جمعرات, دسمبر 2, 2021
جمعرات, دسمبر 2, 2021
HomeFact Checkلو جہاد کے نام پر گمراہ کن ویڈیو وائرل

لو جہاد کے نام پر گمراہ کن ویڈیو وائرل

فیس بک پر ہندہ اور گجراتی کیپشن کے ساتھ ایک ویڈیو لو جہاد کا بتاکر شیئر کیا جا رہا ہے۔ جس میں کچھ لوگ ایک شخص کو لات گھوسوں سے مار پیٹ رہے ہیں۔ صارفین نے اس ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے کہ یہ لڑکا پریم جال میں پھنسی ہندو لڑکی کا گلا کاٹنے کی سازش کر رہا تھا۔ لیکن موقع پر ہندؤں نے بچا لیا۔

لو جہاد کے نام پر وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ
لو جہاد کے نام پر وائرل پوسٹ کا اسکرین شارٹ

گذشتہ دنوں اترپردیش، مدھیہ پردیش اور گجرات میں لو جہاد قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔ گجرات فریڈم آف ریلیجن ایکٹ، 2003 کو ترمیم کرکے نیا قانون بنایا جائے گا۔ تاہم اس کے باوجود اس طرح کے واقعات گاہے بگاہے پیش آتے رہتے ہیں ۔ چونکہ اس طرح کے گمراہ کن دعوے مذہب سے منسلک ہے، اس لئے اسے وائرل ہونے میں دیر نہیں لگتی اور یہ فرقہ وارانہ فساد کا سبب بنتے ہیں، بعض اوقات یہ معاملہ ہجومی تشدد کا بھی سبب بنتا ہے۔

لو جہاد کے نام پر اس ویڈیو کو فیس بک پر شیئر کیا گیا ہے۔جس کا اسکرین شارٹ آپ درج ذیل میں دیکھ سکتے ہیں۔

Fact Check/ Verification

وائرل ویڈیو کی سچائی جاننے کے لئے ہم نے ویڈیو کو انوڈ کی مدد سے کیفریم میں تقسیم کیا اور ان میں سے کچھ فریم کو ریورس امیج سرچ کیا۔ جہاں ہمیں نیوز18 پر 16 ستمبر 2019 کو شائع شدہ ایک خبر ملی۔ جس کے مطابق مذکورہ وائرل ویڈیو رانچی کے پٹھوریا علاقے کا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک عاشق اپنی محبوبہ کو سیر و تفریح کے لئے لے گیا تھا۔ وہیں اس نے شک کی بنا پر اپنی محبوبہ پر جان لیوا حملہ کر دیا۔ بتادوں کہ اس رپورٹ میں جس لڑکے کو پیٹا جا رہا ہے اس کا نام اروند بتایا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ یہ معاملہ لو جہاد کا نہیں ہے۔

کیا ہے لو جہاد کے نام پر وائرل ویڈیو کی سچائی؟

مزید سرچ کے دوران ایشین نیوز،ای ٹی وی بھارت اور جھارکھنڈ میرر پر وائرل ویڈیو ملا۔ سبھی رپورٹ کے مطابق ملزم نوجوان ہندو ہے۔ لڑکی شادی سے انکار کر رہی تھی جس کی وجہ سے اس کے عاشق اروند کو لڑکی پر شک ہوا۔ اسی بنا پر اپنی محبوبہ پر اروند نے تیز دھار ہتھیار سے حملہ کر دیا تھا۔ متاثرہ نوجوان کے خلاف شکایت بھی درج کروا چکی ہے۔

Conclusion

نیوز چیکر کی تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل ویڈیو پرانا ہے اور اس ویڈیو کا لو جہاد سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ دراصل یہ معاملہ رانچی کا ہے اور دونوں ہی کا تعلق ہندو مذہب سے ہے۔

Result: Misplaced Context

Our Source

ન્યૂઝ 18
asianetnews,
etvbharat
Jharkhand Mirror


نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔

9999499044

Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow
Mohammed Zakariyahttps://newschecker.in/ur
Zakariya has an experience of working for Magazines, Newspapers and News Portals. Before joining Newschecker, he was working with Network18’s Urdu channel. Zakariya completed his Master in Mass communication and Journalism from Lucknow University.Lucknow

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular