Authors
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کو چین کے مصنوعی سورج کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے، ویڈیو میں لوگ اسے اپنے موبائل کیمرے میں قید کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ صارف کا دعویٰ ہے کہ “یہ ویڈیو چین کے مصنوعی سورج کے کامیاب تجربے کا ہے، جہاں چینی سائنسدانوں نے فیوژن ری ایکٹر کے آزمائشی تجربے کے دوران 12 کروڑ ڈگری سینٹی گریڈ کا پلازما درجہ حرارت پیدا کرکے نیا عالمی ریکارڈ بنا لیا ہے”۔
مذکورہ دعوے کے ساتھ پاکستان کی معروف نیوز ویب سائٹ اے آر وائی نیوز اردو نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر بھی اس ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔ جس کا اسکرین شارٹ درج ذیل میں موجود ہے۔
فیس بک پر مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو کو کتنے صارفین نے پوسٹ کیا ہے، یہ جاننے کے لئے ہم نے کراؤڈ ٹینگل پر کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر پچھلے 3 دنوں میں 143 پوسٹ شیئر کئے گئے ہیں اور 30,349 فیس بک صارفین نے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ٹویٹر پر بھی اس ویڈیو کو چین کے مصنوعی سورج کا بتا کر صارفین نے شیئر کیا ہے۔
Fact Check/Verification
چین کے مصنوعی سورج کے نام پر وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے ویڈیو کو کیفریم میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک فریم کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں کچھ بھی اطمینان بخش نتائج نہیں ملے۔
کیورڈ سرچ کے دوران ہمیں ٹویٹر پر ایک پوسٹ ملا، جس میں وائرل ویڈیو سے ہوبہو ملتی جلتی ویڈیو کے ساتھ چینی زبان میں کچھ لکھا ہوا ملا، گوگل ٹرانسلیٹ کرنے پر پتا چلا کہ یہ ویڈیو راکٹ لانچ کی ہے۔
کیورڈ سرچ کے دوران ہمیں اسپیس ڈاٹ کام پر شائع 7 دن پہلے کی ایک خبر ملی۔ اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق چین کے مصنوعی سورج نے 17 منٹ سے بھی زائد وقت تک پلازما کے ایک لوپ کو سورج کی تپش سے بھی پانچ گنا زیادہ گرم کر نے کا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ایسٹ کے نیوکلیئر فیوزن ری ایکٹر نے 158 ملین فارینہائٹ کا درجہ حرارت تقریبا 1056 سیکینڈ تک قائم رکھا۔
چین نیوکلیئر فیوژن پاور کو تیار کرنے کے لیے اپنے مزید پروگراموں پر بھی عمل پیرا ہے – وہ اینرشیل کنفائنمینٹ فیوژن کے تجربات کر رہا ہے اور 2030 کی دہائی کے اوائل تک ایک نیا ٹوکامک مکمل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
دوسری جگہوں پر، پہلا قابل عمل فیوژن ری ایکٹر یونائیٹڈ اسٹیٹس میں 2025 تک ہی مکمل ہو سکتا ہے اور ایک برطانوی کمپنی کو امید ہے کہ 2030 تک فیوژن سے تجارتی طور پر بجلی پیدا کی جا سکے گی۔
ناسا اسپیس لائٹ ڈاٹ کام کے مطابق چین نے دو سیٹیلائٹ شیان-12-01 و شیان -12-02 کو وینچانگ اسپیس لانچ سینٹر سے لانچ کیا۔ ان سیٹیلائٹز کا مقصد مقامی ماحول کا پتہ لگانا و جانچ کرنا ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں اینڈریو جونس نامی آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر اس سے متعلق ایک ٹویٹ بھی ملا۔ جس میں جانکاری دی گئی ہے کہ سی اے ایس سی نے وینچانگ سے لونگ مارچ 7اے کے کامیاب لانچ کی تصدیق کی ہے ۔ جس میں شیان-12 (1 اور 2) موجود تھے۔
وہیں یوٹیوب سرچ کے دوران ہمیں سی جی ٹی این اور چائنیز فورسیز نامی یوٹیوب چینل پر چین کی جانب سے لانچ کئے گئے راکٹ کا ویڈیو ملا۔ چائنیز فورسیز پر وائرل ویڈیو کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی دادا پوتی کی تصویر کو امریکی ماڈل انا نیکول کی شادی کا بتا کر کیا جا رہا شیئر
Conclusion
نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ چین کے مصنوعی سورج کے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو راکٹ لانچنگ کا ہے۔ یہ ویڈیو مصنوعی سورج کے کامیاب تجربے کا نہیں ہے۔ حالانکہ چین مصنوعی سورج پر کام کر رہا ہے، لیکن اسے خلاء میں لانچ نہیں کیا جا ئے گا۔ اس طرح واضح ہوتا ہے کہ چین کے مصنوعی سورج کے کامیاب تجربے کے دعوے کے ساتھ وائرل ویڈیو گمراہ کن ہے۔
Result: Partly False
Our Sources
Twitter: https://twitter.com/turbo830130/status/1474054246186516480
Space.com:https://www.space.com/china-artificial-sun-fusion-reactor-five-times-hotter-than-the-sun
NasaSpaceFlight.com:https://www.nasaspaceflight.com/2021/12/experimental-sats-cz-7a/
CGTNYouTube:https://www.youtube.com/watch?v=4UI5-jb4d00
Chinese forces:https://www.youtube.com/watch?v=r8qR0zrMN6Y
نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔
9999499044
Authors
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.