ہفتہ, جولائی 31, 2021
ہفتہ, جولائی 31, 2021
HomeFact Checksکیا واقعی تنزانیہ کے صدر جان موگوفلی کا قتل کردیا گیا ہے؟...

کیا واقعی تنزانیہ کے صدر جان موگوفلی کا قتل کردیا گیا ہے؟ وائرل دعوے کا پڑھیئے سچ

شیئر چیٹ پر ایک اخبار کی کٹنگ شیئر کی گئی ہے۔ جس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ تنزانیہ کے صدرجان موگوفلی کا قتل کیا گیا ہے۔ جسے میڈیا دل کا دروہ پڑنے سے ہوئی موت بتا رہی ہے۔ صدر موگوفلی نے کروناوائرس کی جانچ کو فرضی بتایا تھا۔

تنزانیہ کے صدر جان موگوفلی کے حوالے سے وائرل پوسٹ
تنزانیہ کے صدر جان موگوفلی کے حوالے سے وائرل پوسٹ کا ڈرائیو لنک۔

مہلک وباء کروناوائرس ایک بار پھر دنیا کے کئی ممالک میں اپنا قدم جما رہی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے بھارت کے مہاراشٹر، کیرلہ سمیت کئی ریاستوں میں لگاتار کرونا مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ پانچ مہینوں میں کووڈ-19 کے سب سے زیادہ معاملے آج سامنے آئے ہیں، چوبیس گھنٹے میں 62258 معاملے شمار کئے گئے ہیں۔ وہیں سوشل میڈیا پر ان دنوں تنزانیہ کے صدر جان موگوفلی کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ان کا قتل کردیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے کرونا کی جانچ کو فرضی بتایا تھا۔ یوزرس کے مطابق میڈیا ان کی موت کی وجہ حرکتِ قلب بند ہونا بتارہی ہے۔ جبکہ ان کا قتل کردیا گیا ہے۔

پون موریا کے فیس بک پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

شاہنہ پروین کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

ٹویٹر پر شیئر کیا گیا وائرل پوسٹ
فیس بک پر تنزانیہ کے صددر جان موگوفلی کے حوالے سے وائرل پوسٹ
فیس بک پر تنزانیہ کے صددر جان موگوفلی کے حوالے سے وائرل پوسٹ

کراؤڈ ٹینگل پر جب ہم نے وائرل دعوے کو سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ پچھلے تیس دنوں میں فیس بک پر اس موضوع پر اردو زبان میں 441 اور ہندی میں 838 افراد تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔ جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل ہے۔

کراؤڈ ٹینگل پر ملے فیس بک ڈیٹا کا اسکرین شارٹ
کراؤڈ ٹینگل پر ملے فیس بک ڈیٹا کا اسکرین شارٹ

Fact Check/Verification

تنزانیہ صدرجان موگوفلی کے حوالے سے وائرل دعوے کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اپنی ابتدائی تحقیقات شروع کی۔ سب سے پہلے ہم نے انگلش، اردو اور ہندی میں صدر جان موگوفلی کے حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔ لیکن ہمیں کہیں بھی صدرجان موگوفلی کے قتل کی خبر نہیں ملی۔

پھر ہم نے کچھ اور کیورڈ سرچ کیا۔ جہاں ہمیں ڈی ڈبلیو اردو اور ای ٹی وی بھارت پر شائع خبریں ملیں۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ تنزانیہ کی صدر سامعہ حسن نے کہا ہے کہ صدر جان موگوفلی کی موت دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ وہیں اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ جان موگوفلی کی موت کرونا وائرس کی وجہ سے ہوئی ہے۔ کسی بھی رپورٹ میں ہمیں قتل کی جانکاری نہیں ملی۔

سرچ کے دوران ہمیں پاکستانی معروف نیوز ویب سائٹ جیونیوز پر شائع 18 مارچ 2021 کی ایک خبر ملی۔ جس کے مطابق تنزانیہ کے صدر موگوفلی اکسٹھ برس کی عمر میں انتقال فرما گئے۔جان موگوفلی گذشتہ دو ہفتوں سے منظر عام سے غائب تھے اور ان کی صحت سے متعلق طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جارہی تھیں۔ تنزانیہ اپوزیشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ صدر جان کو کرونا ہوگیا ہے لیکن اس حوالے سے کسی قسم کی تصدیق نہیں ہوسکی۔بتادوں کہ صدر جان نے کروناوائرس کے علاج کولے کر عوام کو مشورہ دیا تھا کہ وہ دعاء اور اسٹیم تھیراپی کو عمل میں لائیں۔

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ تنزانیہ کے صدر جان موگوفلی کے قتل کی خبر گمراہ کن ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ان کی موت دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ کسی بھی میڈیا رپورٹ میں ہمیں صدر جان موگوفلی کے قتل کی خبر نہیں ملی۔ اس حوالے سے مزید جانکاری ملنے پر ہم آپ کو ضرور اپڈیٹ کریں گے۔


Result: Misleading


Our Sources


DW Urdu

Etv Bharat

Geo Urdu

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular