بدھ, دسمبر 7, 2022
بدھ, دسمبر 7, 2022

HomeFact Checkکیا سچ میں کینیا کے صدر نے اسلام قبول کرلیا؟وائرل دعوے کا...

کیا سچ میں کینیا کے صدر نے اسلام قبول کرلیا؟وائرل دعوے کا پڑھیئے ہماری تحقیق

دعویٰ

مسلمانوں کے لئے خوشخبری آج کینیا کے صدر نے بحرین میں اسلام قبول کر لیا۔اللہ اکبر اللہ اکبر سبحان اللہ۔اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیجیئے۔

تصدیق

ان دنوں سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر چھیالیس سیکینڈ کا ایک ویڈیو خوب گردش کررہا ہے۔جس میں ایک شخص دوسرے شخص سے گلا مل رہا ہے اور پیچھےدیوار پر “رحمۃ،اسلام” لکھا ہوا ہے۔دعویٰ کیاجارہا ہے گلا ملنے والا شخص کینیا کے صدر ہیں اور وہ بحرین میں اسلام قبول کرلیا ہے۔اس ویڈیو کو فیس بک پر صیف الملوک خان نے چھبیس جون دوہزاربیس کو شیئر کیا تھا۔اس کے علاوہ دیگر یوزرس نے بھی وائرل ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔درج ذیل میں سبھی کے آرکائیو موجود ہیں۔

نورانی بیانات نامی یوٹیوب چینل پر ایک جولائی کو مذکورہ دعوے والے ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔آرکائیو لنک یہاں دیکھیں۔

عبدالمجید نے بھی اس ویڈیو کو آج یعنی دوجولائی کو شیئر کیا ہے۔جس کا آرکائیو یہاں دیکھیں۔

صیف الملوک خان کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

محمد شافعی مری کے پوسٹ کا آرکائیو لنک۔

بے مثال اپڈیپ نامی پیچ نے بھی اس ویڈیو کو شیئر کیا ہے۔آرکائیو اور ایمبید درج ذیل ہے۔

https://www.facebook.com/102004484796940/videos/301759441009888

ہماری پڑتال

وائرل ویڈیو کو پڑھنے کے بعد ہم نے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کچھ کیفریم نکالا اور اسے ریورس امیج سرچ کیا۔اس دوران ہمیں ہمیں اسکرین پر وائرل ویڈیو سے متعلق فیس بک ،انسٹاگرام ،ٹویٹر اور یوٹیوب کے لنک فراہم ہوئے۔جسے کلک کرنے کے بعد پتاچلا کہ وائرل ویڈیو تین سال پہلے بھی مذکورہ دعوے کے ساتھ شیئر کیاجا چکا ہے۔اس کے علاہ الحریۃ،ڈیلی موشن اور نیوز سین ۳۶۰ نامی ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو مختلف دعوے کے ساتھ ملا۔جسے دوہزارسترہ میں شائع کیا گیا ہے۔

https://www.instagram.com/p/BRAYzwrhAjT/

مذکورہ سبھی طرح کی جانکاری سے واضح ہوچکا کہ وائرل ویڈیو تقریباً تین سال پرانہ ہے۔اس کے باوجود ہمیں تسلی نہیں ملی تو ہم نے مزید کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں باغی ٹی وی نامی اردو نیوز ویب سائٹ پر تئیس اپریل دوہزاربیس کی ایک خبر ملی۔جس میں کینیائی صدر اور اسلام قبول کرنے کے حوالے سے ایک خبر ملی۔جس کے مطابق عوامی مہم کے دوران کینیا کے صدر اہورو میگیائی کینیاٹا نے لوگوں میں موجود ایک مسلمان بچے کو گود میں اٹھایا اور کہا کہ مجھ سے تمہاری کوئی فرمائش ؟

بچے نے صدر کو جواب میں کہا کہ آپ اسلا م قبول کر لیں بچے کی اس بات پر کینیا کے صدر نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ کیوں اسلام قبول کروں جس پر بچے نے کہا اسلام قبول کر کے آپ مسلمان ہو جائیں گے اور اچھے آدمی بن جائیں گے۔البتہ باغی ٹی وی کی خبر میں وائرل ویڈیو نہیں بلکہ دوسرا ویڈیو کے حوالے سے خبر ہے۔


باغی ٹی وی کی خبر سے واضح ہوچکا کہ کینیا کے صدر اسلام قبول نہیں کیا ہے۔بلکہ ان سے ایک معصوم بچے نے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔اس کے باوجود ہمیں اطمینان نہیں ہوا تو ہم نے یوٹیوب پر اس حوالے سے کچھ کیورڈ سرچ کیا۔اس دوران ہمیں باغی ٹی وی میں جس ویڈیو کے حوالے سے خبر شائع کی گئی ہے۔وہی ویڈیو یوٹیوب پر کیپٹل ایف ایم کینیا اور کےٹی این نیوز ویب سائٹ پر ملا۔جس کے مطابق مسلم خاندان کے ایک چھ سال کے بچے کے ساتھ کینیاکے صدر نے اپنے گھر پر ہنسی مذاق کیا۔کہیں بھی اسلام کی دعوت یا اس بحرین میں کینیائی صدر کے اسلام قبول کرنے کی بات نہیں لکھی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ یہ ویڈیو بھی اکتوبر دوہزارسترہ کا ہے۔

مذکورہ جانکاری سے بھی واضح نہیں ہوسکا کہ وائرل ویڈیو میں نظر آرہا شخص کون ہے اور اس تعلق کہاں سے ہے؟ان سبھی کے باوجود ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کینیا کے صدراہورو میگیائی کینیاٹا کا مذہب کیا ہے۔گوگل سرچ کے دوران ہمیں انکلوپیڈیابرٹینکا نامی ویب سائٹ پر صدراہورو میگیائی کا بایوگرافی ملا۔لیکن اس میں بھی کہیں یہ ذکر نہیں کیا گیا ہے کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔البتہ قیسٹیا نامی ویب سائٹ پر ایک چھوٹی سی خبر ملی۔جس کے مطابق کینیا کے صدر کیتھلک مذہب میں پیدا ہوئے ہیں۔وہیں انٹرنیشنل جرنل آف بزنیس اینڈ سوشل سائںس کے ویب سائٹ پر ایک پی ڈی ایف ملا۔جس کے مطابق وہ صرف خدا کو مانتے ہیں۔مذہب پر ان کا کوئی عقیدہ نہیں ہے۔یہ پی ڈی ایف سات جولائی دوہزار انیس کی ہے۔

نیوزچیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو تقریباً تین سال پرانہ ہے۔تحقیقات میں یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ ویڈیو میں نظر آرہا شخص کو ن ہے اور کینیا کے صدراہورو میگیائی کینیاٹا کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

ٹولس کا استعمال

انوڈ سرچ

گوگل ریورس امیج سرچ

یوٹیوب سرچ

فیس بک/ٹویٹرایڈوانس سرچ

غیرملکی میڈیا رپورٹ

نتائج/فرضی دعویٰ،گمراہ کن

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

 9999499044

Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.
Mohammed Zakariya
Mohammed Zakariya
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his post-graduation in Mass Communication & Journalism from Lucknow University.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular