پیر, مئی 23, 2022
پیر, مئی 23, 2022

HomeFact Checkنعرے لگانے والی مسکان خان کے ساتھ کھڑے شخص ان کے والد...

نعرے لگانے والی مسکان خان کے ساتھ کھڑے شخص ان کے والد نہیں ہے،گمراہ دعوے کے ساتھ تصویر وائرل

نعرے لگانے والی مسکان خان کرناٹک سمیت دنیا بھر میں سرخیاں بٹور رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں بی-کام سیکنڈ ایئر کی طالبہ مسکان کو اپنے ہی کالج میں حجاب پہن کر آنے پر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مسکان کے سامنے متعدد طلباء زعفرانی شالیں پہن کر ان کی طرف بڑھنے لگے اور جے شری رام کے نعرے لگانے لگے، جس کے جواب میں مسکان نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا۔ جس کے بعد مسکان کے اس ویڈیو کو دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین نے شیئر کیا، اس واقعے کے بعد مسکان اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کا دور بھی جاری ہے۔

اس بیچ نعرے لگانے والی مسکان خان کی تصویر کے ساتھ ایک شخص کی تصویر بہت وائرل ہو رہی ہے۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ تصویر کرناٹک کی شیرنی مسکان خان اپنے والد کے ساتھ کھڑی ہیں، کچھ صارفین اس شخص کو دادا کے ساتھ کھڑی مسکان کی تصویر بتاکر بھی شیئر کر رہے ہیں۔

نعرے لگانے والی مسکان خان کے ساتھ کھڑے شخص ان کے والد نہیں ہے
Courtesy:twitter @IManzormengal

پاکستان اردو نیوز نامی پیج پر اس تصویر کو شیئر کرکے کیپشن میں لکھا ہے کہ “امت مسلمہ کی بہادر بیٹی مُسکان اپنے دادا کے ساتھ اللہ پاک پورے خاندان کی حفاظت فرمائے آمین”۔

Courtesy:FB/PakistanUrduNewsCom

فیس بک اور ٹویٹر پر مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی تصویر کو کتنے صارفین نے پوسٹ کیا ہے، یہ جاننے کے لئے ہم نے کراؤڈ ٹینگل پر کیورڈ سرچ کیا تو ہمیں پتا چلا کہ اس موضوع پر محض 24 گھنٹوں میں 201 پوسٹ شیئر کئے گئے ہیں اور 81,360 فیس بک صارفین نے اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ جبکہ ٹویٹر پر بھی کئی صارفین نے اس ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔

وائرل پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔

Fact Check/Verification

نعرے لگانے والی مسکان خان کے ساتھ کھڑے شخص کی وائرل تصویر کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے سب سے پہلے تصویر کو گوگل ریورس امیج سرچ کیا۔ لیکن کچھ بھی اطمینان بخش نتائج نہیں ملے۔ ہم نے ریورس امیج سرچ کے ساتھ “مسکان کے اہل خانہ سے ملاقات” کیورڈ سرچ کیا۔ اس دوران ہمیں جمعیۃ علماء ہند کے آفیشل فیس بک پر شیئر شدہ ایک پوسٹ ملی۔ جس میں جمعیت کے وفد کے ساتھ مسکان خان کی اور نیلا شرٹ و کالا پینٹ پہنے ایک شخص کی تصویر ملی۔

مذکورہ پوسٹ میں دی گئی جانکاری کے مطابق جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے جو پانچ لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا گیا تھا، جسے دینے حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیۃ علماء ہند کے حکم پر ایک مؤقر وفد اعلان کردہ پانچ لاکھ کی رقم بروز بدھ بتاریخ 2022 /02 / 09 کو بی کام سیکنڈ ائیر کی طالبہ بی بی مسکان خان بنت جناب حسین خان کو دی گئی تھی”۔ اب یہاں ہمیں ایک اشارہ ملا کہ نیلی شرٹ و کالی پینٹ میں جو شخص نظر آرہے ہیں وہی مسکان کے والد ہیں، جن کی شکل وائرل تصویر میں نظر آرہے شخص سے مختلف تھی۔

پھر ہم نے کچھ کیورڈ کی مدد سے یوٹیوب پر سرچ کیا۔ جہاں ہمیں اے ایس نیوز نٹورک نامی یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو ملا۔ جس میں نعرے لگانے والی مسکان خان کے ساتھ نظر آرہے داڑھی والے شخص بھی دکھے۔ ویڈیو میں وائرل تصویر والے شخص لڑکی کی کو گلے لگاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ “یہ ہے منڈیا کی شیرنی بیٹی مسکان اور کالا ہوڈی پہنے شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ یہ مسکان کے والد ہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ وائرل تصویر میں مسکان کے سر پر ہاتھ رکھے نظر آ رہے شخص مسکان کے والد نہیں ہیں، بلکہ انہیں خراج تحسین پیش کرنے آئے ایک عام شخص ہیں۔

Video of AS news network

افسر میسوری نامی یوٹیوب چینل پر مسکان اور ان کے والد کا انٹرویو ملا۔ جسے دیکھنے کے بعد پتا چلا کہ وائرل تصویر میں نظر آرہے شخص بی بی مسکان خان کے والد حسین خان نہیں ہیؒں، بلکہ کوئی ملاقاتی شخص ہے، جسے کچھ لوگ نعرے لگانے والی مسکان خان کے والد اور کچھ دادا بتاکر شیئر کر رہے ہیں۔

Video of Afsar urdu news

اس کے علاوہ ہمیں کیورڈ سرچ کے دوران شارٹس ویڈیوز بریکنگ نیوز نامی یوٹیوب چینل پر بھی ایک ویڈیو ملی۔ جس میں مسکان کے ساتھ تصویر میں نظر آرہے شخص کو حیدرآباد سے ملنے آئے جیلانی بھائی بتایا گیا ہے۔ وہیں کئی میڈیا رپورٹس بھی ملیں، جن میں مسکان کے والد کی شکل وائرل تصویر میں نظر آ رہے شخص سے بالکل مختلف ۔

یہ بھی پڑھیں: حجاب پوش خواتین پر پانی پھینکے کا یہ ویڈیو بھارت کا نہیں ہے

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ وائرل تصویر میں نعرے لگانے والی مسکان خان کے ساتھ نظر آرہے شخص مسکان کے والد یا دادا نہیں ہیں بلکہ ایک ملاقاتی ہیں، ایک ویڈیو میں جن کا نام جیلانی بتایا گیا ہے، جنہیں اب مسکان کے دادا اور والد بتاکر صارفین شیئر کر رہے ہیں۔


Result:False Connection/ partly false

Our Sources

Facebook:https://www.facebook.com/jamiat.org.in/photos/pcb.1377592576032699/1377589129366377/

YouTube:tps://youtu.be/ilWRPRIV-pU

YouTube:https://youtu.be/W37eYzB0q6s

TimesofIndia:https://timesofindia.indiatimes.com/videos/toi-original/meet-muskan-khan-karnatakas-hijab-wearing-girl-whose-video-is-going-


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular