منگل, مئی 17, 2022
منگل, مئی 17, 2022

HomeFact Checkپاکستان میں ہندو خاتون کو اغوا کرنے کے بعد قتل کا بتاکر...

پاکستان میں ہندو خاتون کو اغوا کرنے کے بعد قتل کا بتاکر شیئر کیا گیا ویڈیو گمراہ کن

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ,پاکستان کے سندھ کے عمرکوٹ میں ہندو خاتون کو اغوا کر نے کے بعد قتل کردیا گیا’۔ حنا خاتون نامی صارف نے ٹویٹر پر وائرل ویڈیو کو اردو کیپشن کے ساتھ شیئر کیا ہے اور لکھا ہے کہ “پاکستان کا ہندو سماج کے تئیں مکروہ چہرہ ایک بار پھر منظر عام پر آگیا ہے جہاں صوبہ سندھ کے علاقے عمرکوٹ میں ہندو خاتون کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا”۔

پاکستان میں ہندو خاتون کو اغوا کرنے بعد قتل کا دعویٰ گمراہ کن ہے

اس کے علاوہ فیس بک اور ٹویٹر پر دیگر صارفین نے بھی ویڈیو کے ساتھ ہندو خاتون کو اغوا کرنے بعد قتل کرنے کا بتاکر شیئر کیا ہے۔

مذکورہ ویڈیو کو بھارتی جنتا پارٹی کے لیڈر منجیندر سنگھ سرسا نے بھی 21 دسمبر کو ٹویٹ کیا تھا۔ اس ویڈیو کے ساتھ سرسا نے لکھا تھا کہ “پاکستان کے سندھ کے عمرکوٹ میں ایک ہندو خاتون کو سرعام کورٹ کے باہر اغوا کر لیا گیا،منجیندر کے اس ٹویٹ کو ہمارے آرٹیکل لکھنے تک 400 سے زائد بار ری ٹیوٹ کیا جا چکا تھا”۔

اس ویڈیو کو ہندوستان ٹائمس، ری پبلک ٹی وی اور ٹائمس ناؤ نے اپنی خبر میں دکھایا ہے۔

ہندوستان ٹائمس نے اپنی رپورٹ میں اس ویڈیو کو منجیندر سنگھ سرسا کا حوالہ دے کر اپنی خبر میں شائع کیا ہے، جہاں انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستان میں اقلیتی پر ظلم و ستم ہو رہا ہے۔

وہیں ری پبلک ٹی وی نے بھی اس ویڈیو کو منجیندر سنگھ سرسا کا حوالہ دے کر رپورٹ کیا ہے، اس دوران چینل نے منجیندر سنگھ سے فون پر بات کی، جہاں انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے سندھ میں 19 سال کی شادی شدہ خاتون کو دن دہاڑے اغوا کر کے اس کے ساتھ پہلے عصمت ریزی کی گئی اور بعد میں مذہب تبدیل کروا کر دوسرے آدمی سے اس کا نکاح کر دیا گیا۔ سرسا نے بتایا کہ پاکستان میں اس طرح کا واقعہ عام ہے۔

Fact Check/ Verification

پاکستان میں ہندو خاتون کو اغوا کرنے بعد قتل کا بتا کر شیئر کی گئی ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے اس ویڈیو کو گوگل پر کیورڈ کی مدد سے تلاشنے کی کوشش کی۔ اس دوران ہمیں وائرل ویڈیو سے متعلق پاکستان کی معروف نیوز ویب سائٹ ڈون نیوز اور جیو اردو پر شائع 21 دسمبر 2021 کی خبریں ملیں۔ جس کے مطابق پاکستان کے عمرکوٹ میں 20 سال کی ایک خاتون تجحان پر اس کے شوہر (ہرچند بھیل) اور کچھ دوسرے لوگوں نے سول کورٹ کے باہر حملہ کر دیا۔ خاتون نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق لینا چاہتی ہے اس لئے کورٹ گئی تھی۔

دی پاکستان ڈیلی نے بھی اس خبر کو شائع کیا ہےجہاں انہوں نے وائرل ویڈیو کے ایک اسکرین شارٹ کو بھی لگایا ہے۔

پاکستان میں ہندو خاتون کو اغوا کرنے کا نہیں ہے ویڈیو

نیوز چیکر سے بات چیت میں ڈون اور دی پاکستان ڈیلی کے لئے یہ خبر لکھنے والے صحافی اللہ بخش عریسر نے بتایا کہ یہ معاملہ اغوا کا نہیں بلکہ گھریلو تشدد کا تھا۔ یہ خاتون کورٹ سے لوٹ رہی تھی, تبھی خاتون کے شوہر کو لگا کہ وہ زبردستی اسے گھر لے جا کر طلاق کی عرضی خارج کرنے کے لئے منا لے گا۔ یہ پورا واقعہ کیمرے میں قید ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ اس معاملے میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور خاتون کے شوہر و دیگر 6 لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مذکورہ تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ پاکستان میں ہندو خاتون کو اغوا کرنے کے بعد قتل کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ عمر کوٹ جسے پہلے امرکوٹ کے نام سے جانا جاتا تھا ایک ہندو اکثریتی علاقہ رہا ہے۔ حالانکہ بیتے کچھ وقت سے لوگ اس جگہ کو چھوڑ رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے الگ ہونے کے بعد عمرکوٹ میں تقریبا 80 فیصد ہندو تھے۔

Conclusion

ہندو خاتون کو اغوا کرنے کے بعد قتل والے دعوے کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو گمراہ کن ہے۔ گھریلو تشدد کے ویڈیو کو پاکستان میں ہندؤں پر ظلم سے جوڑ کر شیئر کیا گیا ہے۔ جس خاتون کو ویڈیو میں کچھ لوگ گھسیٹ رہے ہیں، وہ اپنے شوہر سے طلاق لینے کے لئے کورٹ پہنچی تھی۔ خاتون کو زبردستی لے جانے والے لوگوں میں اس کا شوہر بھی شامل تھا۔ یہ دونوں ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔


Result: Misleading

Our Source

Dawn: https://www.dawn.com/news/1664952

The Pakistan Daily: https://thepakistandaily.com/married-woman-faces-humiliation-for-approaching-the-court/

GeoNews: https://urdu.geo.tv/latest/272570-

Local Reporter: Allah Bux Arisar’


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular