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔ سب سے پہلے ہم نے وائرل تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں اسکرین پر وائرل تصویر سے متعلق فیس بک اور ٹویٹر کے کئی پرانے لنک فراہم ہوئے۔ جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

ریورس امیج سرچ کے دوران ملی جانکاری کا اسکرین شارٹ
ریورس امیج سرچ کے دوران ملی حافظ قرآن کی قبر کے حوالے سے ملی جانکاری

سرچ کے دوران ہمیں ایلیو ابوبکر کا 25 اکتوبر دوہزارانیس کا ایک ٹویٹ ملا۔ جس میں وائرل تصویر کے ساتھ دیگر دو تصاویر تھیں۔ جس کے کیپشن میں لکھا ہوا ہے کہ “انڈونیشیا ء کا ایک شیخ جو بچوں کو قرآن پڑھاتا تھا،جب ان کا انتقال ہوا تو ان کی قبر سے نور نکلتا ہوا دیکھا گیا“۔ وہیں فیس بک پر 18 مارچ 2019 کو گاکس نامی یوزر نے مذکورہ دعوے کے ساتھ تینوں تصاویر کو شیئر کیا ہے۔

ایک حافظ قرآن کی قبر سے روشنی نکلنے والی تصویر کے حوالے سے ٹویٹ

ایلیون کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

پھر ہم نے تصویر کو ٹن آئی ڈاٹ کام پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں ایچ میٹرو ڈاٹ کام، ہیرین اور انفوجے ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ پر ملیشین زبان میں جانکاری ملی۔ جسے گوگل ٹرانسلیٹ کرنے پر واضح ہوا کہ 4 سال پہلے بھی دیگر دعوے کے ساتھ تصویر کو شیئر کیا جاچکا ہے۔ ہیرین ویب سائٹ کے مطابق ملیشیاء کے دارالعلوم (ایس آر آئی ڈی یو) کے نذری زین الدین کی قبر سے منسوب کرکے اس تصویر کو شیئر کیا گیا تھا۔ جس کی تحقیق کرنے کے بعد پتا چلا کہ قبر پر کسی طرح کی مصنوعی روشنی لگائی گئی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔

مزید سرچ کے دوران ہمیں ٹریبیون نیوز پر ملیشین زبان میں وائرل تصویر کے ساتھ ایک خبر ملی۔ جسے 24 اگست 2017 کو شائع کیاگیا تھا۔ گوگل ٹرانسلیٹ کرنے پرپتہ چلاکہ انڈونیشیاء کے ایئرمیسو،بنگکا ٹینگہ کے نوجوان کنواری لڑکیوں،بچوں اور حاملہ خواتین کی قبر پر سورج ڈھلنے کے بعد اپنی ضروریات کی چیزیں لےکر جاتے ہیں ،پھر سورج نکلنے کے بعد وہاں سے گھر واپس آجاتے ہیں۔،

پھر ہم نے مذکورہ جانکاری سے متعلق انگلش میں کچھ کیورڈ سرچ کیا۔لیکن ہمیں کچھ بھی اطمینان بخش نتائج نہیں ملے۔ لیکن بھارین نامی ویب سائٹ پر وائرل تصویر سے متعلق جانکاری ملی۔ جس کے مطابق حافظ قرآن کی قبر سے نور والی بات فرضی ہے۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حافظ قرآن کی قبر سے روشنی نکلنے والا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ تصویر 2016 سے مختلف دعوے کے ساتھ شیئر کی جارہی ہے۔ جبکہ نیوزچیکر کی تحقیقات میں پتا چلا کہ انڈونیشیاء کے ایئرمیسو،بنگکا ٹینگہ میں نوجوان کنواری لڑکیوں،بچوں اور حاملہ خواتین کی قبر پر سورج ڈھلنے کے بعد اپنی ضروریات کی چیزیں لےکر جاتے ہیں ،پھر سورج نکلنے کے بعد وہاں سے گھر واپس آجاتے ہیں۔ بتا دوں کہ نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وائرل تصویر اصل میں ہے کس جگہ کی۔


Result:Misleading


Our Sources


Tweet:https://twitter.com/aa_dasuma/status/1187855666947461120

Metro:https://www.hmetro.com.my/node/191756

harian:https://harian106.rssing.com/chan-48267885/all_p151.html

bharian:https://www.bharian.com.my/berita/nasional/2016/12/227102/viral-kubur-bercahaya-mungkin-cahaya-dhuha-lensa-kamera-keluarga

TinEye:https://tineye.com/search/d208bd79bf0112ca9956df98538ce5f192f2661e?sort=score&order=desc&page=2

Tribiun:https://www.tribunnews.com/regional/2017/08/24/di-kampung-ini-para-remaja-begadang-jaga-makam-perawan-anak-anak-dan-ibu-hamil-ada-apa


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular