جمعرات, دسمبر 1, 2022
جمعرات, دسمبر 1, 2022

HomeFact Checkکیا 12 سال بعد بھی صدام حسین کی لاش قبر سے پہلی...

کیا 12 سال بعد بھی صدام حسین کی لاش قبر سے پہلی جیسی نکلی؟

عراقی صدر مرحوم صدام حسین کی لاش کو 12 سال بعد قبر کو منتقل کرنے کےلیے جب میت نکلوائی تو صدام حسین کا چہرہ تر و تازہ دیکھنے کو ملا۔

Viral video Form Facebook

صدام حسین کی لاش کے حوالے سے وائر ل دعوے والا ویڈیو؟

محمد رضوان نامی یوزر نے فیس بک پر 2منٹ 19سکینڈ کے ایک ویڈیو کو شیئر کیاہےدعویٰ ہےکہ وائرل ویڈیو میں نظر آرہی لاش عراق کے سابق صدر صدام حسین کی ہے،جسے 12سال بعد قبر منتقل کرنے کےلیے نکالا گیا تو وہ تروتازہ تھی۔درج ذیل میں سبھی وائرل پوسٹ کے آرکائیو موجود ہیں۔

محمدرضوان کے پوسٹ کا آرکائیولنک۔

محمد سلمان کے پوسٹ کا آرکائیو لنک

یومیوبربل نامی یوزر کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

امید علی نامی یوزر نے بھی ویڈیو کو مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

چمن نیوز نامی فیس بک پیج اپلوڈ وائرل پوسٹ کے آرکائیو لنک۔

https://www.facebook.com/107467400607993/videos/641530206485930
Viral video

Fact Check/Verification

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی میت کے حوالے سے ہم نے وائرل ویڈیو کی تحقیقات شروع کی ۔سب سے پہلے ہم نے کچھ ٹولس کی مدد سے ویڈیو یوٹیوب پر تلاشنا شروع کیا۔اس دوران ہمیں اےپی آرکائیو(AP Archive) نامی نیوز چینل پر 23جولائی 2015 کا ایک ویڈیو ملا۔جس میں ہمیں وائرل ویڈیو کا اصل ورجن دیکھنے کو ملا۔اےپی آرکائیو کے مطابق ایک عراقی نیوز چینل نےاس ویڈیو کو صدام حسین کا بتا کرخبرشائع کی تھی ۔

1st Finding

وہیں سرچ کے دوران ہمیں العربیہ،ڈان نیوز اور نوائے وقت پر شائع 17،18 اور 19 اپریل 2018 کی خبریں ملیں۔جس کے مطابق صدام حسین کو 30 دسمبر 2006 کو پھانسی دی گئی تھی۔سبھی رپوٹ کے مطابق صدام حسین کے مقبرے کو شیعہ ملیشیأں پر مشتمل الحشدالشعبی نے ایک فضائی حملے میں مسمار کردیا تھا۔وہیں رپوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ صدام حسین کی بیٹی ہالا ایک نجی طیارے کے ذریعے تکریت سے اپنے والد کی لاش کو اردن لے گئی تھیں۔خلاصہ یہ کہ صدام حسین کی لاش اس وقت کہاں ہے کسی کو خبر نہیں۔العربیہ کے رپوٹ کے مطابق صدام حسین کے ہم شکل کو پھانسی دی گئی تھی اصل صدام ابھی زندہ ہے۔

Final Finding

Conclusion

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدام حسین کے حوالے سے کیا گیا یہ دعویٰ کہ 12سال بعد بھی ان کی لاش تر و تازہ ہے وہ سراسر فرضی ہے۔واضح رہے کہ وائرل ویڈیو کم از کم 12سال پرانہ ہے۔

Result:FABRICATED

Our Sources

APArchive:https://www.youtube.com/watch?v=ODl-4-W6ehc&has_verified=1

Al-Arabiya:https://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2018/04/16/%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D9%82-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%A8%D9%82-%D9%85%D8%B1%D8%AF-%D8%A2%DB%81%D9%86-%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D9%85-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D9%84%D8%A7%D8%B4-%D9%BE%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%DB%92-12-%D8%B3%D8%A7%D9%84-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA-%DB%81%DB%92%D8%9F.html

Daw:https://www.dawnnews.tv/news/1077122

Nawaiwaqt:https://www.nawaiwaqt.com.pk/19-Apr-2018/807889

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular